سولہ دسمبر2014ء کی صبح جب ٹیلی ویژن آن کیا، تو سب نیوز چینلوں پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوگیا ہے اور شدید فایرنگ جاری ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا توں توں معصوم بچوں کی شہادت کی خبریں آتی رہیں۔ ظالموں نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک سو تیس معصوم طلبہ سمیت ایک سو چوالیس افراد کو شہید کیا۔ اس درد ناک واقعہ نے ملک بھر اور پوری دنیا میں لوگوں کو انتہائی غم زدہ کیا۔ پوری دنیا نے اس کی پر زور مذمت کی کہ اگر کسی کے ساتھ آپ کی دشمنی ہے بھی، تواس کا بدلہ آپ معصوم جانوں سے کیوں لے رہے ہیں؟ حملہ آوروں نے اُن کو ایسی بے دردی کے ساتھ قتل کیا کہ بہ حیثیت انسان ہر مذ ہب سے تعلق رکھنے والے افراد اس پر رونے لگے۔ اس دردناک واقعہ کے بعد حکومت پاکستان نے پورے ملک میں پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں کو بند کر دیا۔ ایک ماہ بعد پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھل گئے جب کہ سرکاری تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں۔ یہاں ایک سوال سر اٹھاتا ہے کہ کیا تعلیمی اداروں کی بندش سے ہم نے یہ ثابت نہیں کیا کہ دہشت گرد جیت گئے اور پاکستانی قوم اور حکومت ہار گئی؟ کیوں کہ حکومت نے دہشت گردوں کے سامنے اپنی کم زوری ظاہر کر دی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس حملہ کے بعد حکومت اسکولوں کو بند نہ کرتی بلکہ تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کا اعلان کرتی، لیکن افسوس نااہلی کی انتہا دیکھیے کہ ایسا نہ کیا گیا۔ خیر، یہ تو ہو گیا لیکن قارئین کرام، وفاقی حکومت سے ہماری صوبائی حکومت اس معاملہ میں دو قدم آگے نکلی۔ وہ یوں کہ صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے پریس کانفرس میں کہا کہ اساتذہ اپنی سیکورٹی کے لیے خود اپنے ساتھ اسلحہ رکھیں گے اور دہشت گرد حملہ میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کے آنے تک وہ حملہ آوروں کا مقابلہ ’’فرمائیں‘‘ گے۔ ملاحظہ فرمائیے، مقابلہ اور وہ بھی ان لوگوں کا جن کے حملہ سے پاکستانی فوج کاہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو تک محفوظ نہیں۔جن کے حملوں سے ملک کے دیگر اہم مقامات محفوظ نہیں۔ سیکورٹی ادارے ان حملہ آوروں کا عرصۂ دراز سے مقابلہ کرتے چلے آ رہے ہیں، جس میں سیکورٹی اہل کاروں سمیت ہزاروں عام افراد نے جام شہادت نوش کیا ہے، لیکن جہاں تک صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ کہ اساتذہ اب طلبہ کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنی سیکورٹی کا انتظام خود کریں گے، تو یہ ایک مضحکہ خیز اقدام ہے۔ کیوں کہ اساتذہ کا کام بچوں کو پڑھانا ہے، سیکورٹی فراہم کرنا نہیں۔ اس فیصلہ کی وجہ سے اساتذہ میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جب اپنے ساتھ اسلحہ لے کر اسکولوں میں جائیں گے، تو اس عمل کا بچوں کے معصوم ذہنوں پر کیا اثر مرتب ہوگا؟ اس کی وجہ سے بچوں میں ہر وقت ’’نامعلوم‘‘ حملہ آوروں کا خوف ہوگا اور وہ ٹھیک طرح سے اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اساتذہ اور خاص کر خواتین اساتذہ اپنی سیکورٹی خود کریں گی، تو پھر پولیس اوربھانت بھانت کے یہ سیکورٹی ادارے کس کام کے لیے ہیں؟ ان سے تو اب تک سوات میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان نہیں پکڑے گئے اور انھیں ’’نامعلوم کھاتہ‘‘ میں ڈال کر بری الذمہ ہوگئے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عوام کو بھی اپنی سیکورٹی خود ہی کرنے دی جائے۔
