کالام،ایس آر ایس پی اور یورپی یونین کے تعاون سے بنایا گیا نیم سرکاری بجلی منصوبہ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ناکام ۔انتہائی کم ولٹیج کے باعث پانچ بڑے علاقوں کو نمبر وار بجلی بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ سمیت فراہم ہونے لگی ۔ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث وادی کالام کے پانچ بڑی آبادی والے علاقے پھر سے تاریکی میں ڈوب گئے۔جبکہ ایندھن کی لکڑی کو بھی پر لگ گئے۔ شدید سردی کی وجہ سے لوگ دوہری مشکلات میں مبتلا۔ عوامی حلقوں نے لوڈشیڈنگ سے دلبرداشتہ ہوکر منصوبہ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق وادی کالام جنگل ان کے مقام پر تعمیر شدہ چار سو کے وی بجلی منصوبہ جو حال ہی میں موجودہ حکومت نے ایس آر ایس پی اور یورپی یونین کے تعاون سے تعمیر کیا تھا جو پانی کی عدم دستیابی کے باعث ناکام ہوگیا۔ وادی کالام کے بڑے بڑے گاؤں پھر سے تاریک ہوگئے۔ کم وولٹیج کے باعث تمام علاقوں کو ہر تین دن بعد بجلی فراہم ہورہی ہے اور وہ بھی بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ سمیت۔انتہائی سرد موسم میں ایک طرف ایندھن کی لکڑی مہنگی ہوگئی ہے تو دوسری طرف بجلی کی عدم دستیابی پر علاقہ عوام دلبرداشتہ ہوگئے ، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ منصوبہ ختم کرکے ان کے لئے متبادل بجلی کا نظام بنایا جائے ورنہ وہ احتجاجی مظاہروں پر اتر آئیں گے۔ علاقہ عوام میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے انہوں نے جنگل ان بجلی منصوبے کو حکومت کی ناقص پالیسی کا منہ بولتا ثبوت بتاتے ہوئے کہا کہ بجلی منصوبہ بنانے سے پہلے سروے کرلینا چاہیے تھا کہ پانی ضرورت پورا کرسکتا ہے کہ نہیں۔لہذا وہ حکومت اور ایس آر ایس پی سے بجلی کانظام درست کرنے یا متبادل منصوبہ بنایا جائے ورنہ اہلیان کالام احتجاجی مظاہروں پر اتر آئیں گے۔روپورٹ :ایچ ایم کالامی سوات نیوز ڈاٹ کام
748 total views, no views today


