مینگورہ، کاروان سماجی تنظیم کے ایڈووکیسی افیسر حیات خان نے کہاہے کہ ان کی تنظیم صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک غیر سرکاری اورغیر منافع بخش ادارہ ہے جو 1998 سے اس علاقے میں معاشی ومعاشرتی ترقی، جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے کام کررہا ہے اورجمہوری اداروں میں خامیوں کی نشاندہی اور اس کے حل کیلئے تگ و دو میں مصروف عمل ہے ،سوات پریس کلب میں پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کاروان ایشیاء فاؤنڈیشن کے تعاؤن سے معلومات تک رسائی کا حق اورقانون ملاکنڈ ڈویژن میں نافذ کرنے کیلئے سرگرم عمل ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس علاقے میں جمہوری رویوں اور شفافیت کو فروغ ملے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی ہوجائے،انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت کا قانون 2013 برائے معلومات تک رسائی کا حق پورے صوبے میں نافذالعمل ہے لیکن بد قسمتی سے ملاکنڈ ڈویژن تاحال اس سے محروم ہے ، اس قانون کے تحت تمام شہریوں کو معلومات تک رسائی کا قانونی حق دیا گیا ہے جس کے تحت ہر شہری کو حق ہے کہ وہ کسی بھی ادارے سے معلومات قانونی طورپر حاصل کرسکے گا تاہم بد قسمتی سے اس کا اطلاق ملاکنڈ ڈویژن میں ابھی تک نہیں ہوسکا ، اس سلسلے میں ہم نے منتخب نمائندوں اور قانونی ماہرین سے مشاورتی اجلاس بھی کئے تو قانونی ماہرین اور منتخب نمائندوں کے مطابق چونکہ ملاکنڈ ڈویژن کی حیثیت پی اے ٹی اے صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقے کی ہے لہٰذہ یہاں پریہ قانون گورنر خیبر پختونخوا کی منظوری سے نافذ العمل ہوگا جس کے بعداس کا اطلاق ضلع سوات ، بونیر، شانگلہ ، دیر اور چترال پر ہوگا ، انہوں نے کہاکہ ہم گورنرخیبر پختونخوا سے اپیل کرتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو ان کے بنیادی اور جمہوری حق سے مزیدمحروم نہ رکھا جائے بلکہ معلومات تک رسائی کا حق انہیں بھی دیا جائے اورپہلے سے نافذالعمل خیبر پختونخوا حکومت کا معلومات تک رسائی کا قانونی حق 2013 ملاکنڈ ڈویژن نافذ کیا جائے ،اس موقع پرشکیل احمد،ناصرخان،سیدجمال شاہ اورتنظیم کے دیگرعہدیداربھی ان کے ہمراہ تھے۔
798 total views, no views today


