سولہ دسمبر بہ روز جمعرات شیخوپورہ میں اپنے بھائیوں جیسے دوست اعجاز احمد بھٹی کے ڈھیرے پر بیٹھا تھا اور ان کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا کہ ٹی وی چینل آن کرتے ہی پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے دل خراش واقعے کو دیکھ کر بے اختیار منھ سے نکلا کہ یا اللہ، ننھے فرشتوں کی حفاظت فرما، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ننھے پھولوں کی شہادت کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ تعداد بیس تک پہنچنے کے بعد دوستوں سے بہ امر مجبوری اجازت لی اور اپنے سوات واپس روانہ ہوا۔ راستے میں اقبال حسین صاحب اور دیگر دوست وقفے وقفے سے مجھے باخبر رکھتے رہے۔ پھر جب میں رات کے بارہ بجے سوات داخل ہوا، تو ایک سو تریالیس ننھے فرشتوں کی شہادت اور ایک سو پچاس سے زاید کی اطلاع سن کر اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکا۔ جس وقت اسکول دھماکہ کی خبر ملی، تو میری نظروں کے سامنے میرے بچوں انشاء، اذلان، اذان اور انمول کے چہرے گھومنے لگے۔ جب میری حالت غیر تھی، تو ان والدین پر کیا بیتی ہوگی، جن کے بچے اس اسکول میں موجود تھے اور حملہ آوروں نے انکو یا تو مار دیا تھا یا وہ پھول ان کے پاس یر غمال تھے۔ ٹی وی اسکرین پر والدین کی دھاڑیں مار مار کر رونے اوران کی چیخ و پکار کی فوٹیج دیکھنا بڑے دل گردے کا کام تھا۔ ایک طرف ان ننھے فرشتوں کی آہ و بکا، ان کے زخموں سے چور جسم، کیا ان حملہ آوروں یا ان کے ماسٹر مائنڈز کے سینوں میں سوئیوں کی طرح نہیں چھب رہے تھے؟
قارئین کرام! سوات میں اپنی پیشہ ورانہ ڈیوٹی کے دوران میں، مَیں نے ڈھیر سارے واقعات دیکھے۔ حاجی بابا اسکول میں ایک ساتھ باسٹھ لاشیں اور سو سے زاید زخمی، مٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکہ میں بکھری پڑی لاشوں کو میں نے اس وقت بھلا دیا جب ایک بنجارن میرے سامنے دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی اور چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ میری معصوم بچی کہاں گئی؟ جب میں نے ساتھیوں سمیت زمین پر پڑی چھت اٹھا لی اور اس کے نیچے معصوم بچی کی کئی ٹکڑوں میں تقسیم لاش دیکھی، تو میں اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔
کون وہ لمحے بھلا سکتا ہے جب سوات میں شام ہوتے ہی صف ماتم بچھ جاتی تھی۔ مگر سانحۂ پشاور نے ایک بار پھر ان اجڑے گھروں کی یادیں تازہ کردیں جب حاجی بابا میں ہونے والے خودکش دھماکہ میں مکانباغ کے پینتیس خاندان اجڑ گئے۔ آج پشاور کے ایک سو پچاس سے زاید گھروں میں وہی حال ہے۔ درجنوں ماؤں کی گود اجڑ چکی ہے۔ پھولوں کے شہر کا سینہ چھلنی ہونا اس پر مستزاد۔ نتیجتاً ایک سو پچاس بچے کئی خواب آنکھوں میں سجائے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ صرف چھے حملہ آوروں نے مملکت خداداد سمیت پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کتنا مشکل وقت ہوتا ہوگا وہ جب بچوں کو والدین کے نام لے لے کر قطاروں میں کھڑا کیا جارہا تھا۔ پھر جب ان لوگوں کے پاس کارتوس ختم ہوگئے، تو کیا ان معصوم بچوں کو ذبح کرتے وقت ان کے دل میں کوئی ترس نہیںآیا ہوگا؟ کیا یہ اتنے ظالم تھے، کیا ان کے اپنے بچے نہیں تھے؟ اور تو اور اس اسکول کی پرنسپل کو تو جلاتے وقت ان کے دل میں یہ بھی رحم نہ آیا کہ وہ ایک خاتون ہے۔ کئی دوستوں نے سمجھایا کہ اس ایشو پہ نہ لکھو۔ تمھاری زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے لیکن موت کا ایک وقت مقرر ہے اور مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے اور میں نہیں لکھوں گا تو کون لکھے گا؟ کسی نہ کسی نے تو قربانی دینی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں ہزاروں لوگوں نے قربانی دی، تو اگر ایک میں نہ رہوں گا، تو کیا ہوجائے گا لیکن اس واقعہ پر خاموش رہنے والا بھی بزدل ہی ہوگا۔ سیاچن واقعہ کے بعد پشاور سانحے نے پوری قوم کو متحد کردیا ہے۔ سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ سیکڑوں مقامات پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ریلیاں نکالی گئیں۔ سوات کے عوام پر ہونے والے ظلم میں کسی نے یہاں کے عوام کے لیے آواز نہیں اٹھائی۔ لیکن سوات کے عوام اس ملک کے عوام ہیں۔ محب وطن ہیں اور اپنے ملک کے بچوں اور بچیوں کو تن تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم بھی والدین ہیں۔ ہمارے بھی بچے ہیں۔ خدا نہ کرے، اگر ہم کو ایسا دن دیکھنا پڑاتو ہماری کیا حالت ہوگی؟ کیا ان حملہ آوروں میں سے کوئی مجھے یہ بتا سکتا ہے کہ ان معصوم بچوں کا گناہ کیا تھا؟ کیا انھوں نے طالبان کے خلاف آپریشن کی حمایت کی تھی؟ کیا ان بچوں نے ان کو نقصان پہنچایا تھا؟ سوات کی سول سوسائٹی، وکلاء، اسکول کے طلبہ و طالبات سمیت ضلع سوات کے مؤثر ’’قومی امن جرگہ‘‘ نے اس سلسلے میں بھرپور آواز اٹھائی اور اس سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔قرآن خوانی اور دعا خوانی کا اہتمام کیا گیا اور دہشت گردی کی جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے کا بھی عزم کیا، لیکن آج مجھے سوات آپریشن کے دوران میں اے ار وائی نیوز کا وہ پرومو یاد آرہا ہے کہ وہ بچیوں سے بھی ڈر گئے۔یہ خبریں ہمارے ان حملہ آوروں کے سامنے سے نہیں گزری ہوں گی۔جب ننھا عباس صبح کی نماز پڑھ کر پہلی بار اپنے ابو سے اسکول جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ کیوں کہ اس کا ابو دیر سے اٹھنے کا عادی تھا۔ اس روز اس کا والد اپنے بیٹے کو آخری آرام گاہ میں جانے کی اجازت دیتا ہے۔ آج کوئی بھی نہیں جو اس گھر میں جھانک کر دیکھے کہ ان والدین پر کیا گزر رہی ہے۔ اس کی والدہ کو آج دلاسہ دینے والا بھی کوئی نہیں۔ ایک ہی ساتھ اسکول آنے اور جانے والے ذوالقرنین اور نصر اللہ کو ایک ساتھ ہی جنت کا ٹکٹ دے دیاجنت کے ٹھیکے داروں نے۔ ان میں اتنی گہری دوستی تھی کہ حملہ آور موت پر بھی انھیں جدا نہ کرسکے۔ معصوم تیمور خان جو بڑا ہوکر فوجی آفیسر بننا چاہتا تھا، وہ یہی ارمان دل میں لیے اس فانی دنیا سے چلا گیا۔ موت تو ایک دن آنی ہے، لیکن وہ ایسی موت لے کر چلا گیا جس کے لیے دنیا کا ہر انسان ترستا ہے۔ کیوں کہ شہید مرتا نہیں ہے اور آج ان کے والدین ان کے صدمہ میں بے حال ہیں۔ آج اسد عزیز کے ماں پر کیا گزرتی ہوگی کہ وہ نیا سویٹر پہننے کی حسرت دل میں لیے اس فانی دنیا سے رخصت ہوا۔ اس کی ماں خون کے آنسو رو رہی ہے۔ اس کا کیا قصور تھا، کیا بتا سکتے ہیں آپ؟
دسویں جماعت کا عبداللہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کا شوقین تھا اور ہر وقت اپنے بلے سے کھیلتا تھا۔ آج اس کے بلے کو دیکھ کر اس کی ماں پر کیا گزر رہی ہے؟ تحصیل کبل کے رہائشی آرمی پبلک اسکول کے ٹیچر مدثر خان کا کیا قصور تھا؟ کیا اس کے رشتہ دار بھی آرمی میں تھے یا اس نے سوات آپریشن میں طالبان کے خلاف کردار ادا کیا تھا؟ اس کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت اور گارڈ آف آنر پر پورے سوات کے عوام نے اس جیسی شہادت ملنے کی خواہش ظاہر کی۔
کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ان معصوم فرشتوں کا گناہ کیا تھا؟ ہے کسی کے پاس اس بات کا جواب؟ اس واقعہ نے پورے ملک کے عوام کو ایک بار پھر اکٹھا کردیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کا عزم کیا ہے۔ یہ بھی دعا کر رہے ہیں کہ اللہ اس ملک کو امن کا گہوراہ بنا ئے اور ہمیں ایک پر امن ملک کے شہری بنائے، تاکہ ہم سے دہشت گردی کا لیبل ختم ہوسکے۔
744 total views, no views today


