اکیس نومبر 2014ء کے ایک خبر کے مطابق سول سیکرٹریٹ پشاور کے آئی ٹی اسٹاف ایسوسی ایشن نے حکومت کی طرف سے بے انصافی کی مذمت کی ہے اور پریشانی کا اظہار کیاہے۔ حال ہی میں صوبائی حکومت نے کلرکوں اور اسٹینوگرافروں کو بے نظیر مراعات سے نوازا ہے جن کی ہم تعریف کرتے ہیں۔ ملازم جتنا آسودہ ہوتا ہے، اتنا وہ اچھی خدمات دیتا ہے۔ کلرکوں اور اسٹینو گرافروں کے ساتھ خٹک حکومت کا احسان قابل تعریف ہے، لیکن ایک طبقے کو نوازنا اور دوسرے کو محروم کرنا انصاف ہے اور نہ اچھی حکم رانی۔
کوئی بھی بہادر سے بہادر سپاہی یا فوج ناکارہ اور زنگ آلود اسلحے کے ذریعے معمولی سی جنگ بھی نہیں جیت سکتی۔ بالکل اسی طرح کوئی بھی منتخب یا غیر منتخب حکومت قابل، دیانت دار اور مخلص سرکاری عملے کے بغیر کامیاب حکم رانی نہیں کرسکتی۔ پاکستان کی ماضی اور حال کی حکومتوں کی ناکامیوں کے تجزئیے دوسرے عوامل (Factors)کے ساتھ نا اہل اور بددیانت وغیرہ مخلص عملے کو بھی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہیں اور اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں۔ کسی بھی وزیر، وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کے پاس اگر قابل، مخلص اور دیانت دار دفتری عملہ موجود نہ ہو، تو وہ اپنے ذاتی اخلاص اور خواص کی بنیاد پر اپنی خواہش یا پارٹی پالیسی کے مطابق دس پندرہ فی صد سے زیادہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ پاکستان کی گزشتہ سیاسی تاریخ اسی پر گواہ ہے۔
1947ء میں جب بھارت اور پاکستان وجود میں آگئے، تو بھارت کو بنے بنائے ادارے اورمحکمے مع عملے و افسران مل گئے۔ بھارت کو نئے پیڈز تک نہ چھاپنے پڑے تھے، نہ نئی مہریں بنانی پڑیں تھیں، نہ اُسے نئی بھرتیوں اور از سر نو محکموں کو قائم کرنا پڑا تھا۔ جب کہ پاکستان کی حالت مختلف تھی۔ اس کے پاس عملہ تک نہ تھا۔ سرکاری دفاتر نہیں تھے۔ ہندو اور سکھ اپنی سماجی، سیاسی اور تعلیمی استعداد کی بہ دولت سرکاری دفاتر میں پچانویں فی صد اکثریت کے قریب تھے۔ تقسیم کے نتیجے میں وہ بھارت چلے گئے۔ اس عظیم خلا کو پاکستان نے دو ٹانگوں پر کھڑے دو حروف لکھنے والوں سے پر کیا۔ ان میں قابل لوگ بھی تھے لیکن نہایت ہی کم۔ یہاں بھی پنجابی اور مہاجر لوگ زیادہ کھپ گئے۔ کیوں کہ دوسرے پاکستانی علاقوں میں ایک تو تعلیم کم تھی۔ دوسرا یہ کہ یہ علاقے کراچی اور لاہور سے بہت دور تھے۔ ملازمتوں کے لیے اشتہاروں کا اتنا عمدہ نظام بھی نہیں تھا جتنا کہ آج ہے۔ ضرورت اتنی زیادہ تھی کہ جو بھی حاضر ہوا اُسے لیا گیا۔
1969ء میں ایک دفعہ پھر یہی صورت حال پیدا ہوگئی جب ون یونٹ سے چار صوبے بنائے گئے۔ پٹھان سرکاری ملازمتوں میں بہت کم تھے اور جو تھے وہ بھی نچلے درجے کے ملازم تھے۔ پنجاب کے رہائشی ملازمین مناسب تعداد میں پشاور سیکرٹریٹ نہ آسکے۔ اس طرح صوبہ سرحد کو پھر صفر سے ابتدا کرنا پڑی۔ یوں اس صوبے کے سیکرٹریٹ میں وہ کئی ایک اہم طریقے موجود نہیں جو پنجاب میں اچھے ہیں۔ پشاور سیکرٹریٹ میں سی ڈبلیو بی (کلرک ورک بک)، ایم پی آر (ماہانہ کارکردگی کی رپورٹ)، کیو او ڈبلیو (کوانٹم آف ورک) کو شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ پشاور سیکرٹریٹ معلوم نہیں کس ایکٹ، آرڈی نینس یا ریگولیشن کے تحت غیر عصری اسناد کو یونی ورسٹیوں کے جاری کردہ ڈگریوں کے برابر قبول کرتا ہے۔ جو فکری جمود سیکرٹریٹ کی اس مشکوک پالیسی نے طلبہ و طالبات میں بہ حال رکھا، وہ سب کے سامنے ہے۔ کلرک اور اسٹینو گرافرز ان باریکیوں کو شاید ہی محسوس کرتے ہوں۔ اس طرح اور بھی بے شمار معاملات ہیں جو کم عملی یا بے علمی اور قوت فیصلہ کے فقدان کی وجہ سے بارودی سرنگوں کی طرح خاموش پڑے ہیں اور کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔
