سولہ دسمبر 2014ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں شرم ناک اور سیاہ ترین دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ خدا کرے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا دن دوبارہ کبھی نہ آئے۔ اس سے بڑھ کر ہماری بدنصیبی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے ننھے منے معصوم فرشتوں کی خون میں لت پت اور جلی کٹی لاشوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ شاید ہی اقوام عالم میں اس لحاظ سے ہم سے بڑھ کر کوئی بدقسمت قوم ہو جسے ایسے لرزہ خیز اور دل خراش مناظر دیکھنا نصیب ہوا ہو۔ اکیسویں صدی میں ایٹمی قوت کے حامل ملک کی سڑکوں پر حواس باختہ ماؤں کو ننگے سر اور آبلہ پا اپنے جگر گوشوں کی تڑپ میں دوڑتے کس نے دیکھا ہوگا۔
جب ان معصوم بچوں کو بربریت اور سفاکانہ عمل کا نشانہ بنایا جارہا تھا، تو یقیناًفرشتوں نے رب ذوالجلال سے التجا کی ہوگی کہ زمین کو حکم دیں کہ ان درندوں کو نگل لے۔ یقیناًفرشتے گڑ گڑائے ہوں گے کہ ہمیں اجازت دی جائے کہ زمین کے اس ٹکڑے کو اٹھاکر کے ٹو کی چٹانوں پر دے ماریں، مگر رب ذوالجلال جو کہ ’’صمد‘‘ بھی ہے۔ ہماری بے حسی اور لا پرواہی کی تمام حدیں زمانے کو دکھانا چاہتے ہیں۔
سولہ دسمبر کے سیاہ دن نے ہمیں اقوام عالم کے سامنے بالکل ننگا کر دیا ہے۔ ہمارے ایٹمی غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ ہماری بھڑکوں، قومی غیرت اور حمیت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ا س سیاہ دن نے جہاں ان ننھی منی کلیوں اور مستقبل کے معماروں کو ابدی نیند سلا ڈالا، وہاں ہمارے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا گیا۔ اس سے بڑھ کر لاپروائی اور بے حسی اور کیا ہوسکتی ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے اہم اور مشکل فوجی آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے باوجود آرمی پبلک اسکول جیسے اداروں کو سنگ دل بھیڑیوں، ظالم درندوں، شیطان کے چیلوں اور دور حاضر کے فرعونوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ حالاں کہ 2012ء میں ملالہ پر ہونے والے حملے نے یہ خطرناک سگنل دے دیا تھا کہ پاکستان بھر کے بچے عموماً اور خیبر پختون خوا کے بچے خصوصاً غیر محفوظ ہیں۔
اتنا بڑا سانحہ ہوگیا مگر کہیں کسی بھی سطح پر ماضی کی روایات سے ہٹ کر کوئی ایسی سنجیدگی دیکھنے کو نہیں ملی جس سے یہ تاثر لیا جائے کہ ارباب اقتدار و اختیار نے اس سانحہ کو سنجیدہ لیا ہے۔ سنجیدگی تب محسوس ہوتی یا نظر آتی جب وفاقی حکومت سے وزارت داخلہ، صوبائی وزیراعلیٰ یا عسکری حکام میں سے کسی بھی سطح پر ایک ادھ استعفا آتا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ آئے روز یہ راگ الاپا جارہا ہوتا ہے کہ پاکستان ’’حالت جنگ‘‘ میں ہے۔ پھر ایسا بھیانک، درد ناک اور ازیت ناک واقعہ کا رونما ہونا وزارت داخلہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختون خواکو اسلام آباد دھرنوں میں ناچ گانوں سے فرصت ملتی، تو وہ خیبر پختون خوا کے عقب میں ہونے والے آپریشن کے تناظر میں صوبے اور خصوصاً پشاور کی سیکورٹی کے حوالے سے سنجیدگی اختیار کرتے۔ عسکری حکام کے لیے یہ لمحۂ فکریہ نہیں تو اور کیا ہے؟ کہ کینٹ ایریا میں قوم کے مستقبل کو تحفظ فراہم نہ کرسکے۔ حالاں کہ حالات کی نزاکت کا اندازہ عسکری حکام سے بڑھ کر کسی کو نہیں ہوسکتا۔ دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں شمار ہونے والی خفیہ ایجنسی کے ساتھ ساتھ دیگر ایجنسیوں کی معاونت کے باوجود ایسا واقعہ کا رونما ہونا قابل افسوس اور قابل شرم ہے۔ برسبیل تذکرہ اک شعر یاد آیا
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی اُلو کافی ہے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجام گلستان کیا ہوگا؟
رہی بات احتجاجی ریلیوں، مظاہروں اور ملک گیر ہڑتالوں کی، تو اس قسم کی سرگرمیاں ہمیں وقتاً فوقتاً نظر آتی رہتی ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ نومبر2011ء میں سلالہ چیک پوسٹ پر ہونے والے نیٹو حملے کے رد عمل میں ایسا سب کچھ دیکھنے کو ملا تھا۔ اُس وقت بھی قوم جاگی تھی۔ اگر نہیں جاگی تھی، تو بس ارباب اقتدار و اختیار کی غیرت نہیں جاگی تھی۔ جی ایچ کیو، کامرہ ائیر بیس، مہران بیس اور واہگہ بارڈر پر ہونے والے حملوں کے باوجود حالات اور معاملات میں کوئی تغیر دیکھنے کو نہیں ملا۔ ایٹمی قوت کی حامل مملکت کے لیے اس بڑھ کر سبکی اور شرمندگی کیا ہوسکتی ہے؟ کہ امریکی ہیلی کاپٹر رات کی تاریکی میں آتے ہیں اور آپ کی ناک کے نیچے سے دنیا کے انتہائی مطلوب شخص اسامہ کو مار کر اس کی لاش کو مع زیر استعمال اشیاء کے ساتھ لے جاتے ہیں۔ ریمن ڈیوس جیسا دو ٹکے کا غنڈہ بھرے بازار میں آپ کے شہریوں کو خون میں نہلا کر آپ کے قانون کو موم کی ناک کی طرح توڑ مروڑ کر باعزت واپس چلا جاتا ہے۔ ہائے افسوس، بہ قول اقبال
