تحریر: سُہیل احمد منگورہ سوات
صوبائی حکومت کی طرف سے بائی پاس اور دیگر جگہوں پر انکروچمنٹ کے خلاف آپریشن جاری ہے جس پر عوامی حلقوں کی طرف سے جہاں ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے وہی عوام کی کثیر تعداد اس آپریشن پر خوش ہیں اور انظامیہ کو داد دے رہے ہیں، تنقید کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ہوٹلز بننے سے لیکر زمینوں کے خریدو فروخت اور انتقالات تک انتظامیہ اور حکومت خوابِ خرگوش یعنی غفلت کی نیند سو رہے تھے اور اب اچانک ان کو یاد آیا کہ دریائے سوات کا تو ستیا ناس ہوگیا ہے۔
جبکہ عوامی حلقوں سے حکومت کے اس اقدام کو پزیرائی ملنے کی وجہ یہ ہے کے دریائے سوات جہاں ایک طرف کچرے کا ڈھیر بنتا جارہا ہے تو دوسری طرف دریا کا کنارہ عام عوام خاص طور پر غریب اور مڈل کلاس آدمی کے پہنچ سے دور ہوگیا تھا اور صرف ایلیٹ کلاس لوگ ہی دریا کے ٹھنڈی ہواوؤں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
آج سے تقریباً 15 سال پہلے دریائے سوات کا کنارہ کالام سے لیکر منگورہ تک صاف سُتھرا تھا اور ہر جگہ پر ُفضا تفریحی مقامات تھے جو کہ کچھ 2010 کےسیلاب کے نذر ہو گئے تھے اور بچی کچی کثرت ہوٹلز اور ریسٹورانٹس کی عمارتوں نے پوری کردی۔
باہر سے آئے ہوئے سیاح بحرین،کالام، ملم جبہ جیسے جگہوں پر جاتے ہیں لیکن سوات کے آبائی باشندے ، مزدور یا نوکر پیشہ لوگ اتوار یا جمعہ والے دن بچوں کو لیکر نزدیک مقامات کا انتخاب کرتے ہیں اس لئے اب صوبائی حکومت کو چاہئے کہ دریائے سوات کے کنارے حفاظتی پشتیں اور ریلنگ بنائے اور ساتھ ساتھ عارضی عوامی تفریح گاہیں یا بیٹھنے کے لئے بنچز بنائے جس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ سوات کے باشندوں خاص طور پر senior citizens کو تفریح کے لئے اچھی جگہ مل جائیگی۔
1,191 total views, no views today



