سولہ دسمبر کی وہ خونی شام جسے کوئی نہیں بھول سکتا۔ درد اور غم کے مارے ہم ایک دوسرے سے آنکھیں نہیں ملا سکتے تھے۔ رزق کا اک نوالا بھی حلق سے نیچے نہیں اُتر سکتا تھا۔ نظروں کے سامنے بار بار ہنستے مسکراتے پھول سے معصوم لہو سے لتھڑے ہوئے چہرے، مرجھائی آنکھیں، خوف و دہشت کے لمحات، ان گنت تابوتوں کی قطاریں، ماؤں، بہنوں کی چیخ و پکار، والدین کے چہروں پر مایوسی اور نا امیدی کے گہرے سائے منڈلاتے اور گھومتے رہتے تھے۔ صبر و برداشت کی حدیں ٹوٹ رہی تھیں۔ غم و اندوہ کا بے کراں سمندر موجیں مار رہا تھا۔ الفاظ کے معنی گم ہو رہے تھے۔ اس کے ذخیرے کم پڑے رہے تھے۔ ہر گھر میں غم، ہر گلی میں ماتم کا سماں برپا تھا۔ دور بہت دور پشاور سے کوسوں دور گاؤں کے مضبوط دیواروں کے پیچھے، چٹانوں کی چوٹیوں پر، پہاڑوں کے دامنوں میں، کھیت کلیانوں کے درمیان اور کناروں کے آس پاس تمام گھروں، جھونپڑیوں میں ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کو اپنے پہلواور اوڑھنیوں میں ایسے چھپائے ہوئے تھا کہ اب کوئی خونی، خوف ناک اور ہیبت ناک جن آکر ان سے چھین لے گا۔ ہم مقدر پرست عوام ’’سانحوں کے عادی‘‘ ایک بار پھر ایک عظیم سانحے اور حادثے کا سامنا کر رہے ہیں۔ پھولوں کا شہر پشاور آج ایک بار پھر افسردہ اور خون آلود ہے۔ کرے کوئی بھرے کوئی۔ ہم آج تاریک راہوں میں مارے جارہے ہیں۔ آخر ہم عوام اس قسم کے حالات کب تک بھگتیں گے؟ کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے؟ آخر ہم غریب لوگ کب تک حالات کی ستم ظریفی کے رحم و کرم پر رہیں گے؟ اب تو ہماری ٹھیک ٹھاک قیمت مقرر ہوگئی ہے یعنی زخمی دو لاکھ، فوتگی کی صورت میں پانچ لاکھ اور شہادت کا رتبہ اس پر مستزاد۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کے پاس اس کا حل نہیں ماسوائے عوام کے۔ کیا وہ یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟ ورنہ یہ کون نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ ہمارے پچھلی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ تم نے ہر کھیت میں انسان کے سر بوئے ہیں اب زمین خون اُگلتی ہے تو شکوہ کیسا؟ یہ اٹھنا بیٹھنا، اجلاس، تقاریر، مذمتیں، بڑھکیں مارنا اور قرار دادیں پاس کرنا صرف اور صرف عوام کو بہلانے پھسلانے کے ڈرامے اور قصے ہیں۔ کیوں کہ ان سب میں تو اتنی جرأت بھی نہیں کہ اس شام کربلا کے خالقوں کا نام تک لیں۔ دکھائی دیتا ہے کہ عوام بھی جنازوں کو اٹھانے سے اب تک تھکے نہیں ہیں۔ بنیادی سوال اب یہ نہیں ہے کہ یہ ریاست اور ریاستی ادارے کیا کریں گے؟ اب عوام اُن سے مایوس ہوچکے ہیں۔ بنیادی سوال اب یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اور نوجوان نسل اب کیا سوچ رہی ہے اور کیا فیصلہ کرتی ہے؟ یہ تو نہ اکیلے میری جنگ ہے اور نہ میرے پڑوسی کی اور نہ اکیلے تمھاری جنگ ہی ہے۔ یہ جنگ تو اب گھروں، محلوں، بازاروں، اسکولوں، سڑکوں، جنگلوں اور صحراؤں میں لڑی جا رہی ہے۔ حقیقت کو تلاشنا چاہیے کہ بندوق برداروں کے پیچھے کن لوگوں کے ذہن کار فرما ہیں۔ نشان دہی کوئی نہیں کرتا یا پھر نہیں کرسکتا، خالی خولی مذمت سراسر منافقت ہے۔ معلوم نہیں یہ منافقت ہم کب چھوڑیں گے؟ یہ تو حقیقت ہے کہ موت کے بعد زندگی ہے لیکن آج کا یہ سوال بھی حقیقی بنتا جارہا ہے کہ کیا موت سے پہلے ہم زندہ ہیں؟ کیا زندگی صرف سانس لینے کا نام ہے؟ اس خوف و دہشت کے عالم میں زندگی گزارنا بھی کوئی زندگی ہے؟ مر مر کے جینے کا نام زندگی نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام اب اس جینے سے عاجز آچکے ہیں۔ معلوم نہیں ایسی کتنی خونی شامیں اب بھی ہمارا مقدر ہیں۔ ہم آخر کب تک اپنے بچوں اور جگر گوشوں کو موت کی بھینٹ چڑھائیں گے۔ ہم کب تک اپنے بچوں کی کتابوں اور بستوں کو چومتے رہیں گے اور جگر کے ٹکڑوں کا انتظار کریں گے؟ یہ ملک، یہ سیاست، یہ اقتدار کی رسہ کشی، یہ سب کچھ عوام کے مرہون منت ہے۔ عوام نہیں رہیں گے، تو کیا فائدہ۔ عوام مایوس ہوجائیں، عوام بپھر جائیں، تو سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔ حکومت اور حکومتی اداروں اور ریاستی حکم رانوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کریں۔ ورنہ اتنے اونچے ایوان، بلند بانگ دعوے، آسمان تک اونچی عمارتیں کس کام کی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے سیاسی راہنماؤں، راہبروں، لیڈروں اور حکم رانوں میں ذرہ بھر بھی شعور اور سنجیدگی ہوتی، فہم و فراست ہوتی، عوام کے دکھ درد کا احساس ہوتا، تو وہ تمام مصروفیات، سیاسی اور فرقہ بندی کے اختلافات ایک طرف رکھ کر سب سے پہلے دہشت گردی، امن و امان کے مسئلے سے نبٹ لیتے۔ کسی کو دوروں سے فرصت نہیں، کسی کو دھرنوں سے وقت نہیں ملتا۔ نواز شریف صاحب، عمران خان صاحب تم لوگوں کی سیاسی جنگ کی کوئی وقعت نہیں۔ تم لوگوں کے دوروں اور دھرنوں کی کوئی حیثیت نہیں، جب تک میرے پشاور کی شاہراہوں پر پختون بچوں کا خون بہتا رہے گا۔ اس دنیا میں تو تم لوگ بھاگ کر جان بچاؤگے لیکن روز محشر ان ننھے معصوم بچوں کے ہاتھ ہوں گے اور تم سب کے گریبان۔ ڈرو اُس وقت سے جب ماؤں کی اجڑی ہوئی گود تمھاری قبر اور ان کے آنسو انتقام کے شعلے بن جائیں گے۔ ہم کو مزید ایسی افسردہ، درد ناک اور خونی شامیں نہیں چاہئیں۔ سولہ دسمبر کی یہ ایک منحوس شام جو گزر گئی، اللہ تعالیٰ ایسی شامیں پھر ہر گز نہ لائے۔( آمین)
818 total views, no views today


