بریکوٹ، بریکوٹ کو سوئی گیس کی فراہمی کے لئے نہ ختم ہونے والے افتتاحی تقاریب اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔سوئی گیس کی فراہمی کے لئے 2007میں پہلی مرتبہ امیر مقام خان نے جبکہ 2010کو اے این پی کے سابق ایم این اے مظفرالملک کاکی خان نے افتتاح کیا۔گذشتہ روز پی ٹی آئی اور اے این پی نے مشترکہ طور پر سوئی گیس کی عدم فراہمی پر شدید احتجاج کیا اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت وزیر ہاوسنگ و تعمیرات ڈاکٹرامجد علی کر رہے تھے اس موقع انہوں نے سوئی گیس کا افتتا ح کیا جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماء امیر مقام خان کے نام سے نصب تختی جس پر سوئی گیس کے افتتاح کے الفاظ درج تھے کو توڑ دیا ۔اس موقع پر انہوں نے بریکوٹ کے عوام کو سوئی گیس کی فراہمی پر مبارک باد بھی پیش کردی اور کہا کہ این ایچ اے اور واپڈا والے بھی اپنا رویہ ٹھیک کرے بصورت دیگر ان کے خلاف بھی سخت احتجاج کیا جائے گا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تحصیل بریکوٹ صدر عزیز اللہ خان بدا نے میڈیا کو بتایا کہ انشاء اللہ بہت جلد امیر مقام اپنے دست مبار ک سے اس منصوبے کا افتتاح کر یں گے ۔بریکوٹ سوئی گیس کی فراہمی یہاں کے عوامکے لئے ایک خواب بن گیا ہے کیونکہ محکمہ سوئی گیس کی طرف سے تمام لوازمات پور ے ہوچکے ہیں اور ڈیمانڈ نوٹس بھی جاری ہوچکے ہیں اور صارفین نے ڈیمانڈ نوٹس پر رقم بھی جمع کئے ہوئے ہیں ۔سوئی گیس کی فراہمی کے بارے میں بعض سیاسی حلقو ں کا کہنا ہے پی ٹی آئی اور اے این پی کے احتجاجی مظاہرے سے سوئی گیس کی فراہمی مذید تعطل کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے امیر مقام کے نام سے منصوب تختی توڑ دیا ہے جس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) ردعمل کا اظہار کرسکتا ہے اور وہ مخالفین کو اپنی طاقت کا مظاہر ہ بھی کریں گے ۔سوئی گیس کی فراہمی میں امیر مقام نے 2007کے افتتاح میں ڈھائی کروڑ روپے کا اعلان کیا تھا اور اے این پی نے 2010کے افتتاح میں 37کروڑ روپے سے زیادہ اعلان کرکے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔سوئی گیس کا افتتاح کون کرے گا اس سے عام آدمی کا کوئی سروکار نہیں بس اس کے لئے سوئی گیس کی نعمت سے مالامال ہو نا ہے
726 total views, no views today


