سوات ، سوات میں ڈسٹرکٹ جیل نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا‘ 11سال گزرنے کے باوجود ڈسٹرکٹ جیل تعمیر نہ ہو سکا۔ تفصیلات کے مطابق 2005ء کے زلزلے میں ریاستی دور کا ڈسٹرکٹ جیل تباہ ہوا تھا ‘ مگر 11سال گزرنے کے باوجود سابقہ اور موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں کوئی عملی کارروائی نہیں کی۔ سوات اور شانگلہ سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو پہلے مرحلے میں پیشی کیلئے ڈسٹرکٹ کورٹ سوات لایا جاتا ہے پھر جانوروں کی طرح گاڑیوں میں بونیر اور تیمر گرہ جیل منتقل کیا جاتا ہے۔ اکثر اوقات قیدیوں کو لے جانے والے گاڑیوں میں پیٹرول نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی گھنٹوں تک قیدیوں کو رکنا پڑتا ہے۔ سوات اور شانگلہ کے قیدیوں کے ساتھ بونیر اور ڈسٹرکٹ جیل تیمر گرہ میں انتہائی نارروا سلوک کیا جاتا ہے۔ ملاقات تو بہت مشکل ہوجاتی ہے جب تک ان دنیاوی خداؤں کے مٹھی گرم نہیں کی جاتی ۔ اسی طرح معمولی نوعیت کے مقدمات میں ملوث ملزمان کے وکالت نامے پر دستخط پر پانچ ہزار سے چھ ہزار روپے کا خرچہ آجاتاہے۔ حکومتیں تو ناکام ہوچکی ہے ۔ اگر وکالت نامے دستخط کیلئے یہاں پر چندہ بکس قائم کیا جاتا تواس گیارہ سال کے عرصے میں اتنا رقم جمع ہوتا کہ یہ جیل بن جاتا ۔ لہٰذا مرکزی اور صوبائی حکومتیں تو اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔ لہٰذا بین الاقوامی ادارے اس سلسلے میں سوات کے عوام پر ترس کھا کر سوات جیل کا منصوبہ شروع کریں۔
626 total views, no views today


