مینگورہ(سوات نیوز)پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری فضل رحمان نونو نے کہاہے کہ لیگی دور حکومت میں سوات سمیت پورے ملاکنڈڈویژن کیلئے سڑکوں کے بہترین اور جدیدسہولیات سے آراستہ وپیراستہ منصوبے منظورہوئے تھے جن میں سوات ایکسپریس وے نمایاں ہے جس کے کئی پراجیکٹ سی پیک میں بھی شامل تھے مگر جب موجودہ حکومت برسراقتدارآئی تو اس نے سیونگ کے نام پر وہ تمام منصوبے منسوخ کردئے جس سے ڈویژن کے عوام میں پریشانی پھیل گئی، دیر کے عوام کا احتجاج اس کامنہ بولتا ثبوت ہے جس میں ہم اہل دیر کے ساتھ ہیں،میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے بشام ٹو خوازہ خیلہ،چکدرہ ٹوکالام،گلگت،دیر چترال اورڈویژن کے دیگر علاقوں کیلئے ایکسپریس وے کے نام پرسڑکوں کا ایک بہترین منصوبہ بنایا جس کیلئے چھ ارب روپے بھی منظورکئے گئے یہ منصوبہ اگر تکمیل تک پہنچتا تو اس وقت ملاکنڈڈویژن ترقی کے لحاظ سے بہت آگے ہوتا،یہاں پر صنعتیں لگتیں،ٹورازم سمیت دیگر شعبوں کو ترقی ملتی اور لوگوں کو روزگار کے مواقعے میسر آتے مگر مقام افسوس ہے کہ جب2018میں نئی حکومت آئی تو اس نے ان منصوبوں کو سیونگ کے نام پر کینسل کردیاجو انصاف کے نام پر قائم حکومت کی سوات اور پورے ملاکنڈڈویژن کے عوام کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہے،انہوں نے کہاکہ حکومت کے غلط اقدامات اورناقص فیصلوں سے عوام میں پریشانیاں پیدا ہوگئی ہیں جس کی زندہ مثال دیر کے عوام کا احتجاج ہے جس میں ہم ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں،انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت سے خیر کی توقع نہیں یہی وجہ ہے کہ عوام کا حکومت سے اعتماد اٹھ چکاہے اور اب ان کی نظریں ن لیگ پر لگی ہیں جو انجینئرامیر مقام کی قیادت میں ایک مضبوط قوت بن گئی ہے اور آئندہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے عوامی مسائل اور محرومیوں کا ازالہ کرے گی۔
1,073 total views, no views today



