سوات کے جن لوگوں نے اہم منصب پر فائز ہوکر انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا ہے، ان میں ایک نام ڈاکٹر شیر محمد خان صاحب کا بھی ہے۔ موصوف نے طب کے شعبہ میں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ پشاور کے ارنم اسپتال کے پہلے ڈائریکٹر تھے۔ انھوں نے کچھ عرصہ ملتان میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔ جہاں ان کو لائف ایچومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ارنم اسپتال میں انھوں نے نہ صرف مریضوں کے علاج معالجہ میں کوئی کسر اٹھا رکھی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ غریب اور لاچار مریضوں کے جملہ اخراجات بھی اپنی جیب سے پورے کیے ہیں۔
برسبیل تذکرہ، ایک دفعہ بہت دور سے ایک مریضہ اپنے بیٹے کے ساتھ علاج کے لیے ارنم اسپتال آئیں۔ ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کرکے مریضہ کو کہا کہ آپ کو میں اسپتال میں داخل کردیتا ہوں۔ بے چاری مریضہ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ دوسرا یہ کہ میں اپنے بیٹے کو یہاں سے کیسے کھلاؤں گی اور اسے یہاں کہاں رکھوں گی؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں تمھارے بیٹے کو کلاس فور کی نوکری دیتا ہوں اور اسے مستقل یہاں پر رکھوں گا۔ یہ تمھارا خیال بھی رکھے گا اور اپنا خرچہ بھی برداشت کرے گا۔ پھر اس کے بیٹے سے مخاطب ہوکر کہا کہ آج سے تم اسپتال کی ڈیوٹی پر مامور ہو۔ بیٹے نے حیران ہو کر کہا کہ میں کیا کام کروں گا؟ ڈاکٹر صاحب نے اسے کام سمجھا دیا کہ جہاں پر تمھیں اسپتال کے احاطہ زمین پر پڑا ہوا کاغذ کا ٹکڑا، گنڈیریوں کا گند، کیلا کا چھلکا یا اور کوئی چھوٹا موٹا گند نظر آجائے، تو اسے اٹھاکر ڈسٹ بن میں ڈال دینا۔ یہ بہت آسان کام ہے۔ تمھیں اس کے کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوگی اور اس کے ساتھ اپنی ماں کا خیال بھی رکھنا۔ اس کے علاوہ تمھیں اور کوئی کام نہیں کرنا پڑے گا۔
قارئین کرام! مشتے نمونہ از خروارے، یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا۔ ایسی ڈھیر ساری واقعات ہیں۔ لوگ کہا کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب مریضوں کے لیے فرشتہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب صوبہ خیبر پختون خوا میں ہلال احمر کے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں اور جب امن عامہ کی صورت حال دگر گوں ہوئی، تو فاٹا کے لیے ہلال احمر کی چیئرمین شپ کے لیے کوئی تیار نہیں تھا، لیکن یہ ڈاکٹر شیر محمد خان تھے جنھوں نے گورنر صوبہ خیبر پختون خوا سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں۔ یہ ذمہ داری بھی اُٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ واضح رہے کہ ہلال احمر کی چیئرمین شپ ایک اعزازی عہدہ ہوتا ہے، جس کی تن خواہ نہیں ہوتی ہے۔ ہلال احمر کے چیئرمین شپ کے عہدے پر ڈاکٹر صاحب نے تقریباً دس سال تک کام کیا تھا۔ اس عرصے میں انھوں نے صوبے کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں اُس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے انھوں نے یہ عہدہ ایک سابق جنرل کے لیے خالی کیا ہے۔
ڈاکٹر شیر محمد خان صاحب نے دنیا بھر کی ریڈ کراس تنظیموں سے روابط استوار کرنے کے لیے مختلف ممالک کا سفر کیا اور دنیا بھر کی ریڈ کراس کی تنظیموں کو صوبہ خیبر پختون خوا کی ابتر اور جنگی صورت حال سے آگاہ کیا اور مختلف ملکوں کی مذکورہ تنظیموں سے دو طرفہ تعاون بڑھایا۔ اس وجہ سے ڈاکٹر صاحب کی خدمات جو انھوں نے دس سال میں کی ہیں، وہ مجموعی طور پر چونسٹھ سال کے پاکستان کے ہلال احمر کی کارکردگی پر بھاری ہیں۔ ڈاکٹر صاحب چوں کہ خاندانی طور پر ایک زمین دار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کو بہت کچھ دیا ہوا ہے۔ اس وجہ سے ڈاکٹر صاحب انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر شیر محمد خان نے اپنے گاؤں کوزہ درشخیلہ میں شین باغ کے نام پر بچوں کے لیے ایک اسکول قائم کیا ہے، جو گزشتہ ایک عشرہ سے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے اور بچوں کی تعلیم و تربیت اور خاص کر غریب بچوں کو مفت کتابیں، یونی فارم مہیا کررہا ہے۔ جو بچے اسکول کی برائے نام فیس دے سکتے ہیں، اُن سے فیس لی جا رہی ہے جس سے اسکول کے اخراجات پورا ہونے میں مدد مل رہی ہے، لیکن زیادہ تر ڈاکٹر صاحب اپنی جیب سے بھی اخراجات کی مد میں پیسے خرچ کررہے ہیں۔ جب سوات میں امن تھا، تو ڈاکٹر صاحب ہفتے میں غریب مریضوں کے علاج کے لیے باقاعدہ سوات بھی آتے تھے۔ اُن کی بیوی بھی ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر صاحب شین باغ کلینک کے ایک پورشن میں اور اُن کی بیوی دوسرے پورشن میں خواتین کے علاج میں مصروف رہتی۔ جب سوات دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا، تو ڈاکٹر صاحب نے علاج کا یہ سلسلہ ترک کیا۔ اب جب کہ سوات میں امن بہ حال ہے لیکن اب بھی گومگوں کی سی کیفیت ہے۔ ڈاکٹر صاحب چوں کہ ایک سماجی ورکر ہیں۔ انسانیت کی فلاح و بہبود پر یقین رکھتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے اُن کی خواہش تھی کہ ایک جرنلسٹ ایوارڈ کی بنیاد رکھی جانی چاہیے۔ اب جب کہ وہ ہلال احمر سے فارغ ہوچکے ہیں، تو اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں اور سال 2014ء کے اواخر میں وہ باقاعدہ جرنلسٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کرنے والے ہیں، جو ہر سال صحافیوں کو اُن کی کارکردگی کی بنا پر دیا جائے گا۔
جرنلسٹ ایوارڈ کے بارے میں وہ قواعد و ضوابط کو آخری شکل دے رہے ہیں۔ خدا کریں کہ وہ اپنی اس کوشش اور ارادے میں کامیاب ہوں اور ایک قابل فخر جرنلسٹ ایوارڈ کا اجراء ہوسکے۔
1,220 total views, no views today


