جنگلات زمین کا زیور اور حسن و جمال کا مرقع ہوتے ہیں۔ ماحول کو صاف بنانے اور انسانی صحت کے لیے بیش بہا تحفہ خداوندی ہیں اور اگر بہ نظرِ غایر دیکھا جائے، تو انھی جنگلات اور ہریالی کی وجہ سے سوات ایک دل کش و پر فضا وادی کی حیثیت سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ محکمۂ جنگلات سوات اسی حسن اور قدرتی ماحول کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے اور قایم ہے، مگر افسوس کہ اپنی ناقص اور فرسودہ منصوبہ بندی، سیاسی دباؤ اور غفلت کی وجہ سے فارسٹری کا محکمہ زبوں حالی کا شکار ہوکر کماحقہ نتایج نہیں دے رہا۔
فارسٹری کے ملازمین کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ ایجوکیشن، محکمۂ صحت، کلرکس اور دیگر محکموں کے ملازمین کی اپ گریڈیشن کردی گئی ہے۔ حالاں کہ درج بالا ادارے حکومت کے خزانے میں کوئی ریوینو نہیں دے رہے بلکہ خزانے پر بوجھ ہیں۔ جب کہ فارسٹر اور فارسٹ گارڈ جو گزشتہ بیس پچیس سالوں سے ڈیوٹی دے رہے ہیں، تاحال اسکیل سات اور نو سے آگے نہیں بڑھے۔ جب کہ یہی محکمہ ضلعی خزانے میں کروڑوں اور صوبائی خزانے میں اربوں روپے ریوینیو کی صورت میں جمع کرچکا ہے اور کررہا ہے۔ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ تحصیل کی سطح پر ان اہل کاروں کی تعداد دس بارہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ان بے چارے ملازمین کے ساتھ سوتیلے بیٹوں کا سا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کی ترقی صرف سینیارٹی کی بنیاد پر ہوتی ہے یعنی ایک میٹرک پاس ملازم کسی ایم ایس سی ڈگری ہولڈر سے پہلے پروموٹ ہوسکتا ہے۔ نہ ہی ان کی تعلیم پر انکریمنٹ دیا جاتا ہے۔ یہ فارسٹ گارڈ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔ اور ان کے ذمے دو ہزار تا پانچ ہزار ایکڑ پر محیط علاقے کی دیکھ بھال اور نگرانی کرنا ہوتی ہے۔ رات کے اندھیرے میں گاڑی اور اسلحوں سے لبریز اسمگلروں کے خلاف کارروائی کے لیے بھی جاتے ہیں۔
ان کے پاس صرف پولیس سے مسترد شدہ، پرانی کلاشن کوف ہوتی ہے۔ وہ بھی صرف پانچ میں سے ایک اہل کار کے پاس ہوتی ہے۔ سرکاری گاڑی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پولیس کے پاس ہوتا ہے۔ اس لیے کئی فارسٹ گارڈیا تو زخمی ہوجاتے ہیں یا پھر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
لکڑی عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔ تعمیرات کے لیے بھی اور بہ طور ایندھن بھی، مگر اس کے حصول کا طریقہ بہت ہی پیچیدہ بنادیا گیا ہے۔ سارے ضلع کے لیے صرف ایک ٹمبر گودام ہے۔ وہ بھی مینگورہ کے مقام پر۔ یعنی شانگلہ اور کالام جیسے دور افتادہ مقامات سے ضرورت مند گاڑیاں کرائے پر لے کر مینگورہ لکڑی لینے آئیں گے۔ آخر یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا ہر تحصیل میں ٹمبر گودام بناکر عوام کو سہولت فراہم نہیں کرسکتے؟ کم از کم ڈی ایف او صاحب کے اختیارات میں یہ کام تو آسانی سے ہوسکتا ہے۔ مجھے امید ہے اس بارے میں وہ انسانی ہم دردی کی بنیاد پر جلد ہی قدم اُٹھائیں گے۔ دوسرا طریقہ جنگل سے درختوں کے حصول کا ’’اسپیشل کوٹہ‘‘ ہے۔ اس کو بہت مشکل بنادیا گیا ہے۔ یعنی ضرورت مند کو پہلے درخواست لکھ کر ڈی ایف او صاحب کے دفتر لے جانی ہوگی، وہاں کلرک حضرات کے نخرے برداشت کرنے کے بعد صاحب سے دست خط کرواکر رینجر صاحب کے دفتر لے جانا پڑتا ہے۔ پھر وہی کلرک کبھی رینجر صاحب کا میٹنگ میں ہونا، کبھی فیلڈ میں ہونا اور درخواست گزار کا ہفتوں چکر لگانے کے بعد درخواست کا وصول کرنا اور پھر وہاں سے تحصیل دار صاحب کے درشن کرنا اور خوش قسمتی سے مل گئے، تو وہاں سے چھان بین اور کلرک حضرات کی مہربانی سے اگر دست خط وغیرہ ہوگئے، تو پھر فارسٹر صاحب اور آخر میں فارسٹ گارڈ کے پاس پہنچتی ہے۔ وہ مکان کا سروے کرتا ہے اور مطلوبہ تعداد میں لکڑی کی نشان دہی کرکے درخواست پر لکھ دیتا ہے۔ حالاں کہ دیگر آفیسرز سے فارسٹ گارڈ کے سروے کاکام پہلے ہونا چاہیے۔ وہی ضرورت مند کے حالات سے بہ خوبی واقف ہوتا ہے۔ اب جناب درخواست دوبارہ ڈی ایف او صاحب، پھر رینجر کے پاس فائنل منظوری کے لیے چکر میں آجاتی ہے۔
اکثر آخر میں زیادہ درخواستوں پر لکھ دیا جاتا ہے: ’’اسپیشل کوٹہ کی لکڑی ختم ہوچکی ہے۔ اس لیے درخواست واپس کی جاتی ہے۔‘‘ اور درخواست گزار بے چارہ طیش میں آکر پھر فارسٹر اور فارسٹ گارڈ کے ساتھ مشت و گریبان ہوجاتا ہے کہ آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا، تاکہ مہینوں ذلیل و خوار تو نہ ہوتا۔ کیوں کہ وہ اُس کے علاقے سے قریب ہوتے ہیں۔ اس لیے مجبوراً پھر وہ غیر قانونی طور پر لکڑی کاٹنے لگتے ہیں۔
قارئین کرام! آپ ہی بتائیں اس شخص کو کس نے چوری پر مجبور کیا؟کن لوگوں کی وجہ سے حکومت کے خزانے میں جانے والی خطیر رقم ضایع ہوگئی؟ وہ اگر خوش قسمتی سے پکڑا بھی گیا، تو اگر اثر و رسوخ اور کسی ممبر وغیرہ کا چہیتا ہوا، تو تین چار سو روپے جرمانہ ادا کرکے چھوٹ جائے گا۔ کیوں کہ آرڈی نینس 2002ء کے مطابق بھاری جرمانوں اور جیل جیسی سزاؤں پر کوئی عمل در آمد نہیں کیا جا رہا۔ تین سو سے لے کر اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ آج کل دو ہزار تک لیا جا رہا ہے۔ باہر کے ملکوں خاص کر اسٹریلیا میں جنگلات کے قریب رہائشیوں کے لیے فری گیس کے پلانٹ لگائے گئے ہیں۔ اس لیے جنگلات بچے رہتے ہیں۔ یہاں لوگ جلانے کے لیے قیمتی درخت کاٹ رہے ہیں جس کی وجہ سے زمین کا کٹاؤ بڑھ رہا ہے اور درجۂ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔ موسموں کا توازن بگڑ رہا ہے۔ سوات اور مردان کی گرمی ایک جیسی ہوتی جا رہی ہے۔ سرکاری نرسریاں لگانے کے لیے لوگ اپنی اراضی محکمے کو لیز پر نہیں دے رہے۔ وہی پرانا کرایہ محکمہ دے رہا ہے۔ اس لیے لوگ زمینیں عام لوگوں کو بہتر کرائے پر دے رہے ہیں اور فارسٹر اور فارسٹ گارڈ بے چارے مہینوں زمینوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اس لیے یا تو محکمہ لیز کی رقم میں اضافہ کرے یا قیمتاً نرسری کے لیے اراضی خریدے۔ کیوں کہ یہ تو مستقل بنیادوں پر قایم محکمہ ہے۔ کوئی عارضی پراجیکٹ نہیں۔ زمین کی قیمت بڑھے گی یہ الگ فایدہ ہوگا۔ یعنی آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔ اور دوسری اہم بات یہ کہ افسران اور اہل کاروں کی تعیناتی اپنے علاقوں میں مستقبل بنیادوں پر کی جائے، جہاں تعینات ہوں وہیں سے ریٹایرڈ بھی ہوں۔ اس طرح وہ علاقہ کے لوگوں کے مسائل اور زمین کے چپے چپے سے واقف ہوکر اپنے فرایض احسن طریقہ سے انجام دے سکیں گے۔ دوسرا فایدہ یہ ہوگا کہ ٹرانسفر وغیرہ کے چکر بھی نہیں ہوں گے۔ نہ ہی نیا افسر یا اہل کار آئے گا۔ نہ ہی اپنا گند دوسرے پر انے افسر یا اہل کار پر ڈالنے کا بہانہ مل سکے گا۔
مجھے امید ہے صوبائی حکومت سوات میں بالخصوص اور صوبے بھر میں بالعموم ان تمام اُمور پر توجہ دے گی۔ خداگواہ ہے کہ راقم کی کوئی اپنی ذاتی غرض اس تحریر سے نہیں ہے۔ بس یہی درد ہے کہ یہ زمین ہم سب کی ماں ہے۔ یہیں پلتے ہیں، بڑھتے ہیں، اسی سے رزق کھاتے اور اسی کی آغوش میں سوجاتے ہیں۔ ہم سادہ لوح بیٹے اسی ماں کے سر سے سبز شال کھینچ کر اُس کا سر ننگا کررہے ہیں۔ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو جو ہمارے بیٹوں ہی کے بیٹے، بیٹیاں ہوں گی، ہمارا ہی خون ہوگا، ہم انھیں کیسی زمین دیں گے اور کیا جواب دیں گے؟
مجھے امید ہے کہ محکمے کے افسران علاقے کے ایم پی ایز کے ساتھ مل کر ان مسائل کے حل کے لیے میٹنگ کریں گے اور ڈاکٹر حیدر علی صاحب سے خصوصی توجہ کا طالب ہوں۔ کیوں کہ پی ٹی آئی نے انھیں دوبارہ بھاری مینڈیٹ سے منتخب کیا ہے۔ اس لحاظ سے اُن کا مسلسل ساتواں سال بہ طور منتخب ایم پی اے جاری ہے۔ اکثر ووٹرز شکایت کرتے ہیں کہ موصوف زیادہ تر بیرونی دوروں پر ہوتے ہیں اور خال خال ہی دیدار کرواتے ہیں۔
اُمید ہے عوامی خدمات کے لیے انھوں نے جو حلف اُٹھایا تھا، ایک پختون اور غیرت مند سواتی ثابت ہونے کی خاطر اس حلف کی پاس داری کریں گے۔ ڈی ایف او صاحب سے ہماری خصوصی گزارش ہوگی کہ بہ طور ضلعی سربراہ کے اپنے ملازمین کے درج بالا مسائل کے حل کے لیے دامے، درمے، قدمے، سخنے جدوجہد کریں۔ اپنے بچوں کی طرح اُن کے مسائل کو سمجھیں عوام کو جتنا ممکن ہو، آسانیاں فراہم کرنے کی اپنے اختیار کے مطابق حتیٰ المقدور کوشش کریں۔
آج آپ کے پاس قلم ہے، اختیار ہے، زندگی کی مہلت ہے۔ یہ سب اللہ کی امانتیں ہیں اور آزمائش ہیں۔ بہت سے آفیسرز آئے اور گزر گئے۔ آج دفتر کی فائلوں اور رجسٹروں میں اُن کے دست خط اور نام باقی ہیں۔ اللہ پاک آپ کو آسانیاں بانٹنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین
704 total views, no views today


