دانش مندی، باہمی احترام، صبر و سکون، مستقل مزاجی اور پر امن طریقوں کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانے سے عموماً کام یابی حاصل ہوتی ہے۔ اب جب کہ حکومت نے ’’طالبان‘‘ کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کردیا ہے، تو ان اور ان جیسے خواص صالحہ کے ساتھ اُس وقت تک یہ عمل جاری رکھنا چاہیے، جب تک پر امن طریقوں سے تمام متعلقہ مسائل حل نہیں ہوتے۔ بے شمار معزز خواتین و حضرات میرے ساتھ متفق ہوں گے کہ پاکستان کی مشکلات میں صرف اور صرف مذہبی طلبہ سرگرم عمل نہیں۔ ممکن ہے کہ اُن کی ایک تعداد ان حالات میں ملوث ہو۔ لیکن مختلف پاکستانی اور غیر پاکستانی عناصر بھی ان وارداتوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے اگر صبر کے ساتھ موجودہ مذاکرات کو جاری رکھا جائے، تو ان سے تیسری قوتوں کا وجود سامنے آجائے گا۔ جو یہ عناصر کبھی نہ چاہیں گے اور اُن مذاکرات کو ناکام بنانے کے سب طریقے استعمال کریں گے۔ خصوصاً منفی طور طریقوں کا استعمال۔
یہ درست ہے کہ حکومت نے اور جواب میں طالبان نے ایسے افراد کو بات چیت کے لیے منتخب کیا ہے، جو غیر جانب دار ہیں، وہ حکومت کے ارکان ہیں اور نہ طالبان تحریک کے۔ معلوم نہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے کیوں ان مذاکرات سے پہلو تہی کی۔ حالاں کہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل وہ کافی سرگرم تھے بلکہ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ وہ ان مذاکرات کی سربراہی خود کرنا چاہتے ہیں۔ اب اُن کی پر اسرار عدم شمولیت سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ وہ تیسری قوت کے وزن کو محسوس کرچکے ہیں یا اُس تیسری طاقت نے اُن کو اور عمران خان کو ایک طرف کیا ہو۔ تیسری طاقت کو شناخت کرنا مشکل کام ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں خود غرضی، کرپشن اور قوانین سے انحراف، طاقت رکھنے والے طبقوں اور افراد میں کافی زیادہ ہوگیا ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے، جو مغرب اور مشرق کی طرف سے آنے والی اسمگلنگ اور اچھے برے افراد کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔ مارکیٹ سرکاری افراد سے مل کر وطن عزیز کے کونے کونے میں اسلحے اور بارود کے ذخائر جمع کرچکا ہے۔ بیرونِ ممالک سے جن حلقوں نے یہ اسلحہ و بارود سپلائی کیا ہے، انھوں نے ایک لمبے عرصہ تک بہت ہی محتاط اور ماہرانہ منصوبہ بندی کی ہوگی۔ اپنی روایتی نالائقی اور بد دیانتی سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کا ارب ہا زرمبادلہ ہونڈی جیسے طریقہ کار کے حوالہ کرکے نہ صرف وطن عزیز کو اس سے محروم کیا لیکن غلط کاموں کے لیے سرمایہ بھی فراہم کیا۔ عزت نفس کی فراہمی میں ناکامیاں اسی طرح رہیں، تو دہشت گردی کی یہ لہر نامعلوم زمانوں تک جاری رہے گی۔ اگر اسلام آباد اسی طرح ملکی سرحدات کو بیرونی افراد کے لیے کھلا رکھتا ہے، اسی طرح غیر ملکی افراد کو دو روپے کے عوض پاکستانی شناختی کارڈ بلکہ پاسپورٹ تک مہیا کرتا ہے، اسی طرح بیرونی اشیاء کی اسمگلنگ کو جاری رکھتا ہے، اسی طرح عوام کی تربیت سے چشم پوشی کرتا ہے، اسی طرح عوام کا اپنے اداروں اور مارکیٹ کے ذریعے استحصال کرتا ہے، تو نہ وطن عزیز میں گولہ بارود اور اسلحے کی کمی آئے گی اور نہ ان کو استعمال کرنے والے ہی کم ہوں گے۔
