اسلام آباد، پاکستانی تاریخ میں 2014بدترین سال ثابت ہوا جب اس سے منسلک چودہ صحافی‘ ورکرز اور بلاگرز کو ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ فریڈم نیٹ ورک پاکستان کی جانب سے میڈیا‘ رحجانات پر مبنی تازہ رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ مزید درجنوں کو اغواء اور ڈرایا دھمکایا بھی گیا ۔یہ رپورٹ جو فریڈم نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
میں تفصیل کے ساتھ 2014کیلئے کئی پریشان کن رحجانات کا ناصرف جائزہ لیا گیا بلکہ 2015میں اسے درپیش چیلنجوں کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔ اس قسم کی پاکستان میں پہلی جامع کوشش ہے۔ فریدم نیٹ ورک کی تازہ سالانہ رپورٹ نومضامین پر مشتمل ہے۔ جن میں میڈیا کو درپیش سیکورٹی‘ اخلاقیات وساکھ ‘ صحافیوں کے قاتلوں کو سزائیں نہ دلوانے اور میڈیا قوانین میں ترامیم کی ضرورت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مستقبل میں پاکستان میڈیا کو درپیش پراویسی کے تحفظ‘ ڈیجٹل آزادیوں‘ سوشل میڈیا‘ ریٹنگز اور شہری صحافت کے بارے میں ممکنہ خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینلوں پر گزشتہ برس غیر متوازن کوریج‘ کھل کر سیاسی جماعتوں کی حمایت کرنے اور اختلافات کے فقدان کی وجہ سے کڑی نتقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سال ایک مرتبہ پھر صحافیوں کیلئے جان لیوا بھی ثابت ہوا جب 14صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو جان کھونی پڑی۔ اس رپورٹ میں ان تمام موضوعات پر تجربہ کار ماہرین جن میں فعال صحافی اور میڈیا مسائل کے لئے آواز اٹھانے والے کارکن اور محقیقین بھی شامل ہیں۔ میڈیا قانون کے ماہر اور قانونی تجزیہ نگار آفتاب عالم کا اپنے مضمون میں کہنا ہے کہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں سال 2014ء میں پریشان کن پیش رفت ہوئی جب پہلی مرتبہ قانون کو استعمال میں لاتے ہوئے باضابطہ طور پر دبانے اور سنسےئر کیا گیا۔ان کا مزید کہتا تھا کہ اس سال پاکستان میڈیا اندرونی اور بیرونی حملوں سے دوچار رہا۔ فریڈم نیٹ ورک کی بطور ایک آزاد کوشش کے داغ بیل 2013میں ڈالی گئی تھی تاکہ سول سوسائٹی ‘حقوق انسانی کے کارکنوں اور میڈیا کو تحقیق‘ تجزیوں ‘ہدایت ناموں‘وسائل ‘ تعلیم وتربیت مہیا کی جا سکے تاکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض بخوبی ادا کر سکیں۔ فریڈم نیٹ ورک کے منیجنگ ڈائریکٹر اورگنزیب خان کا اس سالانہ جائزے کے بارے میں کہنا تھا کہ پاکستان کو جب بھی بین الاقوامی سطح پر آزادی اظہار کے بحث میں کئی برسوں سے مستقل طور پر صحافیوں کیلئے سب سے خطرناک ملک قرار دیا جارہا تھا۔ اس سلسلے میں حقوق انسانی کے تحفظ کیلئے کام کرنے والوں صحافیوں اور ترقی کیلئے کام کرنے والوں کیلئے خطرات کم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ یہ پیشے محفوظ قرار دےئے جاسکیں۔یہ رپورٹ اس کوشش کا حصہ ہے۔ جس کا مقصد ملک میں زیادہ مواقع قوانین کے ذریعے میڈیا اور ترقیاتی شعبوں میں کام کرنے والوں کو مناسب ماحول تیار کیا جا سکے۔ رپورٹ میں نگہت داد نے ایک مضمون میں ایک دوسرے پریشان کن رحجان کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے۔ ان کا لکھنا ہے کہ تمام سابق حکومتوں نے پاکستان میں انٹرنیٹ کو پس کردہ رہتے ہوئے کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ لیکن موجودہ نواز شریف حکومت اس بابت مختلف ہے۔ اپنے گزشتہ 18ماہ میں نواز حکومت پارلیمان کے اندر اور میڈیا میں دہشت گردی پر قابو پانے اور مذہب کے تحفظ کیلئے سوشل میڈیا کو سنسینئر کرنے کیلئے سخت اقدامات کی حامی رہی ہے۔ ایک دوسرے مضمون میں میڈیا پر تحقیق کرنے والے فائزہ جمیل شہری صحافت کی بابت لکھتی ہیں کہ عملی طور پر سال 2014ء میں پاکستان میں بلاکنگ اور شہری صحافت کے متوازی کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے جس سے معلومات کے موجودہ نظام میں احتساب کا عنصر شامل ہوا ہے۔ رپورٹ میں اورنگزیب خان نے ذرائع ابلاغ پر حملوں‘اقبال خٹک نے صحافیوں کے قاتلوں کو سزائیں دلوانے میں ناکامی‘ عدنان رحمت نے تحفظ کیلئے روڈ میپ‘ ہارون رشید نے میڈیا ایتھکس اور ساتھ سے متعلق بات کی ہے۔ آفتاب عالم نے متروک میڈیا قوانین ‘ نگہت داد نے ڈیجٹل آزادیوں ‘ صدف خان نے سوشل میڈیا‘ اسد بیگ نے میڈیا ریٹنگز اور فائزہ جمیل نے شہری صحافت پر تفصیلی نظر ڈالی ہے۔
401 total views, no views today


