تیسری بات جھوٹ ہوتی ہے
عشق ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
یادش بخیر، یہ شعر اپنے ایک ہم دم دیرینہ سے اس وقت سنا تھا جب راقم ان کی نظر میں ’’ایجنٹ‘‘ اور استادِ محترم فضل ربی راہیؔ صاحب ’’ہرزہ سرا‘‘ نہیں تھے۔ اس ایک شعر سے ان کے ادبی ذوق کا اندازہ بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے۔ آج ایک عرصہ بعد بیٹھے بیٹھے یوں ہی یہ شعر یاد آیا اور ساتھ ہی ’’بھرے‘‘ زخم پھر ’’ہرے‘‘ ہوئے۔ آج وہ وردی والا صاحب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملنے والا جس کے بہکاوے میں آکر ہمارے اس ہم دم دیرینہ نے راقم کو ’’ایجنٹ‘‘ اور راہیؔ صاحب کو ’’ہرزہ سرا‘‘ ثابت کرنے کی تحریری کوشش میں سالوں کی رفاقت تک کی بلی چڑھائی تھی، مگر وہ ’’ایجنٹ‘‘ اور وہ ’’ہرزہ سرا‘‘ آج بھی روز اول کی طرح اپنی مٹی (وادئ سوات) کے ایجنٹ اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کی ہرزہ سرائی میں مصروف جہد ہیں۔
آمدم برسر مطلب، محترم شہزاد عالم کا مضمون ’’حقیقی قومی جرگہ کے حقیقی مطالبے،حکومت کو آگے بڑھنا ہوگا‘‘پڑھ کر منھ سے بے اختیار ہنسی نکلی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ موصوف کی یہ خوش فہمی ہے کہ ان کے قلم سے نکلا ہوا ہر جملہ اہل سوات کی امنگوں کا ترجمان ہے۔
مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ان کی ایک تحریر بہ عنوان ’نام نہاد ’’قومی جرگہ‘‘ کی اصلیت‘ سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے: ’’آپ چند لوگوں کو یہ حق دیا کس نے ہے کہ آپ بیس لاکھ عوام کی نمائندگی کی دعوے داری کر رہے ہیں؟ کیا آپ لوگوں کو سوات کے عوام نے منتخب کیا ہے یا پھر آپ بزعم خویش سوات کے عوام کے نمائندے ہیں؟ اپنے مفادات کے لیے بننے والے اس جرگے کا کوئی فیصلہ یا مطالبہ نہ تو سوات کے عوام کو منظور ہے اور نہ کوئی اس سے متفق ہے اور نہ ہی آپ لوگوں کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔ ‘‘
اقتباس میں اٹھائے گئے سوالات اگر ٹھیک مان بھی لیے جائیں، تو کم از آخری ساڑھے تین سطر سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ موصوف یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سے مفادات ہیں جس کے تحت یہ جرگہ (سوات قومی امن جرگہ) تشکیل دیا گیا ہے؟ اس طرح موصوف کو یہ کہتے ہوئے سوات کی کتنی فی صد آبادی کا اختیار حاصل ہے کہ ’’اس جرگے کا کوئی فیصلہ یا مطالبہ نہ تو سوات کے عوام کو منظور ہے اور نہ کوئی اس سے متفق ہے اور نہ ہی آپ لوگوں کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔‘‘
اسی تحریر میں لکھا گیا ایک اور جملہ ملاحظہ کیجیے: ’’مجھے کہنے دیجیے کہ یہ پختونوں کا وہ ’’جرگہ‘‘ نہیں جو عام لوگوں کی بات کرتا ہے۔‘‘ لو دسو، سوات قومی امن جرگہ کا اعلامیہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ اسے بار بار پڑھ کرمجھے کوئی ایک نکتہ بھی ایسا نہیں ملا، جس سے یہ اندازہ ہو کہ یہ عوام کا نہیں بلکہ ’’خواص‘‘ یا بہ الفاظ دیگر خان خوانین کا جرگہ ہے۔ اگر یہ واقعی خواص کا جرگہ ہوتا، تو سوشل میڈیا پر اس کی مختلف ویڈیو کلپس کے ہزاروں میں شیئرز نہ ہوتے۔ جرگہ کے اعلامیہ، خبروں اور اس کے حق میں چھاپ شدہ تحاریر پر ہزاروں کی تعداد میں لائیکس اور سیکڑوں کی تعداد میں تبصرے نہ ہوتے۔ سوات قومی امن جرگہ کی عوامی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس کی مخالفت کرنے والے لکھاریوں کو سوشل میڈیا پر ایسے آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے کہ الامان و الحفیظ۔
مذکورہ تحریر کا ایک جملہ قابل غور ہے، ملاحظہ کیجیے: ’’مجھے تو لگ رہا ہے کہ طالبانائزیشن کے دوسرے فیز میں یہاں پر خانہ جنگی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔‘‘
موصوف طالبانائزیشن کے پہلے فیز پر روشنی ڈالنا پسند فرمائیں گے کہ اس کی منصوبہ بندی کس نے کی تھی؟ برسبیل تذکرہ، فخر سوات سابقہ ہائی کورٹ جج شیر محمد خان صاحب کا مطالبہ بھی ریکارڈ پر ہے جس میں سوات میں کھیلے گئے آگ و خون پر ایک آزاد کمیشن بٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ مطالبہ انھوں نے اسی ودودیہ ہال میں چیف جسٹس کی تشریف آوری کے موقع پر کیا تھا۔ بھلے ہی آج نہ سہی، اک نہ اک دن تو آزاد کمیشن بٹھائی جائے گی۔ اگر ہم نہ رہے، تو آنے والی نسلیں تو دیکھ لیں گی کہ یہاں پر کس نے کیا قربانی دی، کس کو کس طرح قربانی کا بکرا بنایا گیا اور کس نے اس تمام تر صورت حال کا فائدہ اٹھا کر کتنا کاروبار کیا؟ ’’طالبانائزیشن‘‘ پر میں اس لیے کچھ رقم کرنے نہیں جا رہا کہ الحمد اللہ آج کسی بھی خوانچہ فروش، کسی بھی ٹیکسی ڈرائیور یا پھر کسی بھی سبزی یا فروٹ بیچنے والے سے اس حوالے سے بات کرکے دیکھ لیں، اگر آپ کے چودہ طبق روشن نہ ہوئے، تو جو چور کی سزا وہی میری سزا۔
زیر تبصرہ تحریر کی دوسری قسط میں موصوف رقم طراز ہیں کہ ’’یہ امن ہمیں خیرات میں نہیں ملا ہے۔ اس کے لیے یہاں کے تین ہزار عوام، پانچ سو پچاس فورسز اہل کاروں، ایک سو دو پولیس اہل کاروں، چار صحافیوں سمیت امن کمیٹی ممبران اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
محترم شہزاد عالم صاحب، خاکم بہ دہن یہ لفظ ’’امن‘‘ مجھے سخت کھٹکتا ہے۔ تمام تر نظریاتی اختلاف کے باوجود ضیاء الدین یوسف زئی کی یہ بات سولہ آنے ٹھیک ہے کہ ’’جسے لوگ امن کہتے ہیں وہ دراصل حکومتی عمل داری ہے جو کہ میرے خیال میں امن کی طرف پہلا قدم ہے۔میں یہ بھی کہتا چلوں کہ جو عمل داری قائم ہے وہ بندوق کی نوک پر ہے۔‘‘(ماہ نامہ شعور، جنوری 2011ء، صفحہ نمبر انتیس)
اسی صفحہ پر آگے کہتے ہیں کہ ’’جب تک کسی معاشرہ میں رہنے والوں کو ان کے تمام تر بنیادی حقوق حاصل نہ ہوں، انھیں ثقافتی، جمہوری اور خاص کر اظہار رائے کی آزادی حاصل نہ ہو۔ اس معاشرہ کو کوئی بھی ذی ہوش انسان پُرامن معاشرہ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
قارئین کرام! دنیا میں ایسے امن کی کوئی نظیر نہیں ملتی جس میں دن دہاڑے، بھرے بازار میں ٹارگٹ کلر جسے چاہے گولی سے اڑا دیتا ہے اور پھر ایسے غائب ہوجاتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ لوگوں سے بھتہ وصولی کے عوض بھاری رقوم کی فرمائشیں ایسی کی جارہی ہیں جیسے یہ شیر مادر ہو۔ اور تو اور اب تو اسکول کے پرنسپل حضرات کو ایسے خطوط ڈاگ کے ذریعے ملنا شروع ہوگئے ہیں جن میں انھیں اپنے کورس سے یہود و نصاریٰ کی کتابیں (اکسفورڈ وغیرہ) ہٹانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ایسے میں ’’سوات قومی امن جرگہ‘‘ میں ملک ریاض (پختون خوا ملی عوامی پارٹی) کی وہ ویڈیو جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے جس میں وہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ٹارگٹ کلر ایسے کیسے رفو چکر ہوجاتے ہیں کہ ہر بازار، محلے حتی کہ گلی کوچے میں ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں چھابڑی فروش، سبزی فروش، ٹیکسی ڈرائیور یہاں تک کہ خاکروب کی شکل میں موجود ہیں۔
