لاہور: پی سی بی کی نئی انتظامیہ ’’بگ تھری‘‘ کی حمایت کا فیصلہ کر چکی،البتہ اب اسے اس حوالے سے ’’بندوق‘‘ چلانے کے لیے کندھوں کی تلاش ہے۔
بعد میں یہی جواز اختیار کیا جائے گا کہ بڑی بڑی شخصیات کے مشوروں پر ایسا قدم اٹھایا گیا، اس ضمن میں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے سابق بورڈ حکام سے ملاقاتیں شروع کر دیں، گذشتہ روز لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا اور شہر یار خان سے رائے جانی گئی، اس موقع پر نجم سیٹھی نے کہاکہ بگ تھری کے معاملے پر لائحہ عمل آئی سی سی میٹنگ سے قبل ایک ماہ میں تیارکرلیں گے، سابق سربراہان سے میٹنگز کا آغاز ہوگیا، باہمی مشاورت سے فیصلہ کرتے ہوئے ملکی مفاد مقدم رکھیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سابقہ چیئرمین پی سی بی کو آئی سی سی میٹنگ میں روانگی سے قبل ہر کوئی یہی مشورہ دے رہا تھا کہ ’’بگ تھری کی حمایت نہ کرنا‘‘، جب وہ ایسا کر کے واپس آئے تو حکومت نے برطرف کر دیا اور فیصلے کی ایک وجہ آئی سی سی میٹنگ میں پاکستانی موقف درست انداز میں پیش نہ کرنا بھی بیان کی، نئے سربراہ نجم سیٹھی کے حالیہ بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی بھی اب بگ تھری کی سپورٹ کا فیصلہ کر چکا، ووٹ نہ دینے والے دوسرے ملک سری لنکا کا جوش بھی اب ٹھنڈا پڑ چکا ہے، یوں بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو بادشاہت کیلیے اب سو فیصد حمایت حاصل ہو گی۔
اس کیلیے جواز تلاش کرنے کیلیے چیئرمین نجم سیٹھی نے سابق بورڈ حکام سے ملاقاتیں شروع کر دیں تاکہ انہی کے مشوروں کو بنیاد بنا کر قدم اٹھانے کا جواز دیا جائے،گذشتہ چند روز کے دوران بگ تھری کیخلاف سخت موقف کااظہار کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا پیر کو خصوصی دعوت پر قذافی اسٹیڈیم آئے، انھوں نے اس اہم مسئلے پر پی سی بی حکام سے بریفنگ لینے کے بعد نجم سیٹھی سے کرکٹ کی بہتری کیلیے مختلف امور پر بات چیت کی، بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ نے کہاکہ بگ تھری سمیت پاکستان کرکٹ کی بہتری کیلیے مختلف معاملات پر سابق چیئرمینز اور سینئر کرکٹرز سے مشاورت کی جائیگی،آئی سی سی کے آئندہ اجلاس سے قبل لائحہ عمل تیار کرنے کیلیے ہمارے پاس ایک ماہ موجود ہے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ فی الحال بگ تھری کے معاملے پر مزید کوئی بات نہیں کروں گا تاہم کوئی بھی حتمی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کے مفاد کو اولین ترجیح دیںگے۔ توقیر ضیاکے پی سی بی سے وابستہ ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ سابق چیئرمین کے انٹرنیشنل سطح پر اچھے تعلقات ہیں،لوگ ان کی کافی عزت اور قدر کرتے ہیں،توقیرضیاکی اخلاقی سپورٹ ہمیں حاصل رہے گی، دوسری طرف مینجمنٹ کمیٹی کا رکن ہونے کی حیثیت سے ایک اور سابق سربراہ شہریار خان کی خدمات اور مشاورت ہمیں پہلے ہی حاصل ہے۔
اہم فیصلوں میں سینئرز کی تجاویز خاص اہمیت کی حامل ہوںگی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے توقیر ضیا نے کہا کہ پاکستان کرکٹ 10سال سے مشکل میں ہے، بریفنگ سے بگ تھری کے معاملے میں تازہ صورتحال سے آگاہی ملی، اس حوالے سے میرا موقف برقرار ہے، پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ سے کوئی نہیں نکال سکتا، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں لیکن کسی کی غلاموں کی طرح نوکری بھی نہیں کرنی چاہیے، انھوں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق آئی سی سی میں بھی اچھے لوگ ہیں، ان سے بات چیت کرکے بہتر لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے، ابھی ہم باہمی مشاورت میں بھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچے تاہم فیصلہ پاکستان کرکٹ کے مفادات کیخلاف نہ ہونا چاہیے۔ پی سی بی میں بار بار اکھاڑ پچھاڑ کے سوال پر توقیر ضیا نے کہاکہ چیئرمین کوئی بھی ہو اسے کرکٹ کی بہتری کیلیے کام کرنے کا مناسب وقت ملنا چاہیے، 2،3یا4 ماہ والی روایت ختم کی جائے،نجم سیٹھی کی قابلیت پر کوئی شک نہیں، وجہ سمجھ نہیں آتی کہ انھوں نے کیوں چیئرمین بننا قبول کرلیا،ان کے منصوبے اچھے ہیں، فرق مشورے دینے والوں کا پڑتا ہے،دیکھنا یہ ہے کہ مختلف معاملات کو کیسے چلاتے اور اچھی تجاویز پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔
950 total views, no views today


