منگورہ,سوات میں منتخب عوامی نمائندے تعلیم کے فروغ کے لئے ایک پلیٹ فارم سے جدو جہد کرنے پر متفق ہوگئے ۔سیاستدانوں نے میثاق علم پر دستخط کر کے تعلیم کے فروغ کے لئے کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔ سوات میں تعلیم کے لئے سرگرم عمل سماجی تنظیم اینویٹیو یوتھ فارم کے زیر اہتمام سوات کے منتخب نمائندوں اور سیاسی مشران کے لئے گول میز کانفرنس کا انعقاد کیاگیا، جس میں ایم این اے عائشہ سید، ایم پی اے فضل حکیم، محکمہ تعلیم کے نمائندوں اور دیگر سول سوسائیٹی کے افراد نے شرکت کی،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جواد اقبال نے کہا کہ سوات میں شرح خواندگی 29 فیصد ہے جبکہ ترقی کے اس دور میں اب بھی 28 فی صد بچے سکولوں سے باہر ہیں،انہوں نے کہا کہ سوات میں لڑکیوں کے تعلیمی مسائل کے ساتھ ساتھ لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کے سکول بھی کم ہیں ۔ الف اعلان کے سجاد چنگیزی نے کہا کہ98 فی صد لڑکیاں ہائی سکولوں میں نہیں جا پاتی، لڑکوں کے لئے سکولوں کی تعداد800جبکہ لڑکیوں کے لئے چار سو ہیں، انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مفت تعلیم فراہم کریں اس سلسلے میں سکولوں میں تمام سہولیات میسر ہونی چاہئے۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ذوالفقار خان نے محکمہ تعلیم کے مسائل بیان کئے اور کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ اصلاحات بھی ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کی کمی ، سٹاف کی کمی اور دفاتروں کی کمی سے کام صحیح طرح نہیں ہو پا رہا جس کے لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ محکمہ تعلیم کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے فنڈز فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم سوات میں آن لائن ویب سائٹ قائم کر رہی ہیں جس میں ہر سکول، ہر طالب علم اور ہر ایک استاد کا ریکارڈ موجود ہوگا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے فضل حکیم، ایم این اے عائشہ سیداور دیگر سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ وہ محکمہ تعلیم اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر تعلیم کے فروغ کے لئے کام کریں گے اور سوات کی تعلیمی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکن تعاون کیا جائیگا۔کانفرنس کے اختتام پر منتخب نمائندوں اور سیاسی رہنماؤں نے میثاق علم سوات کی یاد داشت پر دستخط کئے اور اقرار کیا کہ تعلیمی اداروں اور محکمہ تعلیم میں بے جا مداخلت نہیں کریں گے جبکہ تعلیم کے فروغ کے لئے جدو جہد کی جائے گی۔
732 total views, no views today


