سوات(سوات نیوز)کرونا خدشات،چالیس روز بعد بھی ٹرانسپورٹ کا پہیہ نہ چل سکا،ہزراوں ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے،عوام کو آمد و رفت میں بھی شدید مشکلات کا سامنا،بالائی علاقوں کے عوام کو مینگورہ سے زمینی رابطہ منقطع،سوات میں کرونا وائرس کے پھیلاو کے خدشے کے پیش نظر 15 مارچ سے سوات سمیت ڈویژن بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کی گئی اور اہستہ اہستہ لاک ڈاون میں نرمی کی گئی لیکن چالیس روز گزرنے کے باوجود پہیہ چالو نہ ہوسکا اور ٹرانسپورٹ پر پابندی کا خاتمہ نہ ہوا جس سے ایک طرف مینگورہ شہر میں گاڑیوں پرپابندی سے سینکڑوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں تو دوسری طرف ضلع بھر کے بالائی علاقوں مٹہ،خوازہ خیلہ،الپوری،کالام،بحرین،مدین،سمیت شانگلہ اور دیگر علاقوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،سوات سے پشاور،اسلام آباد،لاہور،کراچی اور دیگر شہروں کو بھی ٹرانسپورٹ پر پابندی ہے جس سے شہر میں ویرانی پڑ گئی ہے اور ان علاقوں کو جانے والے افراد ضروری کام کے سلسلے میں ہزاروں روپے پر پرائیویٹ گاڑیاں بک کر لیتے ہیں جبکہ غریب لوگوں کے جانے کا کوئی انتظام نہیں،عوامی حلقوں اور ٹرانسپورٹروں نے حکومت سے فوری مداخلت اور اصلاح و احوال کا مطالبہ کیا ہے۔
سوات ٹرانسپورٹ یونائیٹیڈ گروپ کے صدر مشتاق احمد سوات خان نے کہا ہے کہ سوات کے ٹرانسپورٹروں کے ساتھ ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے اور ان ہزاروں خاندانوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور انکے بچے فاقوں پر مجبور ہے،میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سوات میں کرونا وباء کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ پر گزشتہ چالیس روز سے مکمل پابندی عاید ہے اور لوکل علاقوں سمیت دیگر شہروں کو جانے والے گاڑیاں بھی گیراجوں میں بند پڑی ہے اور مزدور بے روزگار ہے انہوں نے کہا کہ سوات میں ٹرانسپورٹ سے ہزراوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے جس کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور ان کے بیوی بچے فاقوں پر مجبور ہے انہوں نے کہا کہ ایسے ٹرانسپورٹر ز بھی ہے جنہوں نے قسطوں پر گاڑیاں لی ہے اور ان کے اوپر قسط بھی چڑھتے جا رہے ہیں لہذا حکومت سوات میں ٹرانسپورٹ کھولنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں تاکہ انکا زریعہ معاش کا بندوست ہوسکیں۔
691 total views, no views today



