سوات، پشاورسکول کے دلخراش واقعے کے خلاف سوات بھر میں احتجاجی مظاہرے ، مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ، بازاریں سنسان رہے ، مختلف مقامات پر غائبانہ نماز جنازوں کی ادائیگی اور قرآن خوانی کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ، سیاسی ومذہبی جماعتوں مختلف ضلعی اور صوبائی تنظیموں اور طلباء کی جانب سے احتجاجی مظاہرے ، احتجاجی مظاہروں میں مقررین کا فوری طورپر دہشتگردی کے خاتمے کا مطالبہ ، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کے دفتر میں شہدا ء کیلئے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیاگیا ، جس میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن محمد افسر خان ، ڈی آئی جی ملاکنڈ عبداللہ خان ، ایم پی اے فضل حکیم خان ، ڈی سی سوات محمد اسلم وزیر ، ڈی پی او سوات شیر اکبر خان اور دیگر سرکاری افسران نے شرکت کی ،
یونیورسٹی آف سوات کے زیر اہتمام وائس چانسلر کے زیر قیادت فاتحہ خوانی بھی ہوئی جس میں یونیورسٹی کے پروفیسر اور عملہ نے بھر پور شرکت کی ، سیدو میدیکل کالج میں آل سوات ڈاکٹر ایسوسی ایشن کی اپیل پر شہداء کے غائبانہ نماجنازہ اداکی گئی اور شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ، جبکہ سنٹرل ہسپتال تک پر امن واک کا اہتمام کیاگیا ، اس طرح گراسی گراؤنڈ میں بھی شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ اداکی گئی ، ضلعی انتظامیہ سوشل ویلفیئر اوکینگ کے زیر اہتمام سوات پریس کلب میں سانحہ پشاور کے شہداء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے شمعیں روشن کئے گئے اور واقعے کی پر زور الفاظ میں مذمت کی گئی ،
اس موقع پر پختون ملی عوامی پارٹی ، پختون سٹودنٹس فیڈریشن اور پروانشل یوتھ اسمبلی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے بھی سوات پریس کلب کے سامنے مظاہرے کئے گئے جبکہ قومی وطن پارٹی اور وطن پال یوتھ سمیت کالج کے طلباء نے بھی نشاط چوک سے سوات پریس کلب تک جلوس نکالا اور کارکنوں کے شہداء کے حق میں نعرے بازی کی ، اس موقع پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ دہشتگری کے خاتمے کیلئے متفقہ طورپر لائحہ عمل طے کیا جائے ، مظاہرین نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت اقدامات کرکے مستقبل کے معماروں کی زندگی کو محفوظ بنائے سوات میں سانحہ پشاور کی سوگ میں تاجروں نے تمام تحصیلوں سمیت مرکزی شہر مینگورہ میں بھی شٹرڈاؤن ہڑتال کیا اور شہداء سے یکجہتی کا اظہار کیا ۔
پشاور سانحہ کے خلاف پختونخواملی عوامی پارٹی ضلع سوات کے زیر اہتمام سوات پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ، انسان سوز اور وحشیانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت ، شہداء کے غم زدہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار حکومت سے مکمل طور پر دہشت گدری کا خاتمہ اور امن بحال کرنے کا مطالبہ ، تفصیلات کے مطابق پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں 143 بچوں کے شہادت پر پختونخواملی عوامی پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں نے سوات پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ، احتجاجی مظاہرے سے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے قائدین ڈاکٹر خالد محمود ، اصغر خان سلیم ، انور علی اور دیگر نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے سنٹروں کو ختم کرکے امن بحال کریں اور تمام سیاسی قائدین اختلافات ختم کرکے دہشت گردی کے خلاف متحد ہوجائیں ، ملک کے 18کروڑ عوام ملک میں امن ، دہشت گردی کاخاتمہ اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں ، پھول جیسے بچوں پر حملہ پورے پاکستان کے عوام پر حملہ ہے انہوں نے کہا کہ اس المناک سانحہ پر ملک کے عوام خون کے آنسورورہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکمران تعلیمی اداروں اور ملک کے عوام کو تحفظ فراہم کریں ورنہ مستعفی ہوجائیں ، مظاہرے کے آخر میں شہید ہونے والے بچوں اور عملہ کے دیگر اراکین کی ایصال ثواب کیلئے اجتماعی دعا کی گئی ۔
آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کے حملے کی شدید مذمت ،پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کیخلاف آل ڈسٹرکٹ کورٹس فوٹوسٹیٹ اینڈ کمپوزنگ یونین کا مکمل شٹرڈاؤن ، تمام دکانیں بند رہے ، پشاور آرمی پبلک سکول پربزدلانہ حملے کیخلاف کاایک اہم اجلاس بھی زیرصدارت محمدیعقوب منعقد ہوا اجلاس میں اجلاس میں صدر محمدیعقوب ، جنرل سیکرٹری محمدزمان خان اوردیگرکابینہ ، ممبران نے شرکت کی ، اجلاس میں ۔ آرمی پبلک سکول پشاور پر بزدلانہ حملے کی پرزورمذمت کی گئی، اجلاس میں شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اورصوبائی حکومت سے واقعے کی تحقیقات کامطالبہ کیاگیا اوردہشت گردی میں ملوث ملزمان کوکیفرکردارتک پہنچانے کامطالبہ کیاگیا۔
489 total views, no views today