اب پشاور سیکرٹریٹ جو ناموزوں افراد سے بھرا ہوا ہے، اپنے ہی ملازمین کے ایک طبقے کو بارودی سرنگ بنا رہا ہے۔ اگر تدارک نہ کیا گیا، تو یہ بارودی سرنگ خٹک حکومت کے لیے جائز مشکلات پیدا کردیں گی۔
روزنامہ چاند سوات مؤرخہ اکیس نومبر 2014ء کی ایک خبر کے مطابق آئی ٹی اسٹاف ایسوسی ایشن سول سیکرٹریٹ کی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں ملازمین کے اس طبقے نے اپنے ساتھ بے انصافی کے ازالے کی مانگ کی ہے۔ اچھی اور نیک خواہشات اور بعض عمدہ اقدام کے باوجود خٹک سرکار عوام کے دلوں میں تا حال وہ مقام پیدانہ کرسکی ہے جن کی لوگ توقع کررہے تھے۔ مجھے شک پڑتا ہے کہ اس سرکار کو بھی ’’سب اچھا‘‘ والی رپورٹیں ملتی ہیں اور حسب سابق اس حکومت کو بھی سلایا جا رہا ہے۔ سیکرٹریٹ کے اندر اور باہر کے دفاتر میں سیکڑوں نہیں بلکہ چند درجن کمپیوٹر آپریٹرز جو مناسب تعلیم اور مہارت رکھتے ہیں۔ سیکرٹریٹ ہی کے ملازمین کے ہاتھوں مراعات سے محروم ہیں۔ بہانہ یہ بنایا گیا ہے کہ کیس عدالت میں ہے۔ کل کوئی اور سیاسی جماعت خٹک سرکار کی اس غفلت کو اپنے سیاسی مقاصد کے نعروں میں شامل کرسکتی ہے۔ اسی سیکرٹریٹ کے چوتھے درجے کی سوچ اور اپروچ خٹک سرکار کے گریبان میں ڈاکٹروں کا ہاتھ ڈالوا رہی ہے۔ اس ایشو کو بھی مخالف سیاسی لوگ اپنے حق میں کیش کریں گے۔
ہم مینگورہ کے لوگ اپنے دونوں (قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے) ممبران کے خالی دامن کو دیکھ رہے ہیں۔ چند روز قبل صوبائی سرکار سے خبر آئی کہ وہ مینگورہ شہر کے چوراہوں کو خوب صورت بنائے گی اور ایک جگہ فلائی اور تعمیر کرے گی۔ کم ازکم مجھے بڑا افسوس ہوا کہ صوبائی وزیراعلیٰ کو کیوں زمینی حقائق نہ بتائے گئے۔ یہ ذمہ داری اُن کے اراکین اسمبلی کی تھی کہ اگر انتظامیہ کوئی خوش خطی کرتی، تو وہ اپنے وزیراعلیٰ کو درست صورت حال بتاتے اور وہ ایسا اعلان ہی نہ کرواتے جن پر عوام کو ہنسنا پڑتا۔
ہماری دعا ہے کہ خٹک صاحب اور اُن کے وزراء اپنے کم زور سیکرٹریٹ کی تجاویز پر کھلی آنکھوں اور کھلے کانوں سے غورکیا کریں۔ ہر رپورٹ درست نہیں ہوتی۔ ہم تعلیمی اداروں کی بد انتظامی، صحت کے اداروں کی زبوں حالی، ٹریفک کی صورت حال صوبے کی مالی وسائل کی کمی، صنعت و زراعت اور جنگلات اور دوسرے بے شمار سوشل مسائل پر پشاور سیکرٹریٹ کی طرف سے مناسب معیار اور مقدار کی تجاویز وزیراعلیٰ کی طرف جاتے نہیں دیکھتے، جو سابقہ ادوار کی بھلائی ہوگی۔ اب اُس سیکرٹریٹ سے کیسے ہم یہ توقعات رکھ سکتے ہیں جس کے مقتدر طبقے اپنے ہی ملازم بھائی بہنوں کے ساتھ عناد اور حسد کے شکار ہوں۔ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کو اس مسئلے کا خود نوٹس لینا چاہیے کہ کیوں سیکرٹریٹ کا ایک طبقہ پورے صوبے اور سیکرٹریٹ کے اندر مختلف بہانوں سے بے چینی اور ممکنہ شدید احتجاج کا جواز پیدا کررہا ہے۔ ہمارے خیال میں تو یہ ایک تنگ نظری اور تنگ دلی پر مبنی پیشہ وارانہ حسد کا عمل ہے۔
742 total views, no views today


