بریکوٹ، تحصیل بریکوٹ کے آبادی میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے بریکوٹ سو ل ہسپتال کو 2007میں کیٹگری ڈی کا درجہ دیا گیا جس پر ابھی تک مکمل عمل درآمد نہیں ہو ا ہے ۔گذشتہ ہفتے اسی ہسپتال میں کیجولٹی کا افتتاح مقامی ایم پی اے ڈاکٹر امجد نے کیا جس پر عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر وہ خوشی زیادہ دیر تک نہ رہ سکی کیونکہ کیجولٹی میں تمام ضروری آلات وافر مقدار میں موجود ہے
مگر ابھی تک اس کیجولٹی کے لئے سٹاف کی فراہمی نہ ہوسکی ۔اس کیجولٹی کو بریکوٹ کے ڈاکٹر ز ،پیرامیڈیکل سٹاف ایکسٹرا ڈیوٹی کرکے چلار ہے ہیں اگر یہی صورت حال زیادہ دیر رہی تو یہ کیجولٹی خود قابل علاج بن جائے گی ۔اس سلسلے میں گذشتہ روز بریکوٹ پر یس کلب کے صحافیوں نے اس کیجولٹی کا دورہ کیا ۔انچار ج کیجولٹی خواجہ قیوم نے کہا کہ ہم ڈ ی ایچ او سید علی خان کے بے حد مشکور ہیں کہ جنہوں نے اس ہسپتال میں کیجولٹی کا آغاذ کیا جس سے حادثہ اتفاقیہ میں لوگوں کو طبی امداد دینے میں کافی آسانیاں پیدا ہو گئیں ہیں ۔اس کیجولٹی میں آکسیجن سیلنڈر ،سکنگ مشین ،سٹر لائزر،مر د و خواتین کے لئے الگ الگ وراڈز اور دیگر سہولیات موجود ہیں مگر اس کے لئے سٹاف کی اشد ضرورت ہے جو کہ تین سی ایم اوز،سات پیرامیڈکس،چار نرسیز،سات کلاس فور،چار سویپرز سمیت چار ایمبولنس موجودہیں مگر اس کے لئے دو ڈرائیوز موجودہیں جو کہ مذید دو ڈرائیورز کی تعیناتی کی جائے ۔جماعت اسلامی بریکوٹ امیر محمد ظاہر نے کہا کہ ایم ایم اے کے دور حکومت میں اس ہسپتال کی اپ گریڈیشن ہوئی مگر بدقسمتی سے اس ہسپتال کو وہ حیثیت نہ مل سکی جو کہ ایک تحصیل ہیڈکوار ٹر کو ملنی چاہیے۔تحصیل بریکوٹ کا اکلوتا ہسپتال جس پر لاکھوں آؓبادی کا بوجھ ہے اور روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں مریض اپنے علاج کے لئے آتے ہیں جو کہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس ہسپتال کو مذید سہولیات فراہم کی جائے تاکہ عوام کو مینگورہ یا دوسری جگہ علاج معالجے کے لئے نہ جانا پڑے ۔محکمہ صحت ڈی ایچ او سوات سید علی خان سے رابطہ پر انہوں نے کہا کہ صوبے میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے علاوہ کسی بھی ہسپتال میں کیجولٹی کے لئے الگ سٹاف نہیں ہے اس لئے یہ کیجولٹی ہسپتال میں موجود سٹاف ہی ڈیوٹی سرانجا م دیں گے ۔
420 total views, no views today


