میں نے ملالہ یوسف زی اور ضیاء الدین یوسف زئ کے بارے میں نہیں لکھنا تھا۔ کیوں کہ عرصہ ہوا میں نے اپنے گانشال والے آرٹیکل میں ان کے بارے میں ذکر کیا تھا۔ بس پھر کیا تھا اچھا بھلا دوست ناراض ہوکر آج تک چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہے،لیکن آج شہزاد عالم صاحب کے آرٹیکل ’’ملالہ کو نوبل پرائز مبارک!‘‘ پڑھا، تو میں حیران ہوا کہ ابھی دس دسمبر کو نوبل پرائز ایوارڈ ملالہ کو ملنے کی خوشی میں کافی دوستوں کو مبارک باد کے برقی پیغامات بھیج چکا ہوں۔ اس میں ایک پیغام میں نے شہزاد عالم صاحب کو بھی بھیجا تھا، لیکن ان کی طرف سے جواب نہ دارد۔ آج انھوں نے ملالہ کو مبارک باد دے ہی ڈالی۔
میں نے اس دن کے اخبار میں وسعت اللہ خان کا کالم ’’پانچ انڈے کتنے کے؟‘‘ بھی پڑھا۔ اس موقع پر سوچ رہا تھا کہ امریکہ میں بھوکے کو کھانا کھلایا جاتا ہے اور یہاں اپنوں کے کپڑے اتارے جاتی ہیں۔ شہزاد عالم صاحب کے قلم کی دھار تلوار سے بھی تیز ہے۔ تلوار کی کاٹ سے زخمی تو سنبھل جاتا ہے، لیکن قلم کی کاٹ سے جو زخم لگتا ہے، وہ مندمل ہونے کا نام نہیں لیتا، لیکن شاید شہزاد عالم صاحب کو اس بات کا احساس نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے کالم میں طنز کے ایسے تیر چلائے ہیں کہ خدا ان سے دشمن کو بھی بچائے رکھے۔ مذکورہ آرٹیکل میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دو افراد کو بہ یک وقت مذکورہ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہاں اگر میں غلطی پر نہیں ہوں، تو انڈیا کے احتجاج پر کیلاش کو بھی پاکستان کے ملالہ کے برابر لا کھڑا کیا گیا۔‘‘
شہزاد عالم صاحب! ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ 1979ء کو ڈاکٹر عبدالسلام پاکستانی سائنس دان کے ساتھ یورپ کے دو اور سائنس دانوں کو نوبل پرائز سے نوازا جا چکا ہے۔ کیوں کہ یہ تینوں سائنس دان ایک ہی نظریے پر کام کررہے تھے۔ ہاں یہ بات آپ کی صحیح ہے کہ انڈیا کو خوش کرنے کے لیے کیلاش ستھیارتی کو شامل کیا گیا تھا۔ بھارت یہ کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ پاکستان کو نوبل پرائز ایوارڈ ملے اور اسے نہ ملے۔ سو انڈیا کو بھی نوازا گیا۔ اصل ایوارڈ تو پاکستان کا تھا۔ اور ’’اوسلو‘‘ میں ایوارڈ کی تقریب میں جو توجہ ملالہ کو دی گئی تھی، اسے ٹیلی وژن کے پردہ پر ہر کسی نے ملاحظہ کر لیا ہے، جو عزت ملالہ کو نصیب ہونا تھی، نصیب ہوئی۔ تقریب میں راحت فتح علی خان کی گائیکی اور محترم سردار علی ٹکر کا کلام سننے پر ہر کسی نے داد دی ہوگی۔ ملالہ کی خود اعتمادی اور تقریر کا منفرد انداز قابل تحسین تھا۔ گو کہ میں ٹیلی وژن کے اسکرین پر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا لیکن مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ گویا میں بھی اس تقریب کا حصہ ہوں۔ میں نے خوب لطف اٹھایا۔
شہزاد عالم صاحب! اس آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ ’’ملالہ نے اپنی قومی زبان اُردو کونظر انداز کرتے ہوئے انگریزی میں تقریر شروع کی اور خاتمہ بھی انگریزی ہی میں کیا۔‘‘ اس بارے میں شہزاد عالم صاحب سے عرض کرتا ہوں کہ جب صدر ایوب خان کے دورِ حکومت میں چین کے وزیراعظم آنجہانی چواین لائی پاکستان آئے تھے، تو لاہور کے ائیر پورٹ پر چند صحافیوں نے انگریزی میں اُن پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ چواین لائی صاحب چینی زبان میں صحافیوں کو جواب دے رہے تھے۔ اس پر ایک صحافی نے عرض کیا کہ جناب انگریزی میں جواب دیجیے، تو پتہ ہے چواین لائی نے کیا جواب دیا تھا؟ یہی کہ ’’چین گونگا نہیں ہے۔‘‘
دنیا کا ہر آزاد اور خود مختار و باوقار ملک اپنے قومی زبان میں ’’یو این او‘‘ میں خطاب کرتا ہے اور دوسرے ملکوں کے دوروں میں اپنی زبان میں بات چیت کرتا ہے اور ترجمان اُس کے ترجمے کرتا رہتا ہے۔ لیکن ایک پاکستان کے حکم ران ہیں کہ انگریزی میں بات چیت کرتے ہیں اور ’’یو این او‘‘ میں تقریریں بھی انگریزی میں کرتے ہیں، تو یہاں میں چواین لائی کی بات کو ترجیح دوں گا کہ چین واقعی گونگا نہیں ہے لیکن ’’پاکستان پیدائشی طور پر گونگا ہے۔‘‘ اس کی اپنی زبان نہیں ہے۔ اس لیے یہاں کے حکم ران انگریزی میں دوسرے ملکوں میں بات چیت اور تقاریر کرکے پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ بجا ہوگا کہ اس انگریزی نے پاکستان کو غلاموں کا غلام بنا دیا ہے اور پاکستان کی ترقی کا گلاگھونٹ دیا ہے۔
’’بھلا گونگا بھی ترقی کرسکتا ہے۔‘‘
1,296 total views, no views today