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سردارا
ستمبر 2002ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے دھماکوں کے بعد جب امریکہ نے پاکستان کو بھر پور ساتھ دینے یا پھر غیض و غضب کے لیے تیار ہونے میں سے کسی ایک راستے کے چناؤ کی چناوتی دی، تو اس وقت کے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے افغان پالیسی پر امریکہ کا اتحادی بنتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہم یوٹرن نہ لیتے، تو امریکہ ہمیں پتھر کے دور میں لے جاتا۔ امریکہ کو ان داتا سمجھنے والے نے یو ٹرن تولے لیا، مگر پاکستان کو پتھر کے دور میں لے جانے سے نہ روک سکا۔پاکستان آج پتھر کے دور میں نہیں، تو پھر کہاں کھڑا ہے؟ شاید ہم پتھر دور سے بھی کسی پرانے دور میں ہیں۔ کیوں کہ اگر ہم پتھر کے زمانے میں بھی ہوتے، تو ہمارے بچے یوں آسانی سے دہشت گردی کا شکار نہ بنتے۔ اگر ہم پتھر کے دور میں ہوتے، تو ہمارے اسکول، مدرسے، مسجدیں، امام بارگاہیں، چرچ اور جنازے خودکش دھماکوں کی نذر نہ ہوتے۔ صاف پانی کی عدم دست یابی، سوئی گیس کی عدم فراہمی، سی این جی اسٹیشن پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں، اسپتالوں میں ناکافی سہولتیں، تعلیمی اداروں کی زبوں حالی اور بے روزگاری کو کیا سمجھا جائے؟ کیا اس ایٹمی دور میں ایٹمی قوت کے گھمنڈ اور تکبر کے ساتھ ہم اقوام عالم میں ایک تماشہ نہیں؟ آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے ایک سو بتیس معصوم اور بے گناہ بچوں کا خون جہاں ان بے لگام دہشت گردوں کے گلے پڑا نظر آتا ہے، تو وہاں پرویز مشرف کے دامن پر بھی اس کے چھینٹے دیکھے جاسکتے ہیں۔
ارباب اقتدار و اختیار کی تمام تر بے حسی کے باوجود ایک تبدیلی ضرور دیکھنے کو ملی ہے۔ ہم بزرگوں سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ دعائیں تب شرفِ قبولیت حاصل کرتی ہیں جب اشکوں سے لب ریز ہوکر آہ و زاری کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں دعائیں مانگی جائیں۔ شاید ہماری دعائیں صرف اسی وجہ سے قبول نہیں ہورہیں کہ ہم خشک آنکھوں اور بنا اشکوں کے دعائیں مانگ رہے تھے۔ سولہ دسمبر کی رات پہلی بار پوری قوم معصوم بچوں کی شہادت پھر دھاڑیں مار مار کر روئی اور بارگاہ الٰہی میں دست بہ دعا ہوتی کہ اے رب محمدؐ انسانیت کے ان ناسوروں سے قوم کو نجات دلا دے۔ نیست و نابود کردے ان وحشی درندوں، ظلمت کے پیروکاروں اور دور حاضر کے فرعونوں کو، جنھیں فرشتہ صفت معصوم بچوں کی معصومیت سے بھی شرم نہیں آتی۔
ان شاء اللہ اب کی بار دعائیں ضرور شرفِ قبولیت حاصل کریں گی۔ پاکستان اور پاکستانی قوم کو دہشت گردی کے اس ناسور سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔ ان معصوم بچوں کا خون رائیگاں جائے گا اور نہ پوری قوم کی آہ و زاری سے لب ریز دعائیں۔
جاتے جاتے حسب روایت چند اشعار
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنھیں رسم دعا یاد نہیں
ہم جنھیں سوزِ محبت کے سوا
کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں
آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی
زہرِاِمروز میں شیرنئی فردا بھر دے
وہ جنھیں تابِ گراں بارئ ایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے
جن کی آنکھوں کو رخِ صبح کا یارا بھی نہیں
ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دے
جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیں
ان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے
جن کا دیں پیروئ کذب و ریا ہے ان کو
ہمت کفر ملے،جرأت تحقیق ملے
جن کے سر منتظرِ تیغِ جفا ہیں ان کو
دستِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
عشق کا سرِنہاں،جانِ تپاں ہے جس کو
آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے
حرفِ حق دِل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
آج اِظہار کریں اور خلش مِٹ جائے
888 total views, no views today


