اب کی بار آرمی پبلک اسکول پشاور ’’زمینی عزرائیلوں‘ ‘ کا ’’میدانِ کارِزار‘‘ بنا۔ یوں کوئی ’’ڈیڑھ سیکڑہ‘‘ مجرم بچوں،درجنوں خطا کار اساتذہ اور دیگر گناہ گار ملازمین کی جانیں قبض کی گئیں۔ ان کا جرم، خطا اور گناہ یہ تھا کہ وہ پختون خوا میں پیدا ہوئے اور پھر خواہ مخواہ مسلمان پیدا ہوئے۔ جملہ معترضہ سہی، اب پختون خوا کا نام تبدیل کرکے ’’خون خواہ‘ ‘ رکھنے میں ہے کوئی حرج؟ اگر چینج لانا لازم ہو، تو ابتدا نام سے کیوں نہیں؟
ہاں، تو وقوعہ کے ساتھ ہی ٹیلی ویژن پر ’’لیڈرانِ کرام‘‘ نے شدید ترین مذمتیں اُگلیں۔ دہشت گرد بندوق سے آگ برسا سکتا ہے، تو ’’ریاست گرد‘‘ زبان سے کیوں نہیں؟ آخر ’’توپِ دہن‘‘ اور کس دن کام آئے گا؟ ایک طرف خود کُش ہیں، دوسری طرف’’لفظ کُش‘‘ ہیں۔ وہ لوگوں کو اُڑاتے ہیں یہ لفظوں کو۔ آخر کوئی چیز دونوں فریقوں میں مشترک تو ہے نا۔ ہمیں اپنے وطن کے ’’کرتوں دھرتوں‘‘ کے کرتوتوں پر ناز ہے کہ وہ مذمت کرنے کی دوڑ میں، واقعی ’’دوڑاکو‘‘ واقع ہوئے ہیں۔ سنا ہے کہ ایک واقعہ کی مذمت اور دوسرے واقعہ کی مذمت کے بیچ وقفہ کچھ زیادہ ہو جائے، تو ان کی بے چینی بڑھ جاتی ہے اور پیٹ میں ’’مذمتی مروڑ‘‘ اُٹھنے لگتے ہیں۔ بعید نہیں کہ اس مذمتی مروڑ کے ’’اخراج‘‘ کے لیے یہ لوگ مزید نت نئے مواقع ایجاد کرلیں۔ مثال کے طور پر کسی کی بہ قضائے الٰہی وفات ہونے پر ’’جنت رسیدہ‘‘ کے خاندان کی لاپروائی پر مذمتی قرار داد کی منظوری۔ بچے کاوقت پر ختنہ نہ کرنے پر مذمتی بیان کی ڈسٹری بیوشن۔ کسی کی شادی میں شادیانے بجانے پر مذمت۔ کھانا وقت پر نہ ملنے پر مذمتی پریس ریلیز کا اجراء۔ کسی کو تھپڑ مارنے پر زبانی مذمت و سرکوبی کا تھریٹ۔
ہم تو مستقبلِ قریب میں’’مذمت‘‘ کے نام سے اسپیشل چینلز، ایکس کلوزیواخبار، اسپیشل نیوز ایجنسیز وغیرہ کا بڑھتا چڑھتا اسکوپ دیکھ رہے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اب کے برس مذمت کے مناسب الفاظ کے چناؤ کے لیے خصوصی مشیروں اور فارن کانسلٹنٹس کی ڈیمانڈ اچانک بڑھ جائے گی۔ ہم خود ’’مذمت آن لائن‘‘ کا ویب سائٹ لانچ کرنے میں شدید دل چسپی رکھتے ہیں۔ کاروباری دنیا اِلرٹ رہے، اسٹاک ایکسچینج میں کسی وقت ’’مذمت‘‘ کے شیئرز بھی جاری کیے جاسکتے ہیں۔
اسکول، کالج، یونی ورسٹی وغیرہ میں لفظ مذمت کے مختلف النوع پہلوؤں پر ریسرچ کرنے کے لیے ڈگری کورس کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔
ویسے مذمتوں کے یہ ٹھیکے دار صاحبان مذمتی بیان جاری کرنے کی فیس بھی فکس کرسکتے ہیں۔ بہ ذات خود ہمیں لفظ ’’مذمت‘‘ کے معنی کا پتہ نہیں تھا۔ اس کی اوقات سن کریہ جاننے کے لیے ڈکشنری کا رُخ کیا کہ آخر اس کا مطلب کتنا ’’بم خیز‘‘ ہوگا؟ سادہ الفاظ میں’’مذمت‘‘ ملامت کو کہتے ہیں۔ یعنی غلط کام پر کسی کو ملامت کرنا۔ انگریزی میں اس لفظ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے۔