قارئین کرام! دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ اس ملک میں اربوں روپے کا فنڈ کھانے والے پولیس اور باقی ’’سیکورٹی ادارے‘‘ کس مرض کی دوا ہیں؟ پھر تو ان میں بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ’’افسران‘‘ کو گھر بھیج دیا جائے اور مملکت خداداد کے ہر شہری کو کہا جائے کہ اپنی حفاظت کے آپ خود ذمہ دار ہیں اور اپنی سیکورٹی کا خود بندوبست کریں۔ شرم کی حد ہوگئی کہ خواتین اساتذہ کوبھی اپنی سیکورٹی کے لیے اسلحہ تھمایا جا رہا ہے۔ کیا یہ اقدام ہماری حکومت، پولیس اورتمام تر سیکورٹی اداروں کی نا اہلی کا منھ بولتا ثبوت نہیں ہے؟
قارئین کرام! عرض یہ کرنا چاہتا ہو ں کہ آپ سب کو پتا ہوگا کہ اسکولوں، سرکاری اداروں اور عام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت وقت کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ حکومت اس بات کی پابند ہے کہ اپنے اداروں اور شہریوں کو حفاظت دے گی، لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ حکومت وقت اپنی ذمہ داری اُٹھانے کو تیا ر نہیں ہے۔ اپنے حصہ کا کام بھی عام عوام سے کروانا چاہتی ہے۔ تعلیم عا م کرنے کی دعویدارصوبائی حکومت کے اس غیر دانش مندانہ فیصلہ سے تعلیم عام ہونے کی بجائے الٹا نقصان کا احتمال ہے۔ اساتذہ سے لے کر طلبہ کے والدین تک سب میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اب تو والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے بھی ڈرتے ہیں۔
میرے تو یہ سوچ کر آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کہ اب اساتذہ بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی سیکورٹی کے فرایض بھی انجام دیں گے۔ کتنا برا لگے گا کہ معمار قوم کے ایک ہاتھ میں قلم ہوگا اور دوسرے میں پستول۔ طلبہ کس ہاتھ کو دیکھ کر پروان چڑھیں گے، قلم والے ہاتھ کو دیکھ کر یا پھر پستول والے ہاتھ کو۔
بلاشبہ سیکورٹی فراہم کرنا حکومت وقت، ہماری پولیس اور تمام سیکورٹی اداروں کی یکساں ذمہ داری ہے۔ حکومت بڑے فخر سے میڈیا میں تشہیر کر رہی ہے کہ وہ پولیس لاینوں میں خواتین اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی ٹریننگ دے رہی ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ مہذب دنیا میں ہمارا کیا تمسخر اڑایا جا رہا ہے؟ جہاں تک میری ناقص رائے کا تعلق ہے، تو میں اسے موجودہ حکومت کا شرم ناک اقدام گردانتا ہوں۔ کیوں کہ اس سے بچوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ ٰیہی نا کہ اُن کے اساتذہ اب اپنے ساتھ اسلحہ لائیں گے اور بچے ان سے متاثر ہوکر اپنے لیے اچھے سے اچھے اسلحہ کا بندوبست کریں۔ کیوں کہ بچے تو اپنے اساتذہ اور بڑوں سے ہی اثر لیتے ہیں۔
کیا ہی اچھا ہوگا کہ بستہ کے ساتھ ساتھ اب طلبہ و طالبات کے کاندھوں سے اسلحہ بھی لٹکتا ہوا دکھائی دے گا۔
’’خدایہ! دا کم دور تہ پاتے شو۔‘‘
Back to Conversion Tool
876 total views, no views today


