کہتے ہیں کہ ایک اندھے اور لنگڑے کی آپس میں دوستی تھی۔ ’’ہندو دَ ھندو یار‘‘ کے مصداق نفسیاتی تقاضوں نے اس بندھن کو اور بھی مضبوط کیا ہوا تھا۔ کیوں کہ ان کا ایک دوسرے پر انحصار ضروری تھا اور دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم اس لیے تھے کہ ایک کے پاؤں ٹھیک تھے لیکن دیکھ نہیں سکتا تھا جب کہ دوسرا دیکھ سکتا تھا لیکن چل پھر نہیں سکتا تھا۔ ایک دن دونوں کو ایک دعوت کے لیے جانا پڑا۔ جانے سے پہلے دونوں نے مشورہ کیا کہ اگر باقی لوگ چاؤل کے نوالے بڑے بڑے بڑے لینے لگے، تو لنگڑا، اندھے کو مخصوص انداز سے ٹچ کرکے نوالہ ’’بڑا‘‘ کرنے کا اشارہ دے گا۔ بدقسمتی سے ہوا یوں کہ اندھے نے شروع ہی سے بڑے نوالے لے کر کھانا شروع کیا۔ لنگڑے کو جب بات اچھی نہ لگی، تو اس نے طے شدہ اشارہ اس غرض سے دیا کہ نوالا چھوٹا کیا جائے۔ نتیجتاًنوالہ اور بڑھ گیا۔ لنگڑے نے جب مزید اشارے دیئے، تو نوالے مزید بڑھنے لگے اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ اندھے کو سارے چاولوں پر قبضہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ ’’آپ لوگوں نے تو مجھ سے سارے چاول ختم کرکے رکھ دئیے۔ ہٹ جاؤ یہاں سے۔‘‘
قارئین! بس ہم بھی غلط فہمی کے اس اسٹیج پر ہیں جس پر اندھا بے چارہ پہنچ چکا تھا۔ یہ غلط فہمی ہماری کم زور تعلیم کی وجہ سے فطرت ثانیہ بن گئی ہے۔ کیوں کہ تعلیم آنکھیں دیتی ہے۔ تعلیم کے بغیر دیکھنا محال ہے۔ جس طرح اندھے نے آنکھوں کے بغیر وہ کچھ محسوس نہیں کیا جو اس کا ساتھی اسے بولنا چاہتا تھا، ٹھیک اس طرح بہ طور قوم ہم وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے جو دیکھنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ بگاڑ کا شکار ہے۔ ایک غلط ہوا چلی ہے۔ ایک ٹف مقابلہ شروع ہے۔ یہ نہیں دیکھا جارہا کہ معاشرے میں انسان کو کیا مقام حاصل ہوتاہے اور اسے زندگی کیسے گزارنی ہے؟ اپنے حقوق کا تحفظ اور دوسروں کے حقوق کا احترام کیسے کیا جائے؟ اپنے فرایض کو کیسے ادا کیا جائے اور دوسروں کو بھی اپنے فرایض ادا کرنے کی تلقین کیسے کی جائے؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی مخلوق کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ پھر اس خدمت کے عوض اسے شرف انسانیت سے نوازا ہے اور اس شرف سے نواز کر اس پر رحم کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرہ میں امن کا قیام ممکن ہوا۔ اس دھرتی میں اللہ تعالیٰ کی ہر ایک خلقت ویسے بیکار تو نہیں۔ ہر ذی روح کی خلقت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا فلسفہ رکھا ہے۔ انسان، حیوان، چرند، پرند، پودے، ہوا، پانی اور مختلف گیسز، ان چیزوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہے اور اس معاشرہ کو کامیابی تک پہنچانے میں ہر ایک کا اپنا کردار ہوتا ہے۔ جب تک مخلوقات کے حقوق کو پامال کیا جاتا رہے گا، تو یہ دنیا جہنم کا روپ دھارتی رہے گی، لیکن اگر سب کے حقوق کا احترام کیا جائے گا، تو یہ دنیا بھی جنت نظیر بن جائے گی لیکن یہ اس وقت تک جنت نظیر نہیں بن سکتی جب تک یہاں کے باسیوں میں سوچ سمجھ کی صلاحیت نہ ہو اور سوچ سمجھ کی صلاحیت تعلیم کے ذریعے ہی آتی ہے۔ کہتے ہیں کہ تعلیم کی مثال آنکھوں کی مانند ہے۔ اگر معاشرہ میں تعلیم نہ ہو، تو اس کی مثال اندھے کی ہوتی ہے۔ اور اندھے کے متعلق تو ہم کہہ چکے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ تعلیم عام ہو۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی کے زینے پر قدم نہیں رکھ سکتی جب تک وہاں تعلیم عام نہ ہو۔ یوں سمجھیے کہ تعلیم کے بغیر معاشرہ پاگل خانہ کا منظرپیش کرتا ہے۔ پاگل خانہ میں کوئی بھی پاگل محفوظ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ درد و تکلیف کے احساس سے محروم ہوتا ہے۔ بس لڑتا جھگڑتا ہے جس میں کم زور پہلے زندگی کی بازی ہار جاتا ہے اور مضبوط بھی اپنی توانائی کے بے جا استعمال کی وجہ سے اس توانائی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حقوق و فرایض کے گُر سے نابلد معاشرہ کی مثال بس اس پاگل خانہ کی سی ہوتی ہے جس میں کوئی بھی آرام سے زندگی بسر نہیں کرسکتا اور آخر کار سب اپنے برے انجام کو پہنچتے ہیں۔ جب کہ تعلیم یافتہ معاشرہ اپنے خطہ کو گلشن بنا کر اس میں پھولوں کی طرح بستا ہے۔ آج کی تعلیم یافتہ اقوام پر نظر ڈال کر یہی محسوس ہوتا ہے۔ کل کے تعلیم یافتہ معاشروں کو پڑھ کر بھی ثابت ہوتا ہے کہ جن کے ہاں تعلیم کی شرح زیادہ تھی، انھوں نے اپنے ہاں زندگی کو سہل بنایا۔ بنی نوع انسان کو چھوڑئیے، ہر ذی روح کی قدر کی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا رحم متوجہ ہوا اور یوں ایک مثالی معاشرہ وجود میں آیا۔ ہمارے معاشرتی بگاڑ میں شاید بہت سارے عوامل کار فرما ہوں لیکن مجھے سب سے زیادہ کردار تو تعلیمی کمی کی شکل میں ہی نظر آتا ہے۔ اس پر اگر ہم نے کام کیا، تو ممکن ہے کہ ہمارے بہت سارے مسائل حل ہوجائیں۔ یہ صرف میرا نہیں بلکہ ساری دنیا کے ماہرین تعلیم کا بھی عقیدہ ہے۔ یہ ہر مذہب اور ہر عقیدہ کا مطالبہ ہے کہ سب سے ضروری چیز جس سے معاشرہ ترقی کرسکتا ہو جس کے ذریعے امن آسکتا ہو، وہ تعلیم ہی ہے۔ معاشرہ میں تعلیم کا مقام جسم میں آنکھوں کے جیسا ہے۔ جسم میں آنکھیں نہ ہوں، تو برے سے برا حال ہوتا ہے اور موقع کی مناسبت سے پھر وہ اشارے سمجھ نہیں پاتا، جیسا کہ اندھے اور لنگڑے کے معاملہ میں ہوا۔
زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا ہے۔ خدا کرے کہ ہمارا یہ مسئلہ حل ہو، تو پھر ہم جنت جیسے جغرافیائی خطے کے حامل ہیں۔ صرف اسی چیز کی کمی ہے۔ دست بہ دعا ہوں کہ ہمارا یہ مسئلہ حل ہوجائے، آمین۔
762 total views, no views today


