سوات میں انتظامیہ سوات کے عوامی فیصلے کر نے لگے۔اب تک حالات کو قابو نہیں کیا گیا ۔جبکہ سوات کے عوام کے فیصلے کر نے لگے۔ کیاڈویژنل انتظامیہ ملاکنڈ ڈویژن نے عوام کا اختیار لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ کیا عوام نے انتظامیہ کو اپنے فیصلے کا اختیار دی ہے۔ یا انتظامیہ میں موجود افسران کا تعلق سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن سے ہے۔ کس سے انتظامیہ نے اجازت لی ہے کس نے دی ہے اختیار انتظامیہ کو۔ عوام نے اختیار دیا ہے۔ تو پھر ٹھیک ہے اگر نہیں تو سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن صرف یہاں کے عوام کا ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں انتظامیہ کو اختیار صرف ان کے اختیارات کی حد تک ہے ۔ لیکن عوامی فیصلہ کر نے کا حق نہیں۔ انتظامیہ کو چاہئیں کے اپنے حدوود میں رہتے ہوئے کام کریں ۔اور سواتی عوام کے باپ بننے کے بجائے اپنے ڈیوٹیا ں احسن طریقے سے سر انجام دیں۔ عوامی فیصلوں میں مداخلت نہ کریں۔ بہت افسوس ہے۔سوات میں جو کچھ ہوا ہے ۔وہ سب کو معلوم ہے۔ سوات یہاں کے عوام کا گھر ہے۔ اس گھر میں سوات کے عوام کو رہنا ہے اور مر نا بھی ہے۔ سوات میں ملاکنڈ ڈویژن کے انتظامیہ کے جانب سے سوات گرینڈ قومی جرگہ بلایا گیا۔ اور نا م دیا(جرگہ برائے امن وترقی) اس جرگے میں سوات کے مشران کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ بلکہ اس جر گے کو اگر سوات گرینڈ قومی جرگہ نہیں بلکہ سوات میں سرکار کا سرکاری جرگہ ،کہا جائے تو بہتر ہوگا۔جو ودودیہ ہال سیدو شریف میں منعقد ہوا۔ کیونکہ ودودیہ ہال سیدو شریف میں منعقد ہونے والے جرگے میں سوات سمیت ڈویژن بھر کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے مشران کے تعداد نہ ہونے برابر تھی۔ بلکہ جرگے میں سرکاری محکموں کے تمام افسرز،اہلکاروں سمیت امن کمیٹیوں کے ممبران ، انتظامیہ سے مجبور چند سیاسی افراد صوبائی حکومت کے سات ایم پی ایز میں سے دو ایم پی ایز ڈاکٹر حیدر علی خان،ایم پی اے فضل حکیم خان،قوم پرست رہنماء افضل خان لالا ،ڈی آئی جی عبداللہ خان،ڈی سی محمود اسلم وزیر ،کمشنر ملاکنڈ ڈویژن آفسر خان سمیت دیگر نے شرکت کی۔سرکار کے سرکاری جرگہ میں سوات کے مشر ایک مشر موجود تھے ۔جس کو صرف ہم نہیں بلکہ پورے پاکستانی عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اگر انتظامیہ کو یاد نہ ہوں ۔تو یاد دلاتا ہوں۔ آپ کے لئے جر گے میں مذکورہ مشر کے یہ الفاظ بھی کافی ہونگے ۔اگر اس پر غور کیا جائے۔تو شائد سب کو سمجھ آجائیگی۔ اس جرگہ میں مشر او ر قام پرست رہنماء افضل خان (خان لالا) نے اشارہ دیا کہ پہلے تو انتظامیہ کی یہ حالت ہے کہ ہال میں نہ لائٹ کا صحیح انتظام ہے اور نہ کسی کو سپیکر کے ذریعے میری آواز صحیح طریقے سے سنائی دیتی ہے۔یہ حال ہے انتظامیہ کا۔ افضل خان لالا نے یہ بھی کہا کہ اس طرح سوات میں پہلے بھی جر گوں کے نام پر کئی تنظیمیں بنائی گئی۔