اس موقع پر سوات گرینڈ قومی جرگہ نے فوری طور پر فوجی چھاؤنی تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت عوامی محرومیوں کا ازالہ کرکے عوام کو خصوصی ریلیف فراہم کرنے سمیت سوات کے تمام این ایچ اے روڈز کو صوبائی حکومت کی تحویل میں دے۔ پاک فوج اور عوام کی بے تحاشہ قربانیوں کی بہ دولت قائم ہونے والے امن کو برقرار رکھنے کے لیے عمائدین اور سیاسی رہنما
اس موقع پر قومی جرگہ نے ایک باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کیا جس میں درجہ ذیل مسائل کا تذکرہ کیا گیا۔سیاسی اختلافات کو با لائے طاق رکھ
کر مشترکہ جدوجہد کرنے کا عزم کریں۔
* سوات کے تمام این ایچ اے روڈز کو صوبائی حکومت کی تحویل میں دیا جائے۔ * چوں کہ ملاکنڈ ڈویژن میں پن بجلی کے متعدد منصوبے کامیابی سے تعمیر کے مراحل میں ہیں، اس لیے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو سستے نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے۔ *سول انتظامیہ اپنا کردار مزید فعال طریقے سے ادا کرے۔ *سوات کے تمام قومی شاہراہوں کو فوری طور پر اسپلاٹ (Asphalt) سے مرمت کیا جائے۔ *سوات ایکسپریس وے پر فوری طور پر کام کا آغاز کیا جائے۔ *ای یو کے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام میں عوام کو بھر پور نمائندگی دی جائے اور ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے۔ *ٹوور ازم کے فروغ کے لیے تفریحی مقامات کو ترقی دی جائے۔ *نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے زرعی اور صنعتی شعبے کو مراعات دیے جائیں۔ * بہتر سیکورٹی کے لیے پولیس اور انتظامیہ کو درکار وسائل دئیے جائیں اور پاک فوج کو چھاؤنی تک محدود کیا جائے۔ *سرچ آپریشن کے دوران میں متعلقہ پولیس کو پاک فوج کے ہم راہ ہونا چاہیے اور لیڈیز پولیس بھی گھروں کی تلاشی کے دوران میں ساتھ ہو۔ * این سی پی اور کٹ گاڑیوں کی رجسٹریشن کی جائے اور ان کا ڈاٹا مرتب کیا جائے۔ *اولڈ پولیس لائن کے قریب بائی پاس چوک پر فلائی اوور تعمیر کیا جائے تاکہ ٹریفک جام کا مسئلہ حل ہو۔ *دہشت گردی سے تباہ شدہ تعلیمی ادارے فوری طور پر تعمیر کیے جائیں اور پارسا کو دیگر سرگرمیوں کے بجائے اسکولوں کی تعمیر نو پر سب سے پہلے توجہ دینی چاہیے۔ *وفاقی حکومت سوات ڈویلپمنٹ پیکیج کے طرز پر PSDP میں وفاقی حکومت علاقے کی ترقی کے لیے جامع پلان شامل کرے۔ *کانجو ٹاؤن شپ میں مزید سہولیات کی فراہمی کے لیے صوبائی حکومت فنڈز مختص کرے۔ *جوڈیشل کمپلیکس کبل کی تعمیر فوری طور پر شروع کی جائے۔ *بہتر امن کے لیے یہ جرگہ چھاؤنی کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم مالکان اراضیات کو مارکیٹ ریٹ پر معاوضہ دیا جائے اور خوازہ خیلہ میں نجی اراضیات کو چھاؤنی کے مجوزہ پلان سے خارج کیا جائے۔ مزید براں چھاؤنی کے لیے در کار 75 کنال اراضی کی ملکیت صوبائی حکومت سے فوری طور پر وفاقی حکومت کو الاٹ کی جائے اور وفاقی حکومت وعدے کے مطابق چھاؤنی کے قیام کے لیے دو بلین کی رقم فراہم کرے۔ *سوات میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ برائے خواتین اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ برائے نوجوانان قائم کیا جائے اور تربیت کے بعد خواتین اور نوجوانوں کے روزگار کا مناسب بندوبست کیا جائے۔ سوات کے میڈیا کا بحرانوں میں اہم کردار رہا ہے، لہٰذا ان کو مراعات دی جائیں۔ میڈیا کالونی کے لیے مناسب اقدام کیے جائیں۔ *مینگورہ شہر میں ٹریفک کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ٹریفک سگنل لگائے جائیں اور ناجائز تجاوزات ہٹائے جائیں۔ *جنرل بس اسٹینڈ اور سبزی منڈی شہر سے باہر منتقل کی جائے۔ کار پارکنگ کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے جامبیل مرغزار خوڑ کے کنارے پشتوں پر پارکنگ لان تعمیر کیے جائیں۔ *دیہی طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کی کمی کو پورا کیا جائے۔ دیگر ادویہ کے ساتھ ساتھ ہیپاٹائٹس کا معیاری ویکسین فراہم کیا جائے۔ *کینسر اسپتال سوات میں مریضوں کے علاج پر ہونے والے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے۔ *یہ جرگہ دہشت گردی میں شہید و زخمی ہونے والے اور جدوجہد کرنے والوں کو سلام پیش کرتا ہے۔ *ضلع بونیر اور خصوصاً تحصیل گدیزئ میں دہشت گردی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بھر پور کارروائی کی جائے۔ علاقہ میں پولیس نفری بڑھائی جائے۔ *سوات کیڈٹ کالج میں سوات کے عوام کے لیے کوٹہ مقرر کیا جائے۔ *آپریشن کے دوران میں لائسنس یافتہ اسلحہ ضبط نہ کیا جائے۔ *سوات آپریشن اور سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کو فوری طور پر بہ حال کیا جائے۔
سوات کی تاریخ کے پہلے حقیقی جرگہ نے یہاں کے عوام کے جو مسائل سامنے لائے، ان کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ سوات کے عوام کے مسائل اور ان کے حقوق کے نام پر کئی بار نام نہاد افراد پر مشتمل قومی جرگے یہاں کے عوام کے حقوق پر سودا بازی کرتے ہیں اور ان کو گم راہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب چوں کہ ایک مؤثر اور بڑا جرگہ سامنے آیا ہے، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کو اس جرگے کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے فعال بنائے اور باقاعدگی سے ماہانہ اس جرگے کا انعقاد ضروری بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اصلاحی کمیٹی کی طرح اس کے لیے باقاعدہ دفتر کے قیام کے ساتھ ساتھ اس کو سوات کے مسائل کے حوالے سے خصوصی ٹاسک حوالے کیا جائے اور اس جرگے کا وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے لیے شیڈول دیا جائے، تاکہ یہی جرگہ جاکر ان افراد کے ساتھ سوات کے مسائل پر خصوصی بات چیت کرے اور ان سے یہاں کے لیے خصوصی پیکیج منظور کروائے ۔
750 total views, no views today


