سوات (سوات نیوز)صوبائی وزیر شوکت علی یوسفزی نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف سوات شانگلہ کیمپس کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کیلیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا ئے جا رہے ہیں جس سے علاقے میں اعلی تعلیم کے مذید مواقع میسر ہونگے اور لوگوں کو روزگار بھی ملے گا ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز یونیورسٹی آف سوات کے رجسٹرار محبوب الرحمن سے اپنے دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر محبوب الرحمن نے انکو شانگلہ کیمپس کے حوالے سے تفصیلی برینفگ دی انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد جمال خان کے کوششوں اور دلچسپی کے وجہ سے شانگلہ کیمپس نے قلیل عرصے میں اہم مقام بنادیا ہے اور آج صوبے کے مختلف اضلاع سے طلباء و طالبات شانگلہ کیمپس میں اعلی تعلیم حاصل کررہے ہیں اسکے لئے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے شوکت علی یوسفزی نے کہا کہ وزیر اعلی محمود خان کی خصوصی کوششوں سے شانگلہ جیسے پسماندہ علاقے میں یونیورسیٹی کیمپس کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلیے تمام تر وسائل بروئے کا ر لا رہی ہے تاکہ ان علاقوں کو ترقیافتہ اضلاع کے صف میں کھڑا کیا جاسکیں انہوں نے کہ یونیورسٹی سمیت شانگلہ میں اربوں روپے کی لاگت سے ترقیاتی کام جاری ہے جس سیاحت کے فروغ کیلیے پر فضاء مقامات پر روڈز کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ شانگلہ یونیورسٹی کیمپس کیلیے ہنگامی بنیادوں ہر کام جاری ہے اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب شانگلہ یونیورسٹی کیمپس کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جایئگا جس سے علاقے میں ایک طرف اعلی تعلیم کے مواقع میسر ہونگے تو دوسری طرف یہاں کے عوام کو روزگار بھی میسر ہوجایئگا
901 total views, no views today



