مینگورہ(رپورٹ/ناصرعالم)سیدوشریف ہسپتال کاغذات تک ٹیچنگ رہ گیا۔تکلیف میں مبتلا مریضوں کا گھنٹوں تک معائنہ نہیں کیاجاتا۔چلڈرن وارڈ سمیت پورا ہسپتال طلبہ کے حوالے کردیاگیا۔حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔سیدوہسپتال میں تعمیرہونے والی نئی عمارت نام کو ہسپتال رہ گیا یہاں پرموجود چلڈرن وارڈ میں گھنٹوں گھنٹوں پڑے تڑپتے مریض بچوں کا گھنٹوں گھنٹوں تک معائنہ تک نہیں ہوتا جبکہ وارڈ کی صفائی کا نظام اس قدرناقص ہے کہ یہاں پر پڑے مریض اور ان کے والدین کے مختلف امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی موجود رہتاہے ۔وارڈ میں گندگی کی وجہ سے سانس لینا بھی محال ہے۔دوپہر کے بعد یہاں پرسٹاف کا کوئی بھی ذمہ دارفرد موجود نہیں ہوتا اوریہ وارڈ میڈیکل کے طلبہ کے رحم وکرم پر ہوتاہے ۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ حکومت عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے اور اعلانات کرتے نہیں تھکتی مگر دوسری جانب سیدوہسپتال کی کارکردگی حکومتی اعلانات کی نفی کرتی ہے۔عوامی حلقوں نے حکومت سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔
766 total views, no views today



