جس دن فلپ ہیوز کو مہلک حادثہ پیش آیا، اس وقت میں ایک انگریزی کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس میں ایک اصطلاح استعمال کی گئی تھی “Egg shell skull” جس کا مطلب ایسی انسانی کھوپڑی تھا جو انڈے کے چھلکے کی مانند نرم و نازک ہو۔ ایسی کھوپڑی کے حامل انسان کو سر میں جہاں بھی چوٹ پڑے، اُس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں کو مختلف قسم کی احتیاطی تدابیر اپنانا پڑتی ہیں، مگر فلپ ہیوز کی موت اس وجہ سے واقع نہیں ہوئی کہ اُس کی کھوپڑی ’’ایک شیل‘‘ تھی۔ وہ عام انسانوں کی طرح تھے مگر جس پوائنٹ پر اُس کو شان ایبٹ کی گیند لگی تھی، وہ پوائنٹ کسی کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوسکتا تھا۔ کان کے عقب میں بہ ظاہر وہ ہڈی بہت سخت دکھائی دیتی ہے، مگر یہاں پر لگی چوٹ بہ راہ راست دماغ کے حفاظتی سسٹم کو نقصان پہنچاتی ہے۔
1952ء کی ایک دوپہر کا واقعہ ہے۔ ہم افسر آباد مسجد کے قریب ایک کھلی جگہ پر اپنے مخصوص ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ ہمارے ساتھیوں میں یہ بات مشترک تھی کہ ہم ایک دوسرے کو گالیاں نہیں دیتے تھے بلکہ دوسرے محلہ جات کے لڑکوں یا ہم جماعت طلبہ کو بھی گالیاں نہیں دیتے تھے۔ میرے بھائی جو مجھ سے کوئی تین سال بڑے تھے اور تقریباً بارہ سال کے تھے، جسمانی لحاظ سے مضبوط اور طاقت ور تھے۔ وہ بھی میرے ساتھ تھے۔ اتنے میں قریبی محلے سے تقریباً اتنی ہی عمر کا ایک لڑکا وہاں پر آگیا اور ہمارے ساتھ کھیلنے کی خواہش ظاہر کی۔ ہم نے کہا کہ بھائی ٹھیک ہے مگر ایک بات کا خیال رکھیں کہ گالیاں مت نکالنا۔ اُس نے کہا ٹھیک ہے۔ کچھ دیر تو وہ ٹھیک طریقہ سے کھیلتا رہا مگر جلد ہی اپنی اصلیت پر آگیا۔ کبھی ایک لڑکے کو گالی دیتا، کبھی دوسرے سے اُلجھ جاتا۔ پھر اُس کی جو شامت آئی، تو اُس نے میرے بھائی کو گالی دی اور بھاگنے لگا۔ بھائی نے ایک پتھر اُٹھایا اور پیچھے کی طرف سے اس کو دے مارا۔ پتھر گولی کی طرح اس کی کھوپڑی پر کان کے پچھلے حصے میں جا لگا اور وہ منھ کے بل گر پڑا اور بے حس و حرکت ہوگیا۔ سب لڑکے یہ سمجھ کر بھا گ گئے کہ وہ مرگیا ہے۔ ہم دونوں بھائی اکیلے رہ گئے۔ پھر قریبی حویلیوں سے ملازمین آگئے۔ اس بے ہوش مگر بہ ظاہر مردہ لڑکے کو چارپائی پرڈال کر قریبی سیدو اسپتال لے گئے۔ ہم سہمے ہوئے اُن کے پیچھے چلے گئے۔ میرے بارہ سالہ بھائی مجھے اپنے پہلو سے لگائے ہوئے تھے اور میں ایک ڈرے ہوئے چوزے کی طرح کانپ رہا تھا۔ جب ڈاکٹر اس لڑکے کا معاینہ کرنے لگے، تو لمحہ کے اندر پورا اسپتال ہجوم سے بھر گیا۔ دراصل اُس لڑکے کا تعلق ’’تیلیوں‘‘ کے خاندان سے تھا۔ اس زمانہ میں سیدوشریف میں یہ سب سے با اثر لوگ تھے۔ زندگی کے ہر شعبہ پر یہ چھائے ہوئے تھے۔ سیدو بازار میں اکثر کاروبار پر ان کا قبضہ تھا۔ سرکار دربار میں بھی ان کی رسائی تھے اور اہم عہدوں پر بھی تعینات تھے۔ عدالتوں میں، پولیس میں اور اسکولوں اور اسپتالوں میں غرض ہر جگہ آپ کو ’’تیلی‘‘ نظر آتے تھے۔ اور اب اسپتال میں جدھر نظر جاتی تھی، تیلی ہی تیلی نظر آرہے تھے۔ پتہ نہیں ان لوگوں کو کیسے خبر ہوگئی تھی کہ ان کا ایک سپوت موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ وہ سب کوؤں کی طرح شور مچارہے تھے اور ہم دونوں بھائیوں کو خوں خوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ گو کہ ہم افسر آباد میں پیدا ہوئے تھے لیکن پورے سیدوشریف میں ہمارا کوئی ہم قبیلہ یا رشتہ دارنہیں تھا۔ اگر چہ میرے والد صاحب کی بہت عزت کی جاتی تھی اور مقامی لوگ اُن کے ساتھ احترام سے پیش آتے تھے لیکن اس وقت معاملہ ایک بچے کی جان کا تھا۔
میرے والد صاحب دفتر میں تھے۔ ان کو شاید کسی نے فون پر اطلاع دی تھی، تو وہ بھی دوڑتے ہوئے آئے۔ جب وہ اسپتال کے گیٹ میں داخل ہوئے، تو تیلیوں کا ہجوم اتنا بڑا تھا کہ لان اور برآمدوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ میرے والدکو دیکھتے ہی کائیں کائیں کرتے ہوئے لوگ خاموش ہوگئے۔ مجمع کائی کی طرح پھٹ گیا اور انھیں ہم تک پہنچنے کا راستہ مل گیا۔ ان کی خوب صورت آنکھوں میں غصے اور پیار کے ملے جلے تاثرات تھے اور چہرے پر تشویش۔ وہ مضروب کی چارپائی کے قریب گئے اور ڈاکٹروں سے باتیں کرنے لگے۔ اچانک کسی نے چلا کر کہا: ’’لڑکے نے آنکھیں کھول دیں۔‘‘ پھر آواز آیا: ’’لڑکا باتیں کرنے لگا۔‘‘ ہم سب کی جان میں جان آئی۔ لڑکا خود ہی اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ میرے والد صاحب کو اپنے پاس کھڑے دیکھا، تو کہنے لگا جی غلطی میری تھی۔ میں نے آپ کے بیٹے کو گالی دی اور بھاگ نکلا۔ اس نے مجھے پتھر مارا۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ اگر وہ مجھے ایسی گالی دیتا، تو میں بھی اُسے اسی طرح مارتا۔
ہم نے سکھ کا سانس لیا اور اپنے والد کے ساتھ افسر آباد واپس آگئے۔ میرے بھائی کو تھوڑی بہت ڈانٹ والد صاحب سے کھانی پڑی، مگر ہم ایک نہایت مشکل صورت حال سے بچ نکلے۔ بعد میں اُس لڑکے اور اس کے دوسرے بھائیوں کے ساتھ ہمارے بہت خوش گوار تعلقات بن گئے جو کسی نہ کسی صورت میں آج تک قایم ہیں۔
فلپ ہیوز کی حادثاتی موت نے مجھے بہت متاثر کیا تھا۔ ساتھ ہی مجھے اپنے بچپن کا یہ واقعی یاد آیا جو قارئین کرام سے شیئر کیا۔ فلپ ہیوز کے بعد ابھی حال ہی میں پیرس کے ایک میگزین پر حملہ میں صرف بارہ افراد کی ہلاکت پر اظہار یک جہتی کے لیے جوریلی ہوئی، اس میں چالیس ملکوں کے سربراہان سمیت تیس لاکھ افراد نے شرکت کی اور ہمارے ایک سو پچاس بچوں کی بہیمانہ قتل عام پر قومی رد عمل مایوس کن بلکہ نہایت شرم ناک رہا۔ اے پی ایس کے شہیدو، تمھارا غم بھولنے والانہیں۔
724 total views, no views today


