سوات (سوات نیوز)سوات پولیس سٹیٹ میں تبدیل ٗ صحافیوں کی کوریج پرپابندی، ٹی او کاڈی سی سوات کاحکم ماننے سے انکار، صحافیوں کو مینگورہ میں داخل ہونے سے روک دیاگیا، سینئرصحافی سے پولیس کی بدتمیزی، ٹی او آپے سے باہر، ڈی پی او کاحکم ہے کہ میڈیا کے نمائندوں کو ناکوں پر روکاجائے، ہم ڈی سی کے حکمکی نہیں ڈی پی او کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور ان کو جواب دہ ہے، ڈی پی او کاحکم ہے کہ صحافی ہویاکوئی اوران کو گذرنا نہ دیاجائے، تفصیلات کے مطابق لاک ڈاؤن متاثرہ لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے بعد اب پولیس آپے سے باہر آکرصحافیوں کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیارکررہاہے، اوربات اب جنگ جھگڑے تک پہنچ گئی، کیونکہ کسی ناکے پر گزرتے وقت پریس یامیڈیا کارڈ پولیس کو دکھانا جرم بن گیاہے اور اس طرح کا ایک واقعہ پیرکو دوپہر تقریباً ایک بجکر 45منٹ پر اس وقت پیش آیا جب سوات کے سینئرصحافی اور پریس کلب کے وائس چیئرمین غفورخان عادل گھرسے ڈیوٹی کے لئے آرہے تھے جب وہ جس رکشہ میں بیٹھ کر مینگورہ کے طرف آرہاتھا، تو مینگورہ بائی پاس چوک (نزد پرانہ پولیس لائن) پرٹریفک پولیس نے ان کو روک دیا، غفور خان عادل نے پولیس کے ساتھ اپناتعارف کرایا۔ اوران کو میڈیا کارڈ بھی دکھایاہے اور جونہی اس نے میڈیا کانام سنا اور کارڈ دیکھا تو وہ آگ بھگولہ ہوگئے اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ڈی پی او کے حکم پر میڈیا کو اجازت نہیں ہے، ٹی او افتخار کارویہ انتہائی غیرمناسب اور جارحانہ تھا، جب صحافی نے ان کو بتایا کہ ان کو ڈیوٹی اورکوریج کے لئے باقاعدہ طورپرصوبائی حکومت اورڈپٹی کمشنر سوات نے اجازت دے رکھی ہے۔ ہم قانون کااحترام کرتے ہین باقاعدہ کوریج کی اجازت کے بعد ہم اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں لیکن مذکورہ پولیس آفیسر بدستور اپنے بات پر بضد تھے اور کہا کہ وہ کسی ڈی سی کاحکم نہیں مانتے ہم اپنے ڈی پی او کے حکم کی تعمیل کرینگے اور ان کا یہ حکم ہے کہ آپ لوگوں کو جانے نہیں دیاجائیگا، آپ وزیراعظم یاصدر ٹرمپ سے بھی بات کرلیں لیکن ہمارا یہ موقف ہے۔ اس دوران دوسرے ٹریفک پولیس بھی آئے اور مذکورہ ٹی او سے کہا کہ یہ صحافی جاناپہچانا ہے ان کو جانے دو۔ لیکن وہ اپنے مؤقف پر بضد تھے، اس شخص نے چوک میں ایک تماشہ لگارکھاتھااورزور زور سے چلاکرتے، ہوئے آواز بلند چیخ رہے تھے کافی لوگ مین چوک پر اکھٹے کردئے کہ اس دوران ایک دوسرے پولیس والے نے صھافی کو جانے دیا اس طرح دیگرناکوں پربھی صحافیوں کیساتھ اس قسم کے واقعات رپورٹ ہوتی ہے واضح رہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کا صحافیوں کیساتھ انتہائی نامناسب رویہ رہا ہے اور اب تو ان کو باقاعدہ طور پر کوریج سے روکا جارہاہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے جبکہ عام لوگوں کے ساتھ جارحانہ رویہ اوران پر تشدد کرنے کے واقعات کے بعد سوات مکمل طورپرپولیس سٹیٹ میں تبدیل ہوچکاہے اور اس طرح کے واقعات پر انتظامیہ اورپولیس حکام کی خاموشی بھی قابل تشویش ہے اگر مذکورہ پولیس افتخارکے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو پھرسوات میں صحافیوں کو اپنے فرائض میں مشکل آئے گی صحافیوں نے مذکورہ ٹریفک پولیس کیخلاف کارروائی کامطالبہ کیاہے۔
888 total views, no views today