لیکن شام تک نہ رہ سکے۔ایسا نہ ہوں کہ یہ بھی ماضی کے طرح شام تک نہ رہ سکے۔اور یہ بات بھی کی کہ سوات میں ہر کوئی باپ ہے۔ اور جو آتا ہے باپ بننے کی کوشش کر تا ہے۔سوات میں کوئی بچہ نہیں بننا چاہتا۔بس جو بھی آتا ہے باپ بنتا ہے۔اگر یاد ہوں ۔انہوں نے یہ بھی کہا۔بد قسمتی سے ملک کے اداروں نے پاکستان آزاد ہونے اور66 سال مکمل ہونے میں قوم کو اپنا نہیں بنایا۔اور نہ قوم نے اداروں کو اپنا بنایا۔یہی وجہ ہے کہ ادارے خود بخود کمزور سے کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک آرمی کے جوان اس ملک کے بچے ہیں۔اگر سوات میں پاک آرمی ضرورت محسوس کر تے ہیں تو رہیں گے ۔اور چھاؤنی بنائیں گے۔اگر نہیں تو جائینگے۔کیا واقعی یہ سیاسی جرگہ تھا۔ اگر سیاسی تھا تو سیاسی لوگ بہت کم تعداد میں کیوں موجود تھے۔ یا حکومتی جرگہ تھا ۔تو حکومتی کے تمام ممبران اسمبلی نہیں تھے۔ماسوائے دو ایم پی ایز فضل حکیم خان،اور ڈاکٹر حیدر علی کے۔اگر قومی جرگہ تھا۔تو اس میں علاقے کے مشران کے تعداد نہ ہونے کی برابر تھی۔اس جر گے کو اگر انتظامیہ کے جر گے کا نام د یا جائے۔ تومناسب ہوگا۔کیونکہ اس میں تمام ضلعی محکموں کے آفسر ز و اہلکار اور امن کمیٹیوں کے ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔جر گے کے اختتام پر شرکاء کے منظوری سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔جو اے سی کبل سید نواب نے پیش کر تے ہوئے کہا کہ سوات گرینڈ قومی جرگہ کے جانب سے مطالبات پیش کئے ۔جس میں ( ۱ ) سوات کے تمام NHA Roadsکو صوبائی حکومت کی تحویل میں دیا جائے ، ۲ ) چونکہ ملاکنڈ ڈویژن میں پن بجلی کے متعدد منصوبے کامیابی سے تعمیر کے مراحل میں ہیں ، اسلئے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو سستے نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے ، ۳) سول انتظامیہ اپنا کردار مزید فعال طریقے سے ادا کرے ، ۴ ) سوات کے تمام قومی شاہراہوں کو فوری طور پر اسپلاٹ (Asphalt) سے مرمت کی جائے ، ۵ ) سوات ایکسپریس وے پر فوری طور پر کام کا آغاز کیا جائے ، ۶ ) EU کے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام میں عوام کو بھر پور نمائندگی دی جائے اور ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے ، ۷ ) ٹورزم ( Tourism) کے فروغ کیلئے تفریحی مقامات کو ترقی دی جائے ، ۸) نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے زرعی اور صنعتی شعبے کو مراعات دی جائے ، ۹ ) بہتر سیکورٹی کیلئے پولیس اور انتظامیہ کو درکار وسائل دی جائے اور پاک فوج کو چھاؤنی تک محدود کیا جائے ، ۱۰ ) سرچ اپریشن کے دوران متعلقہ پولیس کو پاک فوج کے ہمراہ ہونا چاہیے اور لیڈیز پولیس بھی گھروں کی تلاشی کے دوران ساتھ ہو ، ۱۱ ) NCPاور کٹ گاڑیوں کی رجسٹریشن کی جائے اور انکا DATAمرتب کیا جائے ، ۱۲ ) اولڈ پولیس لائن کے قریب بائی پاس چوک پر فلائی اوور تعمیر