Condemnation is the act of declaring something awful or evil. If your little brother does something unspeakably awful,
express your condemnation so he will learn not to do it again
’’یعنی مذمت کسی چیز کو برا یا خوف ناک قرار دینے کے عمل کو کہتے ہیں۔ اگر آپ کا چھوٹا بھائی کوئی برا کام کرے، تو اس پرمذمت کا اظہار کریں۔ لہٰذا وہ سیکھ جائے گا کہ وہ دوبارہ ایسا کام نہ کرے۔‘‘
یہ ہے ڈکشنری میں لفظ مذمت کا مطلب اور اس مطلب سے یہ جاننا چنداں مشکل نہیں کہ ہمارے سیاست دان کیوں اس کے ’’اِڈیکٹ‘‘ ہو گئے ہیں۔ کیوں کہ اس میں دینا کچھ نہیں اور داد لینے کے بے تحاشا مواقع ہیں۔
بہ ہر حال اس ’’روح فرسا‘‘ سانحہ کے بعد مبلغ تین دن کے سوگ کا اعلامیہ جاری ہوا۔ یاد رہے کہ سوگ میں جھنڈا سر نگوں رکھا جاتا ہے۔ پتہ نہیں حکم ران سوگ میں اس کوکیوں سر نگوں رکھتے ہیں، اپنے سروں کو کیوں نہیں؟ غم اور دکھ کی اس گھڑی میں حسبِ سابق و حسبِ ہدایت وزیر اعلیٰ صاحب، جو ’’دھرنا مرحوم‘‘ کے ’’پاز پیرڈ‘‘ میں فوری آ وارد ہوئے اور ازاں بعد دھرنا پارٹی میں جا نازل ہوئے، نے پانچ لاکھ روپے فی عدد شہید (سرہانے رکھنے کے لیے) اور دو لاکھ فی نفر گولیوں سے چھلنی افرادکو ’’انعام‘‘ دینے کا ’’عندیہ‘‘ دے ڈالا ہے۔ وزیرِ اعظم نے قیمتی جان جوکھوں میں ڈال کر پشاور میں کچھ وقت بسیرا کیا، جہاں پر میاں صاحب نے مارے خوشی کے خان صاحب کے ساتھ کنٹینر پر جانے کی ضد کی، لیکن زخمیوں کی عیادت نے یہ خواہش پورا نہ ہونے دی۔
آل پارٹیز کا ایمرجنسی اجلاس پشاور میں بلایا گیا جس میں موجود سیاست دانوں نے حصہ بہ قدرِ جثہ اپنے تاثرات کا عین اُس انداز میں اظہار کیا ’’ہے گا‘‘، جس انداز میں پچھلے اے پی سی میں کیا ’’ہے گا۔‘‘ پچھلے والے کا ’’ سٹف‘‘ اس سے پچھلے والے’ ’سٹف‘‘ کے مطابق جانچا جائے۔ ریورس میں جاتے جائیں اور اے پی سی منظورِ نظر رکھا جائے۔ جاتے جائیں لیکن کمیٹی ملحوظِ خاطر رہے۔ جاتے جائیں اور’ ’کمیشن‘ ‘ پس منظر میں رہے۔ یہاں تک کہ اس ملک کے عمل ظہور پزیری تک پہنچیں، تو آپ پر انکشاف ہوگا، گویا یہ ملک کمیٹیاں، کمیشن، کونسلز اور کانفرنسز اورٹاسک فورسز وغیرہ بنانے کے لیے بنا ہو۔ لیکن اس دفعہ جو کمیٹی بنی ہے، کہتے ہیں بڑی اسٹرانگ کمیٹی ہے جو انشاء اللہ، سات دنوں میں ایکشن پلان تیار کر ے گی۔ سات دنوں میں ایکشن پلان کیسے تیار ہوگا؟ ان شاء اللہ ہوگا۔ ایکشن پلان پر غور و خوض ہوگا، ان شاء اللہ ہوگا۔ پھر اس کی سفارشات کی منظوری دی جائے گی اور ہوگی، اور پھر؟ پھر کیا، اُن سفارشات کو فائل کور میں رکھ کر اس پر سرخ پٹی چڑھائی جائے گی۔ اُس کے اوپر ’’بہت اہم‘‘ کا ٹیگ لگا کر ایک خصوصی شیلف میں محفوظ کیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں کڑی سے کڑی ملانے میں کوئی دشواری در پیش نہ ہو۔ جب اس قسم کا ایک اور واقعہ ہو جائے اور اُس میں’ ’شہادت‘‘ کا ’’چانس‘‘ پانے والوں کی تعداد پانچ سو جنس، نصف جس کے دو سو پچاس جنس بنتے ہیں، سے کم نہ ہو اور زخمی جنسوں کی تعداد اس کے ڈبل سے کم نہ ہو۔ پھر اُس شہر میں ایک اور اے پی سی (آو، پیو، کھاؤ) بلائی جائے گی۔ پھر کمیٹی کے بجائے ایک اعلیٰ ترین با اختیار کمیشن ’’کھڑا‘‘ کیا جائے گا۔ اس با اختیار کمیشن کو محض تین دن میں درکار اقدام سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ کمیشن پچھلی والی رپورٹ میں پچھلے ممبران کے نام اور تاریخ اور شہر کا نام تبدیل کرکے رپورٹ سبمٹ کرے گا۔ ان کی سفارش پر کوئیک ریسپانس فورس جیسے ادارے کی شان دار نمائش کے بعد ایک ’’ارجنٹ ریسپانس فورس‘‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا، تاکہ روزگار کے مواقع بڑھ جائیں اور پارٹی ووٹرز کہیں تو کھپے۔
ادارے میں ووٹر کھپیں گے اور پھر ایک اور واقعہ ہو جائے گا، لیکن تب کمیشن بنانے کا موقع نہیں ہوگا۔ کیوں کہ پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔ تب خون پختونوں کے گھروں سے ہوتے ہوئے، پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہوگا۔ تب کسی کو فرصت بھی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے اوریجنل ممالک میں پہنچ کر اپنے ڈالرز اور پراپرٹی کا حساب کتاب کر سکیں۔
اپنا تو خداوندِ کریم سے ایک شدید شکوہ ہے کہ ہمیں پختونوں کے علاقہ میں کیوں پیدا کیا؟ کر ہی دیا، تو انسان کیوں پیدا کیا؟ کوئی حیوان کیوں پیدا نہ کیا؟ ہم موجودہ صورت میں حیوان بننا چاہتے ہیں اور ہاتھوں کو پاؤں کا اسٹیٹس دینے کے لیے تیار ہیں لیکن کیا حیوان ہمیں اپنے گروہ میں شامل کرنے پر ایگری ہو جائیں گے؟
اب تو انسانی حُلیے میں ایسا کوئی اور واقعہ دیکھنے کی ہمت ہے نہ سننے کی طاقت۔
رفیع رضا کی ایک غزل کے چند اشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
کون کہتا ہے کہ ایمان سے ڈر لگتا ہے
مجھ کو اللہ کے دربان سے ڈر لگتا ہے
غیر کے ڈر کا وہ اندازہ لگا سکتا ہے
جس مسلماں کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے
جھانکتے کیوں نہیں خود اپنے گریبان میں آپ
آپ کو اپنے گریبان سے ڈر لگتا ہے
اس سے حیوانی کا رتبہ نہ کہیں چھن جائے
اب تو حیوان کو انسان سے ڈر لگتا ہے
1,770 total views, no views today


