موسم انگڑائیاں لے کر بدلنے کے موڈ میں ہے ‘ خزاں رسیدہ چمن میں پھولوں کی رت بس آنے والی ہے۔ فضاؤں میں خودکش حملوں‘ دھماکوں سے امن کاراج ہونے کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں انسانی اعضاء بکھر رہے ہیں بارود میں خون کی بو دل دھلادینے اورنازک احساسات کو کرچی کرچی کرنے کے درپے ہیں ‘ چاروں اطراف ایک دھندکی سی کیفیت طاری ہے۔ کوئی لمحہ‘ ساعت چین سے سانس نہیں لینے دیتا۔ ایسے میں پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کا سب سے بڑے واقعہ پشاور میں ہوا، آرمی پبلک اسکول میں پڑھنے والے 132 بیٹے ماؤں سے چھین لیے گئے، عملے کے 9 ارکان بھی شہید اور 124زخمی ہوئے، اس سانحے پر پوری قوم غم سے نڈھال ہے،دہشت گردی کے خلاف جاری پاک فوج کے آپریشن ضرب شروع ہونے کے بعد دہشت گردوں نے آگ و خون کی ہولی کے لیے اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا واقعے میں124 افراد زخمی ہوئے جبکہ اسٹاف ممبران سمیت 960 بچوں کو بچالیا گیا، ہولناک واقعے پر ملک بھر میں عوام خوف زدہ تھی،زندگی چپ ہے اور فضا سوگوار ہے پھولوں ‘ موسموں کی باتیں انجانی سی لگتی ہے۔ ناامیدی کی گہری گھٹاٹوپ رات سب کچھ نگلنے کو اژدھے کی طرح منہ پھیلائے کھڑی ہے۔ مادہ پرستی کے خول چڑھائے۔ مختلف بہروپ سجائے چہرے ہیں جسکا زور وہ بادشاہ‘ جس پر کسی کا بس نہیں وہ غلاموں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہے معاشرہ امتیازی رویوں کا حسین شاہکار بن چکا ہے۔ سچ بات تویہ ہے کہ نچلے طبقے کو تیسرے درجے کے شہری کے حقوق بھی میسر نہیں ۔ اعداد وشمار کے گورکھ دھندوں میں خام خیالی کے گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں ‘ غریب ‘ غریب سے بھی بدتر ہورہاہے۔ اس وقت جو صورتحال بنی ہے اس میں زیر دست طبقے کو مصائب مشکلات کا سامنا ہے۔ اور سرکاری راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے دکھارہا ہے۔ من حیثیت القوم ہم مکمل طورپر ایک مخصوص طبقے کے زیراثر ہوکر اپنی افادیت کھوچکے ہیں۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ جس روشن کل کی نوید سنائی جارہی ہے اسکا دور دور تک کوئی اتہ پتہ موجود نہیں نصف صدی سے لوریاں ‘ دلاسے امیدیں اور سبز باغ دکھاکر کئی حکمران آئے اور رزق خاک ہوگئے لیکن عوام کی زندگی میں وہ روشن کل نہیں آیا۔ حالات اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ مصیبتوں کی گھڑی یونہی برقرار رہیگی عوام مہنگائی‘ بدامنی اور دیگر لاتعداد مسائل کے ہاتھوں پستے رہیں گے حاکم اورمحکوم کا کھیل اسی طرح جاری رہیگا۔ بالا دست زیر دستوں پر نت نئے تجربات جاری رکھیں گے اور وہی مخصوص طبقہ زندگی کی آسائشوں کے مزے لوٹتا رہیگا۔ اور عام آدمی دردوکرب کی تصویر بناسلگتی ہوئی زندگی گزارنے پر مجبور رہیگا اوریہی وہ نکتہ جسکو سمجھنے کی ضرورت ہے جب تک عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی نہیں آئیگی ‘ یونہی افراتفری کا سماں رہیگا۔
تبدیلی کے دعویداروں کواپنی ذات سے ہٹ کرعام آدمی کے مسائل پرتوجہ دینی چاہئے تاکہ پاکستان کاعام شہری بھی دوسروں کی طرح پاکستان کی ترقی وخوشحالی میں اپناحصہ ڈال سکے بصورت دیگرمعاشرے کااقتصادی ومعاشی نظام درہم برہم ہوجائے گاتاہم عوام الناس کابھی اولین فریضہ ہے کہ ملک کی ترقی وبقاء کیلئے حتیٰ الوسع کوشش کرے اسی طرح منظم اورمستحکم پاکستان کاخواب تعبیرمیں بدلاجاسکتاہے ۔
756 total views, no views today


