چیف سلیکٹر معین خان نے طویل سوچ و بچار کے بعد میگا ایونٹ کے لیے پاکستان کے حتمی پندرہ رکنی سکواڈ کا اعلان کر ہی دیا۔ حیران کن طور پر پہلے اعلان کیے گئے تیس رکنی اسکواڈ سے باہر فاسٹ باؤلر سہیل خان کو ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کیا گیا جو پینٹنولر کپ کے دو میچوں میں دس وکٹیں لے کر چیف سلیکٹر معین خان کے آنکھ کا تارا بن گئے ہیں۔ تیس سالہ فاسٹ باؤلر سہیل خان کو اُس کے رفتار کی وجہ سے فوقیت حاصل ہوئی اور فائنل پندرہ میں جگہ پاگئے۔ محمد عرفان کی معیت میں پیس اٹیک جنید خان، احسان عادل، سہیل خان اور وہاب ریاض بھی محو سفر ہیں۔ حیران کن طور پر دوسری ٹیموں کے برعکس قومی ٹیم میں صرف ایک اسپیشلسٹ آل راؤنڈر شاہد آفریدی کے روپ میں شامل ہیں۔ اتنے بڑے ایونٹ کے لیے صرف ایک مستند آل راؤنڈر کی شمولیت یقیناًحیران کردینے والی خبر ہے۔ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ احمد شہزاد اور حارث سہیل بھی دوسری ٹیموں کو تھوڑا بہت متاثر کرسکتے ہیں۔ حارث سہیل نے بھی قوم کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی بہترین باؤلنگ سے متاثر کیا ہے لیکن آسٹریلین وکٹوں پر اُسے اپنے آپ کو منوانا کسی چیلنج سے کم نہ ہوگا۔
احمد شہزاد کو پارٹ ٹایم کردار نبھانے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اگر شعیب ملک کو اسکواڈ میں جگہ دی جاتی، تو ٹیم کو مستند بیٹسمین کے ساتھ ساتھ ایک آف بریک باؤلر بھی مل جاتا،جو بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
اب چوں کہ کھلاڑی سلیکٹ ہوچکے ہیں، تو ٹیم مینجمنٹ کو دست یاب کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے فایدہ اُٹھانا ہوگا۔ پی سی بی نے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے تیرہ سے سترہ جنوری تک کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی ٹیم 1992ء کی تاریخ دہرانے کا عزم لے کر اکیس جنوری کو نیوزی لینڈ کے لیے روانہ ہوگی، جہاں پر اکتیس جنوری اور تین فروری کو میزبان بلیک کیپس کے خلاف دو ونڈے انٹرنیشنل کھیلے گی۔ دونوں میچ ورلڈ کپ کے لیے ریہرسل ثابت ہوں گے۔
چوں کہ ورلڈ کپ کے کچھ میچ نیوزی لینڈ میں کھیلنے جانے ہیں، اس لیے یہ دو میچ گرین شرٹس کو یہاں کے حالات اور وکٹوں کے بارے میں تھوڑی بہت پرکھ دیں گے۔
چوں کہ ورلڈ کپ کے کچھ میچ نیوزی لینڈ میں کھیلنے جانے ہیں، اس لیے یہ دو میچ گرین شرٹس کو یہاں کے حالات اور وکٹوں کے بارے میں تھوڑی بہت پرکھ دیں گے۔
کیویز کے خلاف دو میچوں کی سیریز کھیلنے کے بعد پاکستانی شاہین سڈنی روانہ ہوں گے، جہاں پر ورلڈ کپ سے پہلے وارم اپ میچز کھیلے جائیں گے جس میں تیاری کا موقعہ ملے گا۔
وارم اپ میچز کھیلنے کے بعد قومی ٹیم ایڈیلیڈ روانہ ہوگی جہاں پر ورلڈ کپ مہم کا آغاز روایتی حریف بھارت کے خلاف ہائی وولٹیج میچ سے ہوگا جو پندرہ فروری بروز اتوار شیڈولڈ ہے۔ اگر ونڈے ریکارڈز کی بات کی جائے، تو اب تک کھیلے گئے ایک سو چھبیس ونڈے میچوں میں گرین شرٹس نے بہتّر جیتے ہیں اور پچاس میں بھارت سرخ رو رہا ہے، لیکن کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان نے کبھی بھارت کو نہیں ہرایا ہے۔ یقیناًقومی ٹیم اس مرتبہ تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوگی۔ ایسا کرنے کے لیے قومی کھلاڑیوں کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہوگا۔ کیوں کہ بھارتی ٹیم نے ورلڈ کپ سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف چار ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں اور اب تین ملکی سیریز کھیلے گی جس سے آسٹریلین حالات اور وکٹوں کی بھارتی ٹیم عادی ہوجائے گی، لیکن پاکستانی ٹیم ہر قسم کے حالات اور وکٹوں پر مخالف ٹیموں کے لیے ترنوالہ ثابت ہوسکتی ہے۔ 1992ء ورلڈ کپ بھی پاکستان نے آسٹریلیا میں جیتا تھا۔
چوں کہ پاکستانی ٹیم کے زیادہ تر میچز آسٹریلیا میں شیڈولڈ ہیں۔ آسٹریلیا کے زیادہ تر میدان بڑے بڑے ہیں۔ اس لیے قومی کھلاڑیوں کو رننگ بٹوین دی وکٹ پر زیادہ دھیان دینا ہوگا۔ کیوں کہ یہاں پر گیند اکثر باؤنڈری تک نہیں پہنچ پاتی اور پھر بھی بیٹسمین چار رنز دوڑ کر آسانی سے بناسکتے ہیں۔اس طرح فیلڈرز کو بھی چوکس رہنا پڑے گا اور ہر فیلڈر کو ایک سو دس فی صد پرفارمنس پیش کرنا ہوگی۔ ماضی میں بھی پاکستان نے فیلڈنگ کی وجہ سے زیادہ تر میچز ہارے ہیں۔ 2011ء ورلڈ کپ سیمی فائنل کون بھول سکتا ہے، جب قومی فیلڈروں نے سچن ٹنڈولکر کے چار کیچ ڈراپ کیے تھے، جس کی وجہ سے وہ تریاسی رنز بنانے میں کامیاب رہے تھے۔
اس طرح 2009ء کے چمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میںیونس خان نے نیوزی لینڈ بیٹسمین گرانٹ ایلیٹ کا کیچ ڈراپ کیا، تو اس نے موقعہ سے فایدہ اُٹھا کر پاکستانی اٹیک کی دھجیاں اُڑائیں اور میچ وننگ اننگز کھیلا۔ اگر قومی کھلاڑی فیلڈنگ اور فٹنس پر زیادہ توجہ دے دیں، تو امید ہے کہ ورلڈ کپ میں اچھے نتایج سامنے آئیں گے۔
جاتے جاتے قومی ٹیم کے لیے ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ’’یو کین وِن۔‘‘ اللہ حافظ۔
642 total views, no views today


