دس دسمبر 2014ء بدھ کا دن تمام پاکستانیوں کے لیے عموماً جب کہ پختونوں اور سواتیوں کے لیے انتہائی مسرت اور افتخار کا دن تھا جب سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زیٔ کو امن کے بہترین اور معتبر عالمی نوبل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ملالہ یوسف زیٔ کئی حوالوں سے یہ اعزاز حاصل کرنے والی دنیا کی پہلی اور منفرد شخصیت ٹھہری۔ مثال کے طور پر ملالہ نوبل امن ایوارڈ حاصل کرنے والی دنیا کی کم سن ترین شخصیت ہیں۔ ملالہ پہلی پاکستانی ہیں جس نے امن کا نوبل ایوارڈ جیتا۔ وہ پہلی پختون شخصیت ہیں جسے یہ اعزاز حاصل ہوا۔ اس قسم کے کئی ایک حوالے ہیں جس کی وجہ سے ملالہ یوسف زیٔ کا نام تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رقم ہوچکا ہے جس کو نظرانداز کرنا یا فراموش کرنا کسی بھی صورت ممکن نہیں۔
دس دسمبر 2014ء کو ملالہ کے حوالے سے پاکستان اور پختون قوم کے لیے ایک یاد گار دن ہے۔ خصوصاً یہ پختون قوم کے لیے بلا شک و شبہ ایک اعزاز اور افتخار کی بات ہے۔ کیوں کہ ایک عرصہ سے پختون قوم کے حوالے سے عالمی سطح پر انتہائی منفی اور زہریلا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ پختون دہشت گرد ہیں۔ امن کے حوالے سے ملالہ یوسف زیٔ کو امن کے نوبل ایوارڈ کا ملنا ایسے لوگوں اور اداروں کے منھ پر زناٹے دار طمانچہ ہے، جو اس گندی اورغلیظ سوچ کا پرچار کرتے ہیں۔ ملالہ یوسف زیٔ کی جدوجہد نے ثابت کردیا ہے کہ پختون اجتماعی طور پر امن پسند، صلح جو اور ترقی پسند قوم ہیں۔
اس طرح پاکستان کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں ایک غلط اور مکروہ تاثر پھیلایا گیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعہ میں کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان ملوث ہوتا ہے۔ یہ شر انگیز تاثر پھیلایا جاتا رہا کہ دہشت گردی کرنے والا یا ماسٹر مائنڈ پاکستانی ہوگا یا پھر ان کی تربیت پاکستان میں ہوئی ہوگی۔ ملالہ کو ملنے والے اس ایوارڈ نے جہاں ان الزامات کی نفی کی ہے، وہاں یہ پاکستان کے وقار اور عزت میں اضافہ کا سبب بھی بنا ہے۔
امن کا نوبل انعام سوات کے مظلوم عوام کی بیش بہا قربانیوں کا ثمر بھی ہے۔ ملالہ نہ صرف اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے بلکہ گاہے بہ گاہے اس کا اظہار بھی کیا ہے کہ یہ اعزازات اور ایوارڈ پوری سواتی قوم کے ہیں۔ سوات کے مظلوم اور ستم رسیدہ عوام گزشتہ دس سالوں سے قربانیاں دیتے آرہے ہیں۔ سوات میں ایک سازش کے تحت پر امن اور صحت مند ماحول کو آگ و خون کے کار زار میں تبدیل کرکے یہاں کے امن پسند عوام پر عرصۂ حیات تنگ کیا گیا تھا۔ مائیں اپنے جگر گوشوں کے بکھرے اعضاء سمیٹتے سمیٹتے ہوش کھو بیٹھی تھیں۔ بہنیں اپنے لاڈلے جوان بھائیوں کی لاشوں پر بین کرتے کرتے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھیں۔ اپنے باباجانی کا راستہ تکتے تکتے ننھے مننے فرشتوں کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ اپنے جوان بچوں کے جنازوں کو ٹیڑھی کمر کے ساتھ کندھا دیتے ہوئے اور پھر کانپتے ہاتھوں سے اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو دفناتے دفناتے تھک گئے تھے۔ باحیا، پاک دامن اور با عصمت خواتین سہاگ کے اجڑ جانے کے بعد بے حس معاشرے کے ہوس پرست درندوں کی بھوکی نظروں کی شکار ہوتی رہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے امداد کے نام پر انھیں جتنا ذلیل و خوار کیا، وہ تاریخ کا بھیانک حصہ ہے۔ پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی نے سفید پوشی اور بے نیازی کے پرخچے اڑادیئے۔ بم دھماکوں اور ہلاکتوں کی تعداد شمار کرنے والے گنتی بھول گئے۔ پاکستان کے طول و عرض میں سواتیوں اور ان کے شناختی کارڈز کو مشکوک نظروں سے دیکھا جانے لگا۔ ہوٹل میں کمرہ لینا یا پھر کرائے پر مکان لینے کا مرحلہ سواتیوں کے لیے اذیت ناک اور صبر آزما مرحلہ ہوتا۔ سواتیوں کی ان قربانیوں کا صلہ دس دسمبر 2014ء بدھ کے دن ملالہ کو امن کا نوبل انعام ملنے کی صورت میں مل گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ سواتی قوم فطرتاً امن پسند، شریف النفس اور بے ضرر ہے۔ اس دائمی حقیقت کو اب بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرلیا گیا ہے۔ سوات کی کم سن بچی نے سواتیوں اور پختونوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی لاج رکھ لی۔
سال 2012ء میں جب ملالہ یوسف زیٔ پر ابھی قاتلانہ حملہ نہیں ہوا تھا، تو راقم نے اپنے کالم ’’ملالہ کبھی ملول نہ ہونا‘‘ میں لکھا تھا کہ شائد قدرت ملالہ سے کوئی کام لینا چاہتی ہے۔ الحمد اللہ اب ایسا ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ کیوں کہ دل چسپ اتفاقات کے ساتھ قدرت نے پختونوں اور خصوصاً سواتیوں کو نوازنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ 1880ء میں قندھار کے میوند کی ملالہ اور 2014ء میں سوات کی ملالہ کا ایک نام ہونا کیا محض اتفاق ہے؟ کیا نام کی مماثلت کے ساتھ ساتھ ان کی جدوجہد اور پختونوں کی شناخت کے حوالے سے بھی مماثلت محض اتفاق ہے یا پھر قدرت نے ماضی کی ملالہ کو نئے روپ اور دور جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بار پھر اقوام عالم کے سامنے لاکھڑا کردیا ہے۔ میوند کی ملالہ کی وجہ سے پختونوں میں ویسے بھی یہ نام معتبر اور محترم تھا، مگر اب قدرت نے اس نام کو اقوام عالم میں بھی معتبر اور قابل احترام بنا دیا ہے۔
قدرت نے سواتی قوم کی طویل اور صبر آزما جد و جہد اور قربانیوں کے بعدملالہ کی صورت میں اقوام عالم نے امن پسند قوم تسلیم کرلیا ہے اور جسٹس ناصر ملک کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا چیف جسٹس بنا کر پاکستان میں انصاف پسندی کے حوالے سے سواتیوں کا قد بڑھادیا ہے۔ تبھی تو کہتے ہیں کہ خدا جب دیتا ہے تو چھپڑ پھاڑ کردیتا ہے۔
جاتے جاتے حسب روایت چند اشعار
کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں
کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں
جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
میری خاموشی کو تسلیم و رضا کہتے ہیں
یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے
چارہ گر موت کو تکمیل شفا کہتے ہیں
کل بھی جو حق بات کہنی تھی سر دار کہی
آج بھی پیش تباں نام خدا کہتے ہیں
اندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں
میرے گھر آئیں گے طوفانِ بلا کہتے ہیں
686 total views, no views today


