پشاور نہ صرف پاکستان کا بلکہ وسطی ایشیاء کا اہم شہر، جو کہ نہ صرف اپنے باغات کے لئے مشہور تھا بلکہ اس خطے میں پائی جانے والی معدنیات، قیمتی و نیم قیمتی پتھروں کے کاروبار کی ایک بڑی منڈی بھی تھی، جہاں نہ صرف پاکستان کے مختلف شہروں کے کاروباری لوگ بلکہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی کاروباری افراد بھی قیمتی پتھروں کے کاروبار کے لیے آیا کرتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح اس شہر کی خوب صورتی کو گہن لگتا گیا، اسی طرح اس شہر کی یہ منڈی بھی زنگ آلود ہوتی گئی اور ایک اندازے کے مطابق ملک میں جاری شرپسندوں کی کارروائیوں اور خراب کاروباری حالات کی وجہ سے یہ کاربار تقریباً نوے فی صد ختم ہوگیا۔
رائل جیمز اور ایمپاور دی نیشن آرگنائزیشن نے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے صوبے کی اس زرخیز منڈی کو دوبارہ بہ حال کرنے اور پشاور میں دوبارہ اس کاروبار کو زندہ کرنے کے لیے یہاں پر ٹوور ازم کارپوریشن پختون خوا کے تعاون سے ’’جیمز اینڈ جیولری نمائش‘‘ کا اہتمام کیا۔ ایمپاوردی نیشن آرگنائزیشن کی روح رواں محترمہ صائمہ عمر نے بتایا کہ اُن کا مقصد صوبے میں اس کاروبار کی بہ حالی اور نوجوانوں کو اس طرف راغب کرکے اُن کو کاروبار کے لیے نئی راہوں کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے معدنیات اور قیمتی پتھروں کے بہت بڑے ذخائر سے نوازا ہے۔ یہاں پر پیدا ہونے والی معدنیات کی پوری دنیامیں بہت مانگ ہے اور جتنی برآمد کی جاتی ہے، زیادہ تر خام صورت میں برآمد ہوتی ہے، جس کی وجہ سے خاطر خواہ زرمبادلہ ملک کو نہیں ملتا۔ اس مقصد کے لیے یہاں کے نوجوانوں اور اس کاروبار سے منسلک لوگوں کی جدید و بہترین خطوط پر تربیت بہت اہم ہے۔ کیوں کہ بدقسمتی سے پاکستان کے تراشے ہوئے قیمتی پتھروں کے ڈیزائن پوری دنیا میں کہیں بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ یہ ہماری اور ہمارے ملک کے لیے بدقسمتی ہے کہ جہاں قیمتی پتھروں کی اتنی پیداوار ہو اور ملک کو کوئی مناسب فائدہ بھی نہ ہو۔ محترمہ صائمہ صاحبہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اُن کی آرگنائزیشن، رائل جیمز کے تعاون سے ہنر مند افراد کو عالمی معیار کے مطابق جدید خطوط پر تربیت دینے، عالمی منڈیوں تک رسائی، عالمی سطح پر نمائش وغیرہ میں شرکت کے لیے اُن کی مدد کرنے میں مکمل تعاون دے گی اور خاص کر خواتین کی تربیت اور اُن کے لیے کاروبار کے مناسب مواقع کی فراہمی ان کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ ان کا مقصد ایسی نمائشوں سے ملک میں موجود بحران کی شکار اس انڈسٹری کو تقویت فراہم کرنا ہے، تاکہ پشاور شہر دوبارہ اس کاروبار کا مرکز بن جائے۔
اس نمائش میں تقریباً ساٹھ سے زائد اسٹالز لگائے گئے تھے، جن میں ملک بھر سمیت افغانستان سے بھی تاجروں نے شرکت کی۔ قیمتی و نیم قیمتی پتھروں، ہاتھ سے بنی جیولری، قیمتی پتھروں سے بنے ظروف و آرائشی اشیاء سمیت ہینڈی کرافٹس کے اسٹالز میں لوگوں نے کافی دل چسپی لی۔ اس نمائش میں محترمہ صائمہ عمر نے اُن خواتین کی شرکت کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے جو خود اپنی مدد آپ کے تحت کاروبار کر رہی ہیں یا کسی دوسری آرگنائزیشن کے سپورٹ سے اپنی سلائی کڑھائی سے اپنے خاندان کے لیے روزی روٹی کماتی ہیں۔ یہاں پر شرکت کرنے والوں میں سے کشف فاؤنڈیشن کا ذکر کرنا مناسب ہے جو کہ مقامی خواتین کو مائکرو فنانس سپورٹ دے کر اُن سے کام کروا کر اُن خواتین کو اپنے قدموں پر کھڑا کرتی ہیں جس سے وہ اپنے خاندان کی کفالت خودکرتی ہیں اور کسی کی محتاج نہیں رہتیں۔ انھوں نے نہ صرف بیوہ عورتوں اور یتیم بچیوں اور غریب خواتین کو چھوٹے قرضے دے کر اُن کی بنائی ہوئی اشیاء کو مارکیٹ میں پیش کیا بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی کام کرتی ہیں۔ اسی طرح سوات سے تعلق رکھنے والی محترمہ شمع صاحبہ ایک ایسی باہمت خاتون ہیں جنھوں نے اپنے طور پر سیدو شریف میں شمع ووکیشنل سنٹر کے نام سے ایک ادارہ کھول رکھا ہے جہاں پر نہ صرف وہ خواتین کو سلائی کڑھائی کی تربیت دیتی ہیں بلکہ وہ اپنے پیسوں سے بازار سے میٹریل خرید کر علاقے کی نادار و بیوہ خواتین سے اُن کے گھروں میں کام کرواتی ہیں اور اُن کی بنائی ہوئی اشیاء کی مارکیٹنگ کرتی ہیں۔ اُن کا مقصد سوات کی خواتین کو روزگار فراہم کرکے اُن کو اپنے قدموں پر کھڑے کرنا ہے اور کسی دوسرے کی محتاجی سے دور رکھنا ہے ۔
اس نمائش کی بہترین بات یہ تھی کہ اس میں پاکستان کے بڑے شہروں سمیت افغانستان کے قیمتی پتھروں کے ڈیلرز نے بھی شرکت کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ خراب حالات کی وجہ سے اُن کا کاروبار بہت متاثر ہوا ہے مگر اب بہتری کی طرف بڑھتی ہوئی صورت حال کے تحت وہ لوگ پھر سے پاکستان میں کاروبار کے لیے آنا شروع ہوئے ہیں۔ نمائش میں پختون خوا انجینئرنگ یونی ورسٹی کے جیمز ڈی پارٹمنٹ اور پاکستان جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی نے بھی اپنے اسٹالز لگا رکھے تھے جو مناسب فیس کے عوض پشاور اور ملک کے دیگر شہروں میں قیمتی پتھروں کی پہچان، جدید خطوط پر تراش خراش اور جیولری ڈیزائن کے مختلف کورسز کی سہولت مہیا کرتی ہیں۔حکومت صوبہ خیبر پختون خوا نے حال ہی میں صوبے میں نئی منرل پالیسی متعارف کروائی ہے مگر یہاں پر موجود اس کاروبار سے منسلک تقریباً ننانوے فی صد افراد کو اس پالیسی کے بارے میں سرے سے علم ہی نہیں ہے اور بہ قول اُن کے نہ کبھی حکومت نے اُن سے رابطہ کیا اورنہ ہی اُن کو نئی پالیسی کے بارے میں بتایاگیا ہے۔ حکومت خیبر پختون خوا اگر اس کاروبار سے منسلک افراد کو نئی منرل پالیسی کی کاپیاں فراہم کرے یا ان کے لیے کوئی کانفرنس، سیمینار وغیرہ ترتیب دے جس میں قیمتی و نیم قیمتی پتھروں اور معدنیات کے کاروبار سے افراد کو بلایا جائے۔ اس پالیسی کی کاپیاں اگر سادہ اُردو زبان میں فراہم کی جائیں، تو اس کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوگی۔ کیونکہ اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے پچاس فی صد افراد ناخواندہ ہیں اور انگریزی زبان کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتے۔
اس نمائش میں کئی ایک غیر ملکی خریداروں نے بھی شرکت کی اورپشاور میں اس قسم کی نمائشوں کے انعقاد کو سراہا۔ مختلف اسٹالز پر آئے ہوئے لوگوں نے بھی خریداری کی اور خاص کر خواتین نے ان قیمتی پتھروں اور جیولری میں خاص دل چسپی ظاہر کی۔ اس نمائش میں قیمتی پتھروں کی برآمد و تراش خراش کے میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے والے افراد کو ایوارڈز بھی دئیے گئے۔ اچھی کارکردگی پر سوات سے تعلق رکھنے والے تاجر رفیع اللہ کو خاص انعام سے نوازا گیا۔ اس نمائش میں تمام اسٹالز مالکان اور آرگنائزر سمیت میڈیا نمائندگان کو بھی بہترین کارکردگی پر سرٹیفکیٹس دیئے گئے۔
پشاور جیسے شہر میں جہاں خاندانوں نے تفریح کے لیے کہیں آنا جانا چھوڑ دیا ہے، ایسے ماحول میں ایسی تقریبات و نمائشوں کا انعقاد نہ صرف صحت مند تفریح کی جانب سفر کا آغاز ہے بلکہ اس سے صوبے میں قمیتی پتھروں کے کاروبار کو فروغ بھی حاصل ہوگا۔ بے شک ایمپاوردی نیشن آرگنائزیشن کی یہ کاوش صوبہ میں اس کاروبار کی بہ حالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے ۔
664 total views, no views today


