سوات(سوات نیوز) تحصیل بحرین کے علاقہ مانکیال سے تعلق رکھنے والے کبیر نامی ایک نوجوان جوکہ احساس/ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مانکیال وادی میں ایجنٹ ہیں نے کالام پریس کلب کو فون پر بتایا کہ پروگرام شروع کرنے سے قبل علاقہ مشران نے ان کے ساتھ دو سو روپے فی ٹرانسیکشن کٹوتی کا تحریری معاہدہ کیا تھا۔ کٹوتی کی تمام تر وجوہات مشران علاقہ کو بتایا گیا تھا کہ بینک الفلاح فی ٹرانسیکشن تمام تر ٹیکسز کی کٹوتی کے بعد صرف 24 روپے فی ٹرانسکیشن ادا کررہی ہے اور وہ بھی مہینے کے آخر میں۔ ان کے بقول چار دنوں میں بشمکل 200 ٹرانسیکشن ممکن ہوسکی ہے۔
جبکہ دوسری طرف پوائنٹ چلانے کے لئے دو مزید افراد کو آٹھ سو روپے روزانہ کی اجرت پر رکھے گئے ہیں، جن میں سے ایک کو پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث روزانہ کی بنیاد پر چار ہزار فی ٹرپ کے حساب سے خصوصی گاڑی ہائر کرکے الفلاح بینک منگورہ جانا پڑتا ہے، جبکہ دوسرے کو ٹرانسیکشن آئی ڈی سنبھالنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام سٹاف اور ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کا کھانا پینا بھی ان کو برداشت کرنا پڑرہا ہے، جبکہ چار دنوں میں ابھی تک بشمکل 200 ٹرانسیکشن ممکن ہوسکی ہے۔ جوکہ الٹا مالی نقصان کا سبب بن رہی ہے، تاہم قوم کے ساتھ معاہدے کے تحت ہمیں ہر صورت میں یہ پوائنٹ چلانی پڑ رہی ہے۔
انہوں نے اپنی فریاد سناتے ہوئے بتایا کہ ان چار دنوں میں مجھے جو ذہنی اذیت دے دی گئی، اس سے قبل کسی نے نہیں دی تھی۔ ایک طرف پی ٹی آئی کے کارکنان آکر دھمکاتے ہیں، دوسری طرف سیکرٹری سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر اور اے ڈی کی جانب سے مسلسل فون پر تنگ کیا جارہا ہے۔ ان کو قانونی پیچیدگیوں اور جرگے کے فیصلوں کے بیچ بری طرح پھنسادیا گیا ہے۔
آج ان کی اسسٹنٹ کمشنر بحرین سکندر خان اور اے ڈی کے ساتھ پیشی ہے اور اصل حقائق سے آگاہ کرنا ہے۔
انہوں نے قوم کے ساتھ تحریری معاہدہ بھی میڈیا کے ساتھ شریک کیا اور ڈی آئی جی ملاکنڈ اعجاز خان سے معاملے کی انکوائری کا مطالبہ کرلیا ہے۔
دوسری طرف سول سوسائٹی کے افراد نے ایجنٹس کے ساتھ کمیشن پر انوسٹمنٹ کرنے والوں کو بھی سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے اور احساس پروگرام میں قانونی پیچیدگیوں اور جرگے کی اصل ذمہ داریوں کے تعین کا بھی مطالبہ کرلیا ہے تاکہ مستحقین کی مشکلات بھی دور ہو اور ایجنٹس کو بھی پھنسانے سے بچایا جاسکے۔
1,398 total views, no views today