آخر میں آتے ہیں موصوف کی تازہ ترین تحریر کی طرف جس کا عنوان ہے’’حقیقی قومی جرگہ کے حقیقی مطالبے،حکومت کو آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘ اس حوالے سے علی سکندر جگرؔ مراد آبادی کا ایک شعر عرض ہے
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
جب ’’قومی جرگہ‘‘ کے آگے لفظ ’’حقیقی‘‘ لگایا گیا، تو نہ جانے کیوں اس کی ’’حقیقت‘‘ پر شک سا ہونے لگا۔ اس کے ’’حقیقی‘‘ ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ سرکاری بندوں اور ایک ’’سبک دوش‘‘ وردی والے صاحب کا جرگہ تھا۔ رہی بات خان لالا کی، تو اس حوالے سے راہیؔ صاحب کی کہی ہوئی اک بات کوٹ کرنا چاہوں گا، جو انھوں نے ہمارے ایک جذباتی لکھاری کے حوالے سے کہی تھی کہ ’’ایک زندگی نام کمانے میں گزر جاتی ہے، لیکن اسے گنوانے کے لیے ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے۔‘‘ سوشل میڈیا اور خاص کر زما سوات ڈاٹ کام پر خان لالا کے حوالے سے لوگوں کے تبصرے اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
محولہ بالا تحریر کا یہ جملہ بالکل مبنی بر صداقت نہیں ہے کہ ’’اسی حقیقی جرگہ میں تمام سیاسی پارٹیوں، سول سوسائٹی، طلبہ،وکلاء، ممبران اسمبلی، تاجر برادری سمیت دیگر لوگوں نے شرکت کی۔‘‘ اب بارہ دسمبر دو ہزار چودہ کے روزنامہ چاند کے فرنٹ پیج پر ایک دوکالمی خبر ملاحظہ کیجیے: ’’اہم جرگہ، صرف دو ممبران اسمبلی نے شرکت کی، سوات گرینڈ امن جرگہ میں قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے پانچ ممبران اسمبلی غیر حاضر تھے۔‘‘ اب فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتے ہیں کہ کون سی اطلاع مصدقہ ہے؟
حاصل نشست یہی ہے کہ ہمارا مسئلہ چھاؤنی بننا یا نہ بننا نہیں ہے۔ اداروں اور عوام کے مابین ٹکراؤ کسی صورت ملک و قوم کے حق میں نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ کون سا جرگہ عوام کے مفاد میں ہے اور کون سا اس ملک کی اصل طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہے، یہ فیصلہ وقت کرے گا۔
مسئلہ یہ ہے کہ مجھے ’’انسان‘‘ نہیں مانا جا رہا۔ میرے بنادی حقوق کیوں بہ حال نہیں ہیں؟ اگر اس ملک کا کوئی قانون ہے، تو وہ مجھ پر کیوں لاگو نہیں ہے؟ میری زمین پر ’’ملکی مفاد‘‘ کے نام پر آگ و خون کا کھیل کھیلا گیا۔ مجھے اس کھیل کا حصہ بنایا گیا، مجھے کھلایا گیا، میرے جگر گوشوں کو مارا گیا اور اس ملک کے آئین کی رو سے مجھے یہ پوچھنے کا حق تک حاصل نہیں کہ ’’ایسا کیوں کیا گیا؟‘‘
بکھر جائیں گے ہم، کیا جب تماشا ختم ہوگا
میرے معبود، آخر کب تماشا ختم ہوگا
کہانی میں نئے کردار شامل ہوگئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا
کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
تماشا کرنے والوں کو خبر دی جاچکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا، کب تماشا ختم ہوگا
دلِ نامطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا
جو خلق اٹھی، تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا
*۔۔۔*۔۔۔*
روح المین
کیا ہم ذمہ دار نہیں؟
