پشتو کا ایک ضرب المثل ہے ’’اوخہ! سہ دے نیغ دی چہ پاتے د۔۔۔‘‘ یعنی اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ نے مینگورہ کے سارے مسائل حل کر دیئے ہیں صرف جنرل بس اسٹینڈ کا مسئلہ باقی ہے۔
جن لوگوں کی نظروں کے سامنے مینگورہ شہر بہ تدریج وسعت اختیار کرتارہا ہے، وہ جانتے ہیں کہ مینگورہ بس اڈہ کن مراحل سے گزرتا ہوا موجودہ مقام تک آیا ہے۔ یہ بات کئی دفعہ دہرائی جاچکی ہے کہ مینگورہ کا پھیلاؤ غیر منظم اور بغیر منصوبہ بندی کے خود رو طریقہ سے ہوا ہے جس کی وجہ سے یہاں پر کئی مسائل نے جنم لیا ہے۔ سب سے اہم اور انسانی حیات کے لیے ضروری بات یہاں پر سیوریج سسٹم کی غیر موجودگی ہے۔ اگر یہاں ایک “Collective” اور “Encompassing” سیور لائن ہوتی اور شہر کے قدیم حصے اور جدید توسیع شدہ ٹاؤنز کو اس سے منسلک کیا جاتا، تو شہر کی ماحولیاتی آلودگی کی موجودہ گھمبیر صورت حال نہ ہوتی۔ لوگوں نے یا تو شہر کی اندرونی گلیوں کے ساتھ بنی ہوئی نالیوں کو سیور لائن کے طور پر استعمال کیا اور یا انفرادی طور پر گھروں کے اندر سپٹک ٹینک وغیرہ بنالیے۔ جب سپٹک ٹینک کسی فنی خرابی کے وجہ سے بھر جاتے ہیں، تو لوگ راتوں کو پمپ لگا کر ساری گندگی کو گلیوں میں چھوڑ دیتے ہیں۔
مینگورہ خوڑ کے دونوں اطراف میں رہنے والوں نے تو اسی خوڑ ہی کو سیوریج سسٹم میں تبدیل کردیا ہے۔
اس خوڑ کی بدنصیبی کی اس سے اور بڑھ کر کیا صورت ہوگی؟ کسی زمانے میں لوگ اسی خوڑ کا پانی پیتے اور کھانا پکانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ مکان باغ میں بعض لوگ تانبے کے بڑے بڑے برتنوں میں اسی خوڑ کے ریت سے سونے کے زرے ڈھونڈتے رہتے۔
ملا بابا کے تنگ بازار میں ایک بہت بڑے گھر میں رہنے والے حاجی صاحب بھی یہی سونے کی تلاش کا کام کرتے رہے ہیں۔ بعد میں پتہ نہیں قسمت کی دیوی اُس پر کیسے مہربان ہوگئی؟
آج کل پھر مینگورہ کی جنرل بس اسٹینڈ کی منتقلی کا غلغلہ بلند ہورہا ہے یعنی شہر کے اس گند کو کسی صاف جگہ منتقل کرکے وہاں پر گندگی پھیلانے کا منصوبہ بن رہا ہے۔ یہ تو مسئلہ کا حل نہیں کہ آپ وقت کے ساتھ ساتھ اڈے شفٹ کرتے رہیں۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا، تو ایک دن ایسا آئے گا کہ جنرل بس اسٹینڈ لنڈاکی میں ہوگا اور یہاں سے لوگ اپنے گھر تک کسی رکشے وغیرہ میں بیٹھ کر جائیں گے۔
جو کام کرنے کے ہیں، وہ تو کوئی نہیں کرتا۔ دراصل مسئلہ مینگورہ شہر میں سڑکوں کی کم یابی نہیں۔ جو سڑکیں ریاست (مرحومہ) نے بنائی تھی، وہ موجودہ آبادی کی ضروریات پوری نہیں کرسکتیں۔
اگر موجودہ سڑکوں کی توسیع ممکن نہ ہو، تو مینگورہ خوڑ کے دونوں کناروں پر کم از کم چوبیس فٹ چوڑی ایکسپریس وے بنائی جائے۔ اگر مینگورہ خوڑ کو اس کی اصل حدود مل سکیں، تو اس کا پاٹ اتنا چوڑا تھا جو موجودہ کیفیت سے دوگنے سے بھی زیادہ تھا، مگر لوگوں نے خوڑ کے حقوق ختم کرکے اس پر پلازے اور مارکیٹیں تعمیر کروائیں۔
متعلقہ حکام سے ہم دردانہ درخواست ہے کہ اڈہ کو شہر سے منتقلی کی تجویز جس فورم سے بھی آئی ہو، اس کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے کہ اس میں کہیں انٹرسٹ کا ہاتھ تو نہیں یا لینڈ مافیا تو اس تحریک کے پیچھے نہیں لگا ہوا؟
ایک دو دن پہلے راقم کو ایک محترم نے ای میل کرکے بتایا کہ نیویارک شہر کا بس ٹرمینل ایک سو پچاس سال پرانا ہے اور اس سے روزانہ سات آٹھ ہزار بسیں شہر کے مختلف اطراف کو جاتی ہیں۔ کیا سوات کی انتظامیہ میں کوئی صاحب دل ان معروضات پر ہم دردانہ غور کرے گا؟
اگر اڈے کی تبدیلی واقعی ناگزیر ہو، تو اس کو بائی پاس کے صاف ماحول کو تباہ کرنے کے بجائے مین جی ٹی روڈ پر کہیں منتقل کردیں۔ ایک اور موزوں جگہ تو شہر کے اندر بھی موجود ہے۔ جہاں پر ڈاکٹر حبیب اللہ خان کا کلینک ہوا کرتا تھا، وہاں کی ساری عمارتیں گرا کر ایک ہم وار میدان شاید تجارتی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔ اس کے آس پاس چند مزید پرانی عمارات خرید کر اسی جگہ پر بس اسٹینڈ بنادی جائے یا بس اسٹینڈ پر لوڈ کم کرنے کے لیے یہاں سے بالائی سوات اور کالام جانے والی ٹریفک وتکے اور نویکلے منتقل کی جائے۔
836 total views, no views today


