مینگورہ، آل سوات درجہ چہارم ملازمین نے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دینے سے انکار کرتے ہوئے مزیدملازمین بھرتی نہ کرنے کی صورت میں پانچ فروری کو آئندہ لائحہ عمل تیار کرنے کا اعلان کردیا،اس حوالے سے آل درجہ چہارم ملازمین کے صدر سید خطاب نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ تمام سرکاری محکموں میں موجود چوکیداروں سے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے جو کسی بھی صورت مناسب نہیں اوراب حال ہی میں حکومت نے سکولوں کو سیکیورٹی کے حوالے پلان بنایا تو اس میں بھی زیادہ تر بوجھ اورذمہ داری غریب چوکیدارو ں پر ڈالی گئی ہے حالانکہ چوکیدار پہلے سے ہی چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دے رہے ہیں اوراس دوران انہیں غمی خوشی میں شرکت،بچوں کو ہسپتال لے جانے اوردیگر ذاتی معاملات نمٹانے کی اجازت نہیں،
اس کے علاوہ جو بھی افیسر سکولوں کا دورہ کرتا ہ تو سب سے پہلے چوکیدار کے بارے میں پوچھتاہے اوراگر وہ چندمنٹوں کیلئے بھی موجود نہ ہو تواس کے خلاف پرچہ کاٹ دیا جاتا ہے،انہوں نے کہاکہ سوات میں ہزاروں سکولوں میں ہمارے درجہ چہارم ملازمین چوکیداری کے فرائض انجام دے رہے ہیں اوراب ان پر مزید بوچھ ڈلا جارہا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے،عمران خان تو میرٹ کی بات کرتے ہیں مگر کوئی بھی ایم پی اے یا ایم این اے ہمیں میرٹ نہیں دکھاسکتایہاں پر تو تمام تر محکموں میں سیاسی مداخلت زروں پر ہے جس کی وجہ سے درجہ چہارم ملازمین کے مسائل اورمشکلات میں اضافہ ہورہا ہے،انہوں نے کہاکہ حکومت فوری طورپر تمام سکولوں میں مزیدچوکیدار بھرتی کرے اوررات کو ڈیوٹی دینے والے چوکیداروں کے ساتھ کمیونٹی پولیس یامزید چوکیداروں کی ڈیوٹی لگائے،انہوں نے کہاکہ اگر ہمارامطالبہ فوری طورپر تسلیم نہ کیا گیا تو پانچ فرور کو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
435 total views, no views today


