جی ہاں سوئی گیس کی ان خالی خولی اور بے روح پائپ لائنوں سے تو پانی کی وہ نلکے ہزار درجے بہتر ہیں جو پانی نہ ہونے کی صورت میں کم ازکم سیٹیاں تو بجاتے اور اپنی موجودگی کا احساس تو دلاتے ہیں۔ کیوں کہ ہمارے ہاں سوئی گیس کی مثال اس حسینہ جیسی ہوگئی ہے جو بات بات پر روٹھ جاتی ہے، جسے منانے میں پھر گھنٹوں گھنٹوں تک منت سماجت کرنا پڑتی ہے۔ چند سال قبل جب ہمارے اس پس ماندہ علاقے میں پائپ لائنیں بچھائی جارہی تھیں، تواہل علاقہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے۔ انھیں اس بات کی خوشی بلکہ گھمنڈ ہو رہا تھا کہ اب انھیں آگ جلانے کے لیے مہنگے داموں لکڑی، ایل پی جی اور کوئلہ خریدنے سے چھٹکارا مل جائے گا اوران کاعلاقہ بھی سوئی گیس کی سہولت سے مستفید ہوسکے گا۔ ان بے چاروں کو کیا پتہ تھا کہ اب جس نرخ پر وہ مذکورہ چیزیں خرید رہے ہیں، سوئی گیس کے آنے سے وہی چیزیں انھیں کئی گنا زیادہ نرخوں پر ملیں گی اور آخرکار ہوا بھی وہی جو کسی کے خیال وگمان میں بھی نہیں تھا۔ گیس نامی چیزکی لائنیں توبچھ گئیں مگر اس کا وہ فائدہ عوام کو نہیں پہنچاجس کی امید کی جاسکتی تھی۔ کیوں کہ اس وقت سے لے کراب تک سوئی گیس کے نام سے قائم بے لگام اورسرکش گھوڑے محکمہ گیس کی جانب سے گھنٹوں گھنٹوں گیس کی سپلائی معطل رہتی ہے، جس کے سبب بیش تر اوقات چولہے ٹھنڈے اوربجھے رہتے ہیں۔ گیس لوڈشیڈنگ ہر جگہ ہے مگر مینگورہ، سیدو شریف اور گرد و نواح میں اس کی صورت ہی کچھ اور ہے۔ ان علاقوں میں محکمہ گیس کی جانب سے گیس سپلائی معطل کرنے کے لیے کوئی شیڈول موجود نہیں۔ تاہم گیس کی آمدورفت کے اوقات کواس طرح نوٹ کیا گیا ہے کہ صبح سات سے دوپہردو بجے تک گیس غائب رہتی ہے۔ شام پانچ بجے سے رات ساڑھے چھے بجے تک موجود اور اس کے بعد رات گیارہ اور بعض اوقات ساڑھے گیارہ بجے تک پھر غائب۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے، تو دن اور رات میں عین ان اوقات میں گیس بند رہتی ہے جو کھانا پکانے اوردیگرضروریات کیے لیے اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی صبح ناشتہ، دوپہر کو کھانے اور رات کو پھرکھانے کی تیاری کے اوقات میں گیس غائب اور چولہے ٹھنڈے رہتے ہیں جس کے سبب لوگ سخت کوفت میں مبتلا ہوجاتے ہیں جب کہ دیگر امور نمٹانے میں بھی انھیں پریشانی کا سامنا رہتاہے۔ محکمہ نے ایک طرح سے گیس کو ہوا میں تحلیل کرکے رکھ دیاہے اور جب کچھ دیر کے لیے گیس کی سپلائی بہ حال ہوبھی جائے، تو اس کا پریشراس قدرکم ہوتاہے کہ جس پراس ٹمٹماتے ہوئے دیے یاچراغ کا گمان ہوتاہے جس میں تیل کاآخری قطرہ رہ گیاہو اور وہ آخری سانسیں لے رہاہو۔ محکمہ گیس کی جانب سے جاری اس ظلم کے خلاف متعدد بار احتجاجی مظاہرے ہوئے مگر بے لگام گھوڑے یعنی متعلقہ محکمہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ ماہانہ بھاری بھاری بل مع جگا اور غنڈہ ٹیکس بڑی باقاعدگی کے ساتھ وصول کر رہاہے یعنی چوری بھی اورسینہ زور بھی۔ کچھ عرصہ پیش تر محکمہ گیس کے ظلم وستم سے عاجزآکر صارفین نے اس کے خلاف عدالت میں کیس بھی دائر کیاتھا جس کا فیصلہ صارفین کے حق میں ہوا جب کہ عدالت نے محکمہ گیس کو واضح الفاظ میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے، پریشر کا مسئلہ حل کرنے اور ٹیکس وصول نہ کرنے کی واضح الفاظ میں تنبیہ دی تھی مگر اس محکمہ نے عدالتی احکامات کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی روش برقراررکھی اوراس وقت بھی وہی کچھ کر رہاہے جس کے کرنے سے عدالت نے اسے منع کیا تھا۔ کیا یہ عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ محکمہ سوئی گیس کی جانب سے جاری مظالم پر عوام چیخ رہے ہیں مگر ان کی یہ چیخیں شاید حکومت کے کانوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔ کیوں کہ اب تک اس جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ کبھی کبھار ممبران اسمبلی عوام کو چپ کرانے کے لیے کہتے ہیں کہ مختلف مقامات پر بڑی سائز کی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں جس سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بھلا ان بھولے اورسادے ممبران کو کون سمجھائے کہ جب گیس ہے ہی نہیں، تو لائنیں بچھانے کا فائدہ؟
سوئی گیس کی سہولت زحمت کاروپ دھارچکی ہے۔ اب تو اس لفظ سے گیس اڑچکی ہے۔ صرف سوئی باقی رہ گئی ہے جو ماہانہ بلوں کی شکل میں صارفین کو چبھتی محسوس ہوتی ہے۔ عوامی اپیلیں، مطالبات، احتجاج اوردیگرکوششیں لاحاصل،محکمہ گیس بے پروا، حکومت بے بس، ممبران اسمبلی اقتدار کے نشے میں مست، صارفین سوئی گیس کی سہولت سے صحیح معنوں میں مستفیدہونے سے محروم اورخالی خولی لائنیں خود بھی گیس سپلائی کی بہ حالی کی منتظر نظر آ رہی ہیں اور یہی وہ لمحہ ہے جس میں زبان سے بے اختیار نکلتا ہے کہ آخر اس مردہ گھوڑے میں روح کون پھونکے گا؟ جاتے جاتے ایک شعرنذقارئین کرنا چاہوں گا
دور کے چاند سے مٹی کا دیا ہی بہتر
جو غریبوں نے سرِشام جلا رکھا ہے
*۔۔۔*۔۔۔*
718 total views, no views today


