سوات ، ڈسٹرکٹ کورٹس‘ سبزی منڈی‘ جنرل بس سٹینڈکو شہر سے باہر منتقل کرنے کے باوجود مینگورہ شہر کے ٹریفک کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ جب تک مینگورہ شہر میں چلنے والی ایک لاکھ سے زائد رکشے ختم یا ان پر پابندی نہیں لگائی جاتی ۔ ٹریفک کا مسئلہ اسی طرح روں دواں رہے گا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت ‘ڈویژن انتظامیہ ‘ ضلعی انتظامیہ ‘تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ‘بڑے بڑے اعلانات اور دعوے کررہے ہیں کہ بہت جلد ڈسٹرکٹ کورٹس ‘سبزی منڈی‘ جنرل بس سٹینڈ کو مینگورہ شہر سے باہر منتقل کر دینگے۔ جس سے مینگورہ شہر کے ٹریفک کے مسائل میں کافی کمی آئیگی۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ڈسٹرکٹ‘ کورٹس منڈی ‘ جنرل بس سٹینڈ کے منتقلی کے باوجود بھی اگر ٹریفک کا مسئلہ حل نہ ہو ا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ جبکہ مینگورہ شہر اور آس پاس میں چلنے والے تقریباً ایک لاکھ سے زائد رکشے جنہیں اکثر کم عمر نوجوان چلاتے ہیں ۔ اگر ان پر پابندی لگائی جائے تو مینگورہ شہر کا ٹریفک خود بخود نارمل صورتحال پر آجائیگا۔ جب تک اس غیر قانونی رکشوں کے سدباب نہیں کیا جاتا ٹریفک کا مسئلہ اسی طرح رہے گا۔ مینگورہ شہر کے ریاستی دور کے سڑکیں درجنوں گاڑیوں کیلئے بنائی گئی تھی نہ کہ لاکھوں گاڑیوں کیلئے ۔ لہٰذا ذمہ دار حکام ہوش کے ناخن لے کر اس سنگین مسئلے پر خصوصی توجہ دیں۔
570 total views, no views today


