سوات، سوات میں غیر یقینی صورتحال اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کافی عرصہ گزرنے کے باوجود نہ ہو سکا‘ عام شہریوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے‘ تعمیراتی وترقیاتی کام خواب بن چکے ہیں‘ تفصیلات کے مطابق سوات میں 2006ء سے شروع ہونے والے غیر یقینی صورتحال اور دہشت گردوں کے عمل داری کے دوران تباہ ہونے والے سکول ‘پل اور دوسرے اہم عمارات جو تباہ ہوچکے تھے۔ ان میں ابھی تک پرانے حیثیت میں عمارات اور پل نہیں آئے ہیں بلکہ اکثر علاقوں میں رابطہ پل نہ ہونے کی وجہ سے عام شہری ایک گھنٹے کا راستہ 5گھنٹے میں طے کرنا پڑرہا ہے۔ دہشت گردوں کی تباہی تو اپنی جگہ مگر 2010ء کے سیلاب کے تباہ کاریوں کو حکومتی سطح پر ابھی تک ترجیحی یا ہنگامی بنیادوں پر شروع نہیں کیا گیا ہے۔ سوات کے غیور عوام نے 2002ء کے الیکشن میں ایک پارٹی کو 2008ء کے الیکشن میں دوسرے پارٹی اور الیکشن 2013ء میں تیسرے پارٹی کو ووٹ دیا ۔ عوام ووٹ کے ذریعے تبدیلی ہر الیکشن میں لے آتے ہیں۔ مگر ووٹوں سے منتخب ہونے والے تبدیلی نہیں لا سکے۔ بلکہ سوات کی سڑکیں وہی کھنڈرات کا نمونہ پیش کررہی ہیں۔ ریاستی دور کے سکول کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ذمہ دار حکام نے بروقت اقدامات نہ اٹھائے تو اس حالت زار سے مزید حالات خراب ہوتے رہیں گے۔
672 total views, no views today


