قارئین کرام! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ خوب صورتی کے لحاظ سے سوات جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔ قدرت نے اس خطہ کو حسن و دل کشی اور رعنائی و زیبائی بخشی ہے۔ یہاں کی فضا، برف پوش چوٹیاں، گنگنا تے آب شار، پُرشور دریا اور گل لالہ کی اس مہکتی وادی کا ہر رنگ اتنا دل پزیر ہے کہ یہاں آنے والا ہر شخص اس کے ملکوتی حسن کا گرویدہ ہوجاتا ہے،لیکن گزشتہ کئی سالوں سے یہاں کی سڑکوں نے کھنڈرات کی شکل اختیارکررکھی ہے جس کی وجہ سے جو سیاح یہاں آتے ہیں، انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چلیے آج آپ کوسوات میں سیاحت کے لیے مشہور جگہوں کی سڑکوں کی سیر کراتا ہو ں۔ سب سے پہلے مرغ زار کا سفید محل جسے میاں گل عبد الودود نے 1941ء میں تعمیر کیا تھا۔ یہ سطح سمندر سے سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے جسے دیکھنے کے لیے ہرسال ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں، لیکن ایک بار آتے ہیں اور دوبارہ مشکل سے ہی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔کیوں کہ یہاں کی سڑک بہت خراب ہے۔ اسلام آبادسے آئے ہوئے سیاح جمشید کا کہنا تھا کہ ’’میں فیملی کے ساتھ آیا ہو ں لیکن مرغ زار روڈ کی حالت بہت خراب ہے۔ منٹوں کا راستہ گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔ ہم لوگ تو یہاں کے خوش گوار ماحول کا لطف اٹھانے آتے ہیں لیکن یہاں آکر بہت پریشان ہو جاتے ہیں۔‘‘
حکومتیں آئیں اور گئیں، اس سڑک کی تعمیر کے حوالہ سے فیصلے ہوئے لیکن وہ صرف کاغذات تک ہی محدودرہے۔
ملم جبہ کے حوالہ سے سب کو معلوم ہے کہ یہ ایک ٹوورسٹ ریزارٹ ہے۔ یہ سطح سمندر سے دس ہزار نوسو فٹ کی بلندی پر واقع ہے، جہاں سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔یہاں برف باری کے موسم میں ’’اسکی‘‘ کے مقابلے بھی ہو تے ہیں لیکن اس کی سڑک کا ذکر بالکل نہ کریں۔ حال ہی میں ملم جبہ کی روڈ اور 2008ء میں تباہ ہو نے والے پی ٹی ڈی سی ہو ٹل کی تعمیر کے لیے فنڈ منظور ہوا ہے لیکن تاحال اس پر کام شروع نہیں کیا جاسکا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے عوام اور سیاحوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنی کاغذی کارروائی کو عملی جامہ پہنائے، تا کہ سیاحت کو فروغ مل سکے۔
ہمارے وزیر اعظم نے بھی یہاں پر الیکشن کے دنوں میں سواتی عوام کے ساتھ سنگوٹہ میں ایک وعدہ کیا تھا کہ پشاور سے کالام تک ایکسپریس وے بنایا جائے گا لیکن وہ وعدہ ہنوز وعدہ ہی ہے،
کچھ عرصہ پہلے اس روڈ کی خرابی کی وجہ سے ایک ٹرک گر گیا تھا جس میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہو ئے تھے اور دیگر کئی زخمی بھی ہوئے تھے لیکن حکومت کی طرف سے صرف اظہار افسوس پر ہی اکتفا کیا گیا تھا۔
حکومت کو چاہیے کہ اپنی کاغذی کارروائیوں کو عملی جامہ پہنائے اور ان سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دے تاکہ یہاں کے عوام کی مشکلات میں کمی آسکے اور ساتھ ساتھ یہاں کی سیاحت کو بھی فروغ مل سکے۔
قارئین کرام! آخر میں اس شعر کے ساتھ اجازت لینا چاہوں گا کہ
ہر طنز کیا جائے ہر طعنہ دیا جائے
کچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں نہ رہا جائے
تاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہی پیغام
حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے
*۔۔۔*۔۔۔*
732 total views, no views today