ہم ہمیشہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ سماج اور معاشرہ کی تمام برائیاں دوسروں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو ہمیشہ بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔ ہر ایشو پر ہم سیر حاصل بحث کرسکتے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل ہمارے پاس ہوتا ہے۔ اپنا کچھ بھی نہ ہو لیکن پرائے کا حساب کتاب کرنا ہمارا محبوب مشغلہ ہے۔ بجائے اس کے کہ اپنی ترقی و کامیابی کے لیے کوششیں اور محنت کی جائے، دوسروں کی تنزلی اور ناکامی کے لیے منصوبے بناتے ہیں۔ اوباما سے لے کر نریندر مودی، نوازشریف، آصف زرداری، عمران خان کو تمام دن جی بھر کر برا بھلا کہتے ہیں کہ سب برائیوں، نا انصافیوں، جھگڑوں کے یہ ذمہ دار ہیں۔ ہم بجلی مانگتے ہیں، لیکن میٹر لگانا، بل دینا اور اپنے گھر کے اوپر بجلی کی لائن گزرنا اور بجلی کا پول لگانا نہیں مانتے۔
سڑک مانگتے ہیں لیکن اپنے کھیت کلیان سے ایک فٹ زمین دینے کو تیار نہیں۔ ٹیلی فون کی سہولت مانگتے ہیں، لیکن گھر کے سامنے کھدائی کرنے کو تیار نہیں۔ دوسروں کے گناہوں اور نیکیوں کی ہمیں بہت فکر ہوتی ہے۔ ہر عمل، ہر کردار، ہر فن اور ہر ترقی کو ہم تعصب کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے یہ ایک تاثر بہت عام ہوگیا ہے کہ اپنے پرائے کی ترقی، دولت مندی اور خوش حالی ہم سے دیکھی نہیں جاتی۔ البتہ اُن کی تنزلی، بے عزتی اور غربت پر ہمیں دلی تسکین ہوتی ہے۔ ہمارے آگے صرف ہماری ذات ہے۔ ملک و قوم کی فلاح و بہبود، اچھائی، برائی، ترقی اور تنزلی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ہماری تربیت اس ڈھنگ سے ہوئی ہی نہیں ہے کہ ہم بہ حیثیت قوم کوئی اجتماعی سوچ اپنا لیں۔ اجتماعی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ دوسروں کے حقوق کا احساس کریں۔ اجتماعی یا مجموعی مفادات کا خیال رکھیں۔ جب بھی کوئی ایسا وقت آتا ہے، تو ہم مختلف، بے شمار، جھوٹے حیلے بہانوں کو تراش کر اُن مجموعی مفادات یا اجتماعی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو نکالنے کی ہزار جتن کرتے رہتے ہیں۔ ہم ہر وقت اپنے مفاد کا سوچتے رہتے ہیں اور یہ عادت اب اس حد تک عروج پر پہنچ گئی ہے کہ اپنے مفادات کے لیے دوسروں کی حق تلفی کرنے بلکہ جھوٹ، زور زبردستی کرنے سے ذرا بھی نہیں جھجکتے۔ ایسے حالات میں ایک قوم کی اصلاح بھلا کیسے ہوسکتی ہے؟ ہم پٹرول مہنگا ہونے کا رونا رو رہے تھے اور اسے سستا کرنے کے لیے مطالبے پہ مطالبے کررہے تھے۔ حکومت کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ حکومت کو ظالم، کرپٹ قرار دینا بہت آسان کام ہے، ہم میں سے اکثر اچھے بھلے لوگ گالیوں پر بھی اُتر آتے ہیں۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ عالمی منڈی میں تیل نرخوں کے اُتار چھڑاؤ کے تناظر میں حکومت سولہ سترہ روپے فی لیٹر کے حساب پٹرول سستا کرے گی اور ٹرانسپورٹروں کو کرایوں میں کمی کے کٹھن امتحان میں ڈال دے گی۔ کیوں کہ ہم تو اس قبیل کے لوگ ہیں کہ سب کچھ سستا ہو، آسان ہو، سہولیات ہوں، فراوانی ہو، خوش حالی، سکون اور امن و امان ہو لیکن مجھ پر کوئی بوجھ نہ آئے۔ مجھ پر کوئی ذمہ داری نہ ڈالی جائے۔ ہاں، دوسروں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ کوئی بات نہیں۔ بس میرے لائف اسٹائل اور آرام میں کوئی خلل نہ آئے۔