کیا جائے تاکہ ٹریفک جام کا مسئلہ حل ہو ، ۱۳)دہشت گردی سے تباہ شدہ تعلیمی ادارے فوری طور پر تعمیر کئے جائیں اور PARRSAکو دیگر سرگرمیوں کے بجائے سکولوں کی تعمیر نو پر سب سے پہلے توجہ دینی چاہیے ، ۱۴ ) وفاقی حکومت سوات ڈویلپمنٹ پیکج کے طرز پر PSDPمیں وفاقی حکومت علاقے کی ترقی کیلئے جامع پلان شامل کریں ، ۱۵ ) کانجو ٹاؤن شپ میں مزید سہولیات کی فراہمی کیلئے صوبائی حکومت فنڈز مختص کرے ، ۱۶ ) جوڈیشل کمپلکس کبل کی تعمیر فوری طور پر شروع کی جائے ، ۱۷ ) بہتر امن کیلئے یہ جرگہ چھاؤنی کے قیام کی حمایت کرتی ہے ، تاہم مالکان اراضیات کو مارکیٹ ریٹ پر معاوضہ دیا جائے اور خوازہ خیلہ میں نجی اراضیات کو چھاؤنی کے مجوزہ پلان سے خارج کیا جائے ،مزید براں چھاؤنی کیلئے در کار 75کنال اراضی کی ملکیت صوبائی حکومت سے فوری طور پر وفاقی حکومت کو الاٹ کی جائے اور وفاقی حکومت وعدے کے مطابق چھاؤنی کے قیام کیلئے دو بلین کی رقم فراہم کرے ، ۱۸ ) سوات میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ برائے خواتین اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ برائے نوجوانان قائم کیا جائے اور تربیت کے بعد خواتین اور نوجوانوں کے روزگار کا مناسب بندوبست کیا جائے ، سوات کے میڈیا کا بحرانوں میں اہم کردار رہا ہے لہٰذا ان کو مراعات دی جائے ، میڈیا کالونی کیلئے مناسب اقدامات اُٹھائے جائیں ، ۱۹ ) مینگورہ شہر میں ٹریفک کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ٹریفک سگنل لگایا جائے اور ناجائز تجاوزات ہٹائے جائیں ، ۲۰ ) جنرل بس سٹینڈ اور سبزی منڈی شہر سے باہر منتقل کیا جائے ، کار پارکنگ کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے جامبیل مرغزار خوڑ کے کنارے پشتوں پر پارکنگ لان تعمیر کی جائے ، ۲۱ ) دیہی طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹاف کی کمی کو پورا کیا جائے ، دیگر ادویات کے ساتھ ساتھ ہیپاٹائٹس کے معیاری ویکسین فراہم کی جائے ، ۲۲ ) کینسر ہسپتال سوات میں مریضوں کے علاج پر ہونے والے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے، ۲۳ ) یہ جرگہ دہشت گردی میں شہید و زخمی ہونے والے اور جدوجہد کرنے والوں کو سلام پیش کرتی ہے ، ۲۴ )ضلع بونیر اور خصوصاً تحصیل گدیزئ میں دہشت گردی کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے بھر پور کارروائی کی جائے ، علاقے میں پولیس نفری بڑھائی جائیں، ۲۵ ) سوات کیڈٹ کالج میں سوات کے عوام کیلئے کوٹہ مقرر کیا جائے ، ۲۶ ) آپریشن کے دوران لائسنس یافتہ اسلحہ ضبط نہ کیا جائے ، ۲۷ ) سوات آپریشن اور سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کو فوری طور پر بحال کیا جائے ۔ کیا جر گے کے اختتام پر جاری کی گئی اعلامیہ جو منظور کیا گیا۔پیش کی جانے والے اعلامیہ کے تمام 27 نکات سے ملاکنڈ ڈویژن کے 40 لاکھ سے زائد عوام متفق ہے؟
672 total views, no views today


