وادی سوات کے سیاحتی علاقہ مر غز ار اپنے قدرتی حسن، دلکش وشاداب ،رعنائیوں ، دلفریب مناظراور مسحور کن موسم سے مالامال وادی ہے۔ یہ چار سُوں بکھرے کچے مکانات پر مشتمل ایک پہاڑی بستی بھی ہے ۔اس بستی کے افسانے پرانے زمانے سے سنتے چلے آر ہے ہیں۔ اس خطہ کا خدوخال پہاڑ کی چوٹیوں میں مرکوز ہے ۔اس خطہ میں پہاڑوں کی بہتات اور میدانی علاقے کم ہی دکھائی دیتے ہے۔مرغزار کے پہاڑوں سے یخ ہواؤں کے جھونکوں کی وجہ سے موسم گرما میں بھی موسم معتدل اورخوشگوار رہتا ہے ۔
وادی مرغزار مر حوم با دشاہ والی سوات کی ذاتی جا ئداد تھی ۔اسلئے انہوں نے اس کو وقوع اور ما حو ل سے مناسب رکھنے والا نا م مر غزار سے موسوم کیا ۔اگر چہ یہ مقام ایک دقیق تنگ وادی میں واقع ہے لیکن آس پاس کے سبزہ زار وں،لہلہاتے کھلیانوں، گنگناتی ندیوں اور چہچہاتے پر ندوں کی وجہ سے یہ وادی آنے والے سیاحوں کا دل موہ لیتی ہے۔ اس قدرتی حسن ودلر بائی وا لے مناظرکے دامن میں والی سوات نے موسم گرما کے دن بسر کرنے کے لئے سفید محل کی بنیاد ڈالی۔ اور گرمیوں میں اس کو اپنامسکن بنا لیا جس نے علاقے کے حسن کو چا ر چاند لگادئے ۔
جب موسم گرما عروج کو پہنچ جاتی ہے تو پشاور ،لاہور ،کراچی ،روالپنڈی، فیصل آباد ،پنجاب اور اسلام آباد کی شہروں کے ستا ئے ہو ئے اس وادی کا رخ کرلیتے ہیں ۔ اور یہاں کے مسحور کن ہواؤں سے اپنی تھکان بھگادیتے ہیں۔ ویسے تو وادی سوات کا ہر ٹکڑا خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، لیکن سیاح سوات کے مرکزی شہر منگورہ میں اترتے ہی وادی مرغزار کی طرف اس لئے پہل کرتے ہیں کہ یہ مرکزی شہر سے صرف چار کلومیٹر ہی کے فاصلے پر واقع ہے اور دوسری طرف شدید گرم موسم میں ہر ایک دن بریک کے بعد رم جم برستی ہے، گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے سیاح رم جم میں بھیگ جانااور ٹھنڈے پانی سے نہانا الگ عیاشی سمجھتے ہیں۔
قارئین کرام ! نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ فرزندان والی سوات نے سفید محل جیسے حسین شاہکار کو چند کوڑیوں کی خاطر ہوٹل میں تبدیل کر دیا ۔ جس کے باعث وادی سوات اپنی اس عظیم ثقافتی ورثے سے محروم ہوگئی ۔لیکن خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ والی سوات کے دور میں تعمیر کئے گئے متعدد قسم کے قیمتی پتھر وں اور سوات کے ہینڈی کرافٹس کی روایتی لباس والی دکانیں اب بھی اس سفید محل ہوٹل کے قرب و جوار میں موجود ہیں۔ جو سیاحوں کو سفید محل کے شاہکار سے محرومیت کا ازالہ کرتے ہیں۔ سیاح ان دکانوں میں رکھے ہوئے سوات کے روایتی لباس اور قیمتی پھتر کا نظارہ بھی کرتے ہیں اور اپنی پسند کی اشیاء خریدتے بھی ہیں۔ سیاح ان دیدہ زیب لباسوں کو ایک نظر دیکھتے ہیں تو اپنے رشتہ داروں کو تحفہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
ایک طرف قدرتی مناظر سے مالامال وادی کی دید سیاحوں کی مجبوری بنی ہوئی ہے ،تو دوسری طرف اس وادی کی سڑکوں کی ناگفتہ بہ صورت حال پریشانی میں مبتلا کردیتی ہیں۔ سوات کے دوسرے سیاحتی علاقوں کی طرح 2010کے تباہ کن سیلاب نے اس حسین وادی کی سڑکوں کو بھی خش و خاشاک کی طرح بہا دیا۔ بعد میں حسب معمول یہاں کے باسیوں نے اپنی مشکلات میں تھوڑی بہت ازالے کی خاطر اپنی مدد آپ کے تحت اس تباہ شدہ سڑکوں کو عارضی طور پر کئی مرتبہ تعمیر بھی کیا ۔لیکن سوات کی شدید بارشوں اور برف باری کے سامنے کچی سڑکیں بلا کہاں ٹک سکتی ہے۔ یہاں کی سڑکوں کی ابترصورت حال کے باعث کئی نا خوشگوار واقعات بھی رونماء ہوئے ۔ جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ۔ مگر چہ کنم! یہ پاکستانی سیاست کا اولین اصول ہے کہ صرف سبز باغ دکھاؤ ووٹ سمیٹوں اور کرسی پر براجمان ہوجاؤ باقی عوام کا تو اللہ ہی حافظ!
ایک طرف ہمارے حکمران سوات کی سیاحت کی تباہی کا رونا رو رہے ہیں ۔ اور سیاحت کو پروان چڑھانے کی خاطر عجیب منطقیں نکال رہے ہیں۔ میلوں ٹھیلوں پر کروڑوں ضائع کئے جاتے ہیں۔ مگر سیاحتی علاقوں کے انفراسٹکچر کا حلیہ جو بگڑا ہوا ہے۔جس پر کسی کی نظر کرم نہیں پڑتی۔۔!
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران ذرا ہوش کے ناخن لیں، میلوں ٹھیلوں پر کروڑوں ضائع کرنے کے بجائے اس رقم کو یہاں کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی پر لگادیں۔سڑکوں اور تعمیراتی کاموں کی خاطر اربوں روپے کے فنڈ مختص ہوتے ہیں لیکن’’ کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ کے مصداق سڑکوں کی صورت حال وہی کی وہی۔۔ہے!
ہماری ناقص خیالات کے مطابق اگر ہمارے حکمران تعمیراتی کاموں کے لئے مختص فنڈ کو صحیح طرح استعمال کر یں، ٹھیکداری نظام میں بہتری لائیں ،ماہر تعمیراتی ٹیموں کو تشکیل دیں۔خرد برد کرنے والے ٹھیکداروں کے خلاف سخت ترین کا روائی کریں۔ اسی طرح ہمارے سیاحتی علاقے میں مواصلاتی نظام بہتر ہوگا۔جب ہماری سیاحت کو فروغ ملے گا تو ملکی معیشیت بھی مستحکم ہوگی۔ پھر ہمیں ترقیاتی کاموں کے لئے بھی دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
704 total views, no views today


