سوات(سوات نیوز)صوبائی وزیر زراعت لائیوسٹاک فشریز اینڈ کوآپریٹیو محب اللہ خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی آبشار، برف پوش چوٹیوں، جھیل، گھنے جنگلات، خوبصورت دریا اور داف و ٹھنڈے پانی جیسے بے بہا قدرتی وسائل سے نوازا ہے اور ان ہی اوصاف کی وجہ سے ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے اکثر علاقے فش فارمنگ کیلئے نہایت ہی موزوں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینگورہ سوات میں فش فارمرز اور محکمہ فشریز کے اہلکاروں کی دو روزہ ٹریننگ ورکشاپ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے گرین سیکٹر ثناء اللہ خان اور ڈی جی فشریز خشرو کلیم، فشریز کے افسران کے علاوہ عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے افسران موجود تھے۔محب اللہ خان نے کہا کہ سابقہ ادوار میں مناسب توجہ نہ دینے کی وجہ سے مذکورہ بالا علاقوں میں ٹراؤٹ فارمنگ اور سیاحت پہلے محدود پیمانے پر ہوتی تھی لیکن موجودہ حکومت نے افادیت اور ضرورت کو مد نظر رکھ کر سیاحت اور ٹراؤٹ فارمنگ کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے کا فیصلہ کیا اور کئی ایک منصوبوں پر عمل پیرا ہوئی اور اسی وجہ سے آج ان علاقوں میں سیاحوں کی آمد و رفت میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹراؤٹ اور سیاحت کا چولی دامن کا ساتھ ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت ان دونوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دئیے ہوئے ہے، ان کی ترقی سے نہ صرف علاقے میں سیاحت کو ترقی ملے گی بلکہ مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ فش فارمنگ خصوصاً ٹراؤٹ فش کی صنعت کو ترقی دینے کیلئے کئی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم اس سلسلے میں عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے شکر گزار ہیں جو اس حوالے سے نہ صرف تعاون کر رہے ہیں بلکہ مزید تعاون کا یقین بھی دلایا ہے۔صوبائی وزیر محب اللہ خان نے ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں سے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ ورکشاپ سے حاصل مفید معلومات اور اپنی محنت و لگن سے اس صنعت کو مزید ترقی دینے میں اپنے اہم کردار ادا کریں۔آخر میں صوبائی وزیر نے ٹریننگ ورکشاپ میں حصہ لینے والے ماہی پروری و فش فارمنگ کے اہلکاروں میں اسناد تقسیم کیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1,048 total views, no views today



