پشتو محاورہ کا مفہوم ہے کہ مردہ ہنستا نہیں، ہنسے تو کفن پھاڑ کے ہنستا ہے۔ صوبائی حکومت تو اقتدار کے روز اول سے آج تک دھرنوں کی وجہ سے عضو معطل بنی رہی۔ اس کے وجود کا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔ اب قدرے سکون ملا، تو انگڑائی لے کر کام کرنے کا آغاز کردیا مگر بعض منصوبے تو ایسے ہیں جن کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ’’ہم پہ احسان جو نہ کرتے تو یہ احسان ہوتا۔‘‘ ایسے ہی سکھا شاہی منصوبوں میں سے ایک ’’سوات ہاؤسنگ سوسایٹی ‘‘ ہے، جس کے بہ ظاہر کرتا دھرتا تو حلقہ پی کے بیاسی کے ایم پی اے امجد علی ہیں مگر اس منصوبہ کی پشت پر کسی بڑے ’’مافیا‘‘ کا ہاتھ لگتا ہے۔ کیوں کہ موصوف کے ذاتی پس منظر اور تجربہ کو اگر مد نظر رکھا جائے، تو اس کام کے لیے مطلوبہ تجربہ اُن کے پاس نہیں ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ صوبائی حکومت امجد علی صاحب کو ہاؤسنگ کی بجائے صحت کے محکمہ کا قلم دان سونپتی جو اُن کا اصل فیلڈ ہے اور اس میں محیر العقول کامیابی حاصل کرسکتے تھے۔ مذکورہ سکھا شاہی منصوبہ کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ ہر لحاظ سے قطعی طور پر غیر موزوں ہے، چاہے سیکورٹی کا مسئلہ ہو، مواصلاتی نظام خصوصاً سڑک کی صورت حال ہو اور سب سے بڑھ کر اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ اُس زمین سے سیکڑوں لوگوں کی زندگی وابستہ ہے۔ ان میں زمین کے مالکان کے علاوہ، مزدور، ٹرانسپورٹر، آڑھتی اور اُن سے متعلق کئی خاندان اسی زمین پر واقع باغات سے روزی کھا رہے ہیں۔ لینڈ مافیا نے تو پہلے ہی سوات کی محدود آبی زمین کو تباہ و برباد کردیا ہے اور زرعی پیداوار تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں بریکوٹ اور غالیگے کے درمیان تین کلومیٹر لمبائی میں پھلوں کے باغات مارکیٹوں میں تبدیل ہوگئے۔ مالکانِ زمین زیادہ نقد رقم ملنے کے لالچ میں آگئے۔ جو پیسہ ہاتھ آیا اُسے بریکوٹ میں بلند و بالا پلازے اور رہایشی محلات پر لگا دیا۔
ملکی دم کی زمین پر مجوزہ منصوبہ تیار کرنے سے پہلے حکومت کو عموماً اور امجد صاحب کو خصوصاً مالکانِ جائیداد کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ دوسری اہم بات زمین کی قیمت کے تعین کے بارے میں ہے۔ یہاں پر زمین اتنی مہنگی ہے کہ اس کی مروجہ قیمت ادا کرنے کا صوبہ کی غریب حکومت تصور بھی نہیں کرسکتی جتنا رقبہ اس منصوبہ کے لیے درکار ہے، ایک محتاط اندازہ کے مطابق اس کی قیمت کم از کم تین ہزار کروڑ یعنی تیس ارب روپیہ بنتی ہے۔ پھر اس کے ڈیولپمنٹ اور انفرا اسٹرکچر کے لیے مزید دس ارب روپیہ کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس طرح یہ منصوبہ ایک سفید ہاتھی کی شکل اختیار کرے گا۔ اگر کچھ لوگ ذاتی مفاد کے لیے اس منصوبہ کے روبہ عمل ہونے کے درپے ہیں، تو انھیں اس کے لیے کسی ایسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے جو اتنی زر خیز اور قیمتی نہ ہو۔ اگر امجد علی صاحب کو یہ منصوبہ اتنا ہی عزیز ہے، تو کیوں نہ اس کو اپنے علاقہ شموزئ یا ڈَڈَہرہ منتقل کرلیتے۔ اس کے لیے باڑے بابا، رانگیلہ وغیرہ کا درہ بھی موزوں ہے۔ جہاں کی زمین نہ اتنی قیمتی ہے اور نہ اتنی زر خیز۔ مزید برآں جس نام نہاد قیمت پر حکومت یہ زمین خریدنا چاہتی ہے، وہ بھی ایک متنازعہ امر ہے اور اس کی وجہ سے طویل مقدمہ بازی چل سکتی ہے۔ اگر اس منصوبہ کے اعلان سے پہلے موصوف مقامی مالکان کو اعتماد میں لیتے، تو ممکن ہے یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوجاتا۔
ایک اور بات اس جگہ پر کیڈٹ کالج کے لیے جو زمین حاصل کی گئی ہے، کیوں نہ یہ منصوبہ وہاں پر منتقل کیا جائے۔ امجد علی صاحب کو یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ جلد یا بدیر نئے سرے سے حلقہ بندیاں ہونی ہیں اور ممکن ہے کہ یہ علاقہ پی کے اکیاسی سے بیاسی میں شامل ہوجائے۔ تو اس علاقہ کے با اثر افراد سے اچھے مراسم ہی امجد علی خان صاحب کے لیے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارا تو ذاتی طور پر اس علاقہ سے کوئی مفاد وابستہ نہیں مگر عوامی نقصان کی نشان دہی اپنا فرض سمجھتے ہوئے متعلقہ حکام سے اور امجد صاحب سے دست بستہ عرض ہے کہ اس منصوبہ کو ترک کردیں اور قومی مفاد کا کوئی بڑا میگا پراجیکٹ شروع کروادیں۔ مثلاً کوٹہ موسیٰ خیل میں ڈگری کالج کا قیام، یا زرہ خیلہ میں لڑکیوں کے لیے ڈگری کالج، دریائے سوات کے دونوں کناروں پر حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور اگر ان پشتوں کے اوپر ایک شاہراہ بھی بنائی جائے، تو یہ نہ صرف سیاحتی لحاظ سے بلکہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے ہجوم کو قابو کرنے کے لیے بھی ممد و معاون ثابت ہوگی۔ ایسے منصوبہ کا کیا فایدہ جو عوام کے لیے زحمت ہو، لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا ہو یا اگر حکومت زبردستی کرے تو بے جا مقدمہ بازی کا ایک صبر آزما سلسلہ شروع ہو۔ع
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں
708 total views, no views today