قارئین کرام! پٹرول سستا ہوا لیکن اب ٹرانسپورٹر حضرات کرایہ کم کرنے پر تیار نہیں۔ وہ اسی طرح پرانے کرائے لے کر غریب عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ اشیا خور و نوش اور ضروریات زندگی اسی طرح مہنگی ہیں جس طرح پہلے تھیں۔ یہی ٹرانسپورٹر حضرات تھے کہ کرایوں میں کمی کی ذمہ داری حکومت پر یہ کہہ کر ڈال دیتے تھے کہ پٹرول مہنگا ہے۔ اب جب پٹرول سستا ہوا، تو یک دم تمام گاڑیاں سی این جی پر چلنے لگیں اور ایسا راتوں رات ہوا۔ اب بہانہ یہ کیا جارہا ہے کہ سی این جی مہنگی ہے۔ اگر سی این جی سستی ہوگئی تو پھر کرایوں کی کمی پر سوچا جاسکتا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ گاڑیاں پہلے بھی سی این جی پر چلتی تھیں لیکن کرایہ پٹرول کے نرخوں کے حساب سے وصول کیا جاتا تھا۔ کیوں کہ سی این جی اور پٹرول کے نرخوں میں زمین آسمان کا فرق ہے یعنی یہ پہلے بھی جھوٹ، بے ایمانی اور دھوکہ دہی کے ذریعے عوام کو لوٹتے تھے اور اب بھی جھوٹے بہانوں سے عام آدمی کو لوٹ رہے ہیں۔ پٹرول کے نرخ سستا کرنے کا مدعا یہ ہے کہ عام لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچے جب کہ ٹرانسپورٹر حضرات سارا فائدہ اور منافع اپنی جیبوں میں ٹھونسنا چاہتے ہیں، جو سراسر ظلم ہے۔ بے انصافی ہے۔ لالچ اور موقع پرستی ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں کرایوں میں مناسب کمی ہوگئی ہے، لیکن خیبر پختون خوا میں یہ معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔ صوبائی حکومت اور انتظامیہ اسلام آباد اور لاہور کے تخت پر قبضہ کرنے سے فارغ نہیں ہیں۔
لہٰذا صوبائی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ہماری ضلعی انتظامیہ بھی اس بارے میں تساہل کی شکار ہے۔
وقت کا تقاضا ہے اور سوات کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ مقامی انتظامیہ جلد از جلد ٹرانسپورٹروں سے مذاکرات کرکے تمام سوات میں مختلف اسٹیشنوں اور فاصلوں کے لیے نئے کرایے ناموں کا تعین کرے اور پھر ان کرایوں پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔ جو نہیں مانتے انھیں جرمانہ کرے۔ لائسنس ضبط کرے یا ان کی گاڑیوں کو بند کرے۔ بعض باتیں جمہوریت یا منت سماجت سے نہیں بلکہ زور زبردستی منوانا پڑتی ہیں۔
اس حوالے سے دوسری تجویز یہ ہے کہ اب ضلع سوات کی آباد ی بہت بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا پرائیویٹ اور نجی ٹرانسپورٹ کے ساتھ صوبائی حکومت سرکاری ٹرانسپورٹ کا بھی بندوبست کرے۔ ضلع سوات کے لیے کم از کم بیس یا تیس عدد بڑی بسوں کا انتظام کرکے ہر بس کے لیے دو ڈرائیوروں اور دو کنڈیکٹروں کو بھرتی کیا جائے۔ مختلف راستوں یعنی روٹس پر ان بسوں کو چلایا جائے۔ مناسب سرکاری کرایہ مقرر کرے۔ ان سرکاری بسوں کے چلنے سے پرائیویٹ ٹرانسپورٹروں کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی اور عوام کو بھی اچھی خاصی سہولت مل جائے گی۔
مجھے یقین ہے کہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز اس پر اعتراض بھی نہیں کریں گے۔ کیوں کہ رش اتنا زیادہ ہے۔ مسافر اور سواریاں اتنی وافر مقدار میں ہیں کہ سرکاری ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ٹرانسپورٹروں کے کاروبار میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔
لیکن قارئین کرام! ضرورت آگہی کی ہے۔ اپنا اور دوسروں کا حق سمجھنے اور جاننے کی ہے۔ سچ کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی ہے اور بات اپنے ذات اور انفرادی مفادات سے ذرا آگے سوچنے کی زحمت گوارا کرنے کی ہے۔ کیوں کہ ڈھیر سارے مسائل اور مشکلات کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس موجودہ مسئلے کے ہم خود ذمہ دار نہیں؟
838 total views, no views today


