اکثر ترقی یافتہ اور مہذب قوموں کی تاریخ اگر دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ قومیں اپنے مسائل کے بارے میں شعوری طور پر آگاہ ہوتے ہیں اور ان میں اپنے مسائل سے نمٹنے کی اہلیت اور استعداد ہوتی ہے۔ جو معاشرہ انصاف پر مبنی نہیں ہوتا وہ معاشرہ ہمیشہ بگاڑکا شکار ہوتا ہے کیونکہ تمام مسائل کی جڑ نا انصافی ہوتی ہے بحیثیت مسلمان اگر ہم دیکھیں تو ہمارے دین اسلام کی بنیاد انصاف پر مبنی ہے۔ اسلام کا ہر ضابطہ اور حکم انصاف کا درس دیتا ہے ۔ اگر ہم اپنی تہذیب اور ثقافت پر نظر دوڑائیں تو ہر قدم پر انصاف کا بول بولا ملتا ہے مگر بد قسمتی سے ہم اپنے عظیم دین اور میٹھی تہذیب کو اپنی ذاتی انا اور مفادات کیلئے غلط طریقے سے موڑرہے ہیں ۔ جس سے نا انصافی ٹپک رہی ہوتی ہے اور ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنے دین اور تہذیب کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔
آج کال پوری دنیا میں خواتین پر تشدد کے خلاف 16دنوں کی مہم جاری ہے جو کہ 25نومبر سے 10دسمبر تک ہوتی ہے۔ اس مہم کا مقصد مقامی سطح پر خواتین پر تشدد کے خلاف کام کو مضبوط بنانا، عورتوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے مطالبات کو متعلقہ محکموں اور حکومت وقت پہنچانا اور حکومت وقت پر دباؤ بڑھنا ہے کہ وہ خواتین پر تشدد کے خلاف فوری اور موثر قانان سازی کرے۔
عورتوں کے ساتھ نا انصافیوں کی بات کی جائے تو ان کو شمار کرتے کرتے قلم اور سیاہی ساتھ دینا چھوڑ دے ۔ صنفی یا گھریلوں تشدد ہو یا کم عمری کی شادی، غیرت کے نام پر قتل ہو یا اقدام قتل ، چھوٹے چھوٹے گھریلو تنازعات پر عورتوں کے کان، ناک، بال کاٹنے کا قبیح جرم ہو یا معصوم خواتین کو ہراساں کرنا ہو۔ صنف نازک کے چہرے پر تیزاب چڑکنا ہو یا ان کو خودکشی پر مجبور کرنے کے اقدامات ہو، حق مہر یا وراثت سے محرومی ہو یا تعلیم اور دوسری سہولیات تک رسائی نہ دینا ہو، اور تو اور دوسروں کے جرم کی خاطر بے گناہ اور معصوم خواتین اور بچیوں کو سوارہ جیسی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ ان نا انصافیوں کی لمبی فہرست موجود ہے لیکن شعوری طور پر ہم میں ان نا انصافیوں کو سمجھنے کی اہلیت نہیں ہے اور یا ہم ان نا انصافیوں اور ظلم کے خلاف بولنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ جبکہ ہم ترقی یافتہ ، مہذب اور باشعور قوم ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خواتین کو حقوق دئے بغیر ہم کھبی ترقی نہیں کر سکتے۔ ملک کی تقریباً نصف آبادی کا انحصار خواتین پر ہے اور اگر کسی ملک کی نصف آبادی کے ساتھ اتنی نا انصافیاں اور ظلم ہو رہے ہوں تو وہ ملک اور قوم کیسے ترقی کر سکتا ہے ۔ بلکہ وہ ترقی کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین پر تشدد کے خلاف آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ خواتین کے حقوق کے متعلق آگاہی کے بغیر خواتین پر تشدد کو روکنا ممکن نہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ضرورت امر کی ہے کہ خواتین پر تشدد کے خلاف فوری اور موثر قانون سازی کی جائے اورپہلے سے موجود قوانین میں خواتین کی فلاح، بہتری اور تحفظ کی خاطرضروری ترامیم کی جائیں اور ایسے عملی اقدعامات کیے جائیں جس سے ان قوانین کا صحیح نفاد ممکن اور یقینی ہو۔
میرے خیال میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے ساتھ یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرے اور خواتین پر تشدد کے خلاف فوری اور موثر قانون سازی کرکے حقیقی تبدیلی کا ثبوت دیں اور محروم طبقات کی محرومیوں کا ازالہ کرکے ان کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کریں۔ جو کہ یقیناًہمارے ملک اور قوم کے لئے ترقی کا ضامن ہوگا اور ہمارے لئے ترقی کی راہ پر چلنے میں مددگار ثابت ہوگا اور تب ہم صحیح معنوں میں تبدیلی کے دعویدار ہوں گے۔
650 total views, no views today


