مینگورہ (سید اقبال یوسف زئی )بھاری کٹوتیوں کے باجود خوار کیا جاتا ہے ، مرکزