اسلام آباد: دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے امریکی سینیٹ پر زوردیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے ملکی ادارے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی روکنے کے لئے انسانی حقوق کو پامال نہ کریں۔دفتر خارجہ میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران تسنیم کا کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں امن واستحکام اور ترقی کے لئے ناگزیر ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر کے بنیادی مسئلے سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پائیدار، غیرمشروط اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لئے پرعزم ہے اور اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے
کہ اس کا حتمی حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہئیے جس کا تعین اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کیا جائے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لئے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں گے، اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی گئی قراردادیں اب بھی قابل عمل اور موثر ہیں کیونکہ بھارت نے ان قراردادوں کو منظور کیا تھا۔
تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی ملالہ یوسف زئی پر فخر ہے اور اس کا اظہار ہر فورم پر کیا جارہا ہے، جہاں تک ان کی زندگی کو لاحق خطرات کا تعلق ہے اس کی وجہ گزشتہ 30 برسوں سے ہمارے خطے کے حالات ہیں جن کے باعث بدقسمتی سے ہمیں کچھ خطرات کا سامنا ہے تاہم پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں اورہم ان خطرات کا مقابلہ کرکے جلد اس پر قابو پا لیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام کی واحد ضمانت یہ ہے کہ ایک آزاد اور فعال فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو جب کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی کابینہ کے وزیر کی ہلاکت ایسا ظالمانہ اقدام ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، فلسطینی عوام کے قتل کا سلسلہ بند کیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کی جانب سے قیدیوں کو منظم طریقے سے تشدد کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں، امریکی سینیٹ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے ملکی ادارے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کو روکنے کے لئے انسانی حقوق کو پامال نہ کریں۔
467 total views, no views today


