سبھی کو جان تھی پیاری، سبھی تھے لب بستہ
بس اک فرازؔ تھا ظالم سے چپ رہا نہ گیا
قارئین کرام! کئی بار مجھے احساس کی دہکتی ہوئی بھٹّی سے گزرنا پڑا ہے۔ اپنے احساسات کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہوئے بڑے کشٹ بھوگے ہیں۔آج میرا بوجھ میرے ساتھ شیئر کیجیے اور ایک لمحہ کے لیے سوچیے کہ کیسے ایک جیتا جاگتا انسان کسی اندھی گولی کا شکار ہوجاتا ہے اور شکاری بھرے بازار میں یہ جا وہ جا۔ پھر اس کے بعد بڑے دھڑلے سے ہم اپنی بے بسی اور ناکامی کے لیے مختلف تاویلات ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں کہ اگر یہ وی ڈی سی ممبر نہ ہوتا، تو ایسی موت نہ مرتا۔ اگر یہ منھ پھٹ نہ ہوتا، تو شاید زیادہ جیتا اور اگر یہ اظہار رائے کی آزادی سے باخبر نہ ہوتا، تو شاید اک آدھ کارتوس تو بچ ہی جاتا، وعلیٰ ہذا القیاس۔
پھر یہ سب کچھ کرچکنے کے بعد جب ہمارا ضمیر مطمئن ہونے کا نام نہیں لیتا، تو ضائع ہونے والے کی قبر پر ’’شہید‘‘ کا کتبہ سجا کر خود کو مطمئن کرنے کا ڈھونگ رچاتے ہیں یا اس کی یاد میں اک آدھ شمع جلا کر اوروں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بچھڑنے والا ہمیں یاد ہے یا پھر کسی چوک میں اس کی بڑی تصویر ٹانک کر اس کے نیچے یہ رٹا رٹایا شعر لگا کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں کہ
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
اگر ہمیں بچھڑنے والے کا واقعی دکھ ہوتا، تو تھوک کے حساب سے ’’شہادت‘‘ کے یہ واقعات کبھی رونما نہ ہوتے۔
قارئین کرام! میرا یہ نظریہ غلط بھی ہوسکتا ہے کہ جب تک ہماری سوچ اس حد تک محدود ہوگی کہ میں اور میرے بچے محفوظ ہیں، دوسرے جائیں بھاڑ میں۔ تب تک ہر چوک میں ضائع ہونے والے کی تصویر کے نیچے مذکورہ بالا شعر ہی نظر آئے گا اور ہم اسے دیکھ کر ’’نامعلوم افراد‘‘ پر ’’زیر لب‘‘ تبرا ہی بھیجنے پر اکتفا ’’فرمائیں‘‘ گے، اور کچھ نہیں کرسکیں گے۔
دور جانے کی ہر گز ضرورت نہیں۔ یہ گزشتہ روز پیوند خاک ہونے والا مسیحا (نذیر بابو صاحب) وی ڈی سی ممبر تھا، نہ منھ پھٹ۔ اسے ٹارگٹ کیے جانے کی بات کم از کم میرے پلے نہیں پڑتی۔ اگر اس عمل سے صرف یہ باور کرانا مقصود ہے کہ اہل سوات کو ڈرایا دھمکایا جائے، تو معاف کیجیے گا، یہاں ہر ٹارگٹ ہونے والے فرد کے بعد مختلف اخبارات، سوشل میڈیا اور خاص کر زما سوات ڈاٹ کام پر اہل سوات جس طرح اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں، اسے ضبط تحریر میں لاتے ہوئے کم از کم میرے پر جلتے ہیں۔
ایک جملۂ معترضہ ہی سہی مگر یہاں تو اس معاملہ کو اس حد تک محسوس کیا گیا ہے کہ ہر ٹارگٹ ہونے والے فرد کے بعد اک آدھ ایسا مشکوک شخص نوٹ کیا گیا ہے، جو ماحول کا جائزہ لیتا ہے کہ لوگوں کے چہروں پر خوف کے سائے ہیں یا نہیں، مگر یہ گھناؤنا کھیل کھیلنے والوں کو کیا معلوم کہ ہم اہل سوات حضرت جون ایلیاؔ کے اس شعر کی جیتی جاگتی تصویر بن گئے ہیں جس میں حضرت فرماتے ہیں کہ
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
برسبیل تذکرہ، سانحۂ پشاور کے موقع پر جب ہر آنکھ اشک بار تھی۔ عثمان اولس یارؔ نے اپنے فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ کرتے ہوئے رقم کیا تھا کہ ’’پختنو، اووائی چے نور شہیدان نہ ورکو۔‘‘ یعنی میرے پختون بھائیو، کہہ دو کہ مزید شہید نہیں دیں گے۔
تو میرے محترم، آج تک ’’شہید‘‘ چنتے وقت کسی نے میری اور آپ کی مرضی معلوم کی ہے؟ کیا یہ ’’شہید‘‘ ہم نے اپنی مرضی سے دئیے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر وقت کا انتظار کیجیے۔ ع
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
قارئین کرام! جاتے جاتے دل پر پتھر رکھ کہنا پڑتا ہے کہ اب میرا ریاستی اداروں پر سے مکمل اعتماد اٹھ چکا ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ رقم کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ ہاتھ جو قلم اٹھاتے تھے اور اس کا استعمال جانتے تھے، اب اسلحہ اٹھانے لگے ہیں۔ رات میرے سرہانے جب میری اولاد اسلحہ دیکھتی ہے، تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میں ہرگز اپنی اولاد کو جھوٹی انا اور پختون قوم کو بے وقوف بنانے والی ’’روایات‘‘ کا اسیر بنانا نہیں چاہتا تھا۔ انھیں انسان بنانا میری سب سے بڑی خواہش تھی اور تاحال ہے، مگر شاید میری یہ آرزو پوری نہ ہوسکے گی۔ اب میرے جگر گوشے قلم اور کتاب کے ساتھ ساتھ پستول اور بندوق ہاتھ میں لیں گے۔
سوال چبھتا سہی، مگر پھر بھی اک سوال تو ہے کہ کیا عوام کو ’’تیسری طاقت‘‘ بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے؟ جب آرمی اسکول جیسے ادارے محفوظ نہیں، لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے، انتظامی امور نمٹانے والے ادارے، پولیس چوکی اور تھانے تک محفوظ نہیں، تو ایسے میں ایک عام آدمی کیا کرے گا؟ ظاہری بات ہے وہ بندوق ہی اٹھائے گا۔
خدا کرے کہ وہ دن کبھی نہ آئے، لیکن اس کے آنے کے حالات اس ملک کی چھپی طاقتوں نے سازگار بنا دیے ہیں۔ وہی فصل پک کر کٹنے کے لیے تیار ہے، جو ماضی میں بوئی گئی تھی۔
کل جگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے
772 total views, no views today