اس معاملے کو سرسری نہ لیا جائے۔ وطن عزیز کی اشرافیہ اور دانش مند طبقہ حکم رانوں کو مجبور کرے کہ وہ جاری حالات میں بنیادی تبدیلی پیدا کرے۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہمارے یہاں کی تمام سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتے ہی اپنے افراد کو انتظامیہ میں شامل کرتی رہی ہیں۔ رشوت اور سفارش سے ملازم ہونے والے صرف اپنے مفادات کے غلام ہوتے ہیں۔ اُن میں اخلاص اور قابلیت اور وطن کی محبت نہیں ہوتی۔ اگر کسی جگہ ایک معمولی سا کلرک یا کانسٹیبل قابل خرید ہو، تو وہاں بڑے سے بڑے آفیسر کی کاوشیں رائیگاں جاتی ہیں۔
پورے ملک میں مسلم لیگ کی اور ہمارے صوبہ میں تحریک انصاف کی حکومتوں سے عام آدمی کو تاحال کوئی سہولت (RELEIF) نہیں پہنچا ہے۔ میڈیا تا حال آزادی کی آڑ میں نہایت ہی غیر ذمے دارانہ کردار ادا کررہا ہے۔ سرکاری افراد کا رویہ تا حال زمینی حقائق کا رواداد نہیں۔ حکومت طالبان مذاکرات پر بڑے ذمے دار افراد بہت ہی غیر ذمے دار بیانات اور خیالات پھیلا رہے ہیں۔ عوام کو ایک اور صرف ایک گروہ یعنی طالبان سامنے لائے جا رہے ہیں۔ قوم کو ذہنی اور اعصابی طور پر اس حقیقت کے لیے تیار ہی نہیں کیا جاتا کہ دہشت گردی کے واقعات میں غیر طالبان افراد اور عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔ حقائق سے چشم پوشی اور عوام کو بے خبر رکھنا شدید ترین نقصان پر منتج ہوسکتا ہے۔جو خواتین و حضرات سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ صرف یہ سوچیں کہ سخت کارروائی، کہاں اور کس کے خلاف ہوگی؟ یہ گرم جنگ نہیں کہ آپ ایک دشمن فوج پر اپنی فوج سے حملہ کروائیں۔ بلکہ یہ بہت ذہین طریقہ کار کے تحت ایک گوریلا قسم کی جنگ ہے۔ جو جذباتیت اور گرم جوشی کی جگہ خاموشی، تدبر اور غیر فوجی اقدام سے جیتی جاسکتی ہے۔ ہمارے یہاں سب سے بڑی ضرورت سرکاری، کاروباری، ابلاغ عامہ اور مذہبی اداروں کی کارکردگیوں میں بہتری لانے کی ہے۔ مذاکرات مستقل مزاجی، سکون اور تدبر کے ساتھ جاری رہنے چاہئیں، جو لوگ گولی کی بات نہیں کرتے، انھی کو بندوق دے کر یہ کام سونپا جائے تاکہ وہ بیان بازی کی جگہ کچھ قربانی بھی دیں۔ جو لوگ یا جماعتیں شدید فوجی کارروائی کی باتیں کرتے ہیں، وہ ملک و قوم اور افواج کو ایک خونی دلدل میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر حلقوں؍ جماعتوں کا گزشتہ ٹریک ریکارڈ ایسا ہے، جس سے نہ صر ف وطن عزیز کو دوسرے نقصانات پہنچے بلکہ ایک شرم ناک طریقے سے وطن عزیز دولخت بھی ہوا۔
صبر، سکون، مستقل مزاجی اور اخلاص کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں۔ حملے ہوتے رہیں گے۔ نقصانات پہنچائے جاتے رہیں گے۔ تاکہ تیسری چوتھی قوتیں پوشیدہ رہیں۔ ریاست کوبہت زیادہ برد باری اور دانش مندی سے غصے اور طیش میں آئے بغیر یہ اعصاب شکن جنگ لڑنی چاہیے۔ رحمان ملک اورچوہدری نثار علی خان میں فرق ہونا چاہیے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
1,164 total views, no views today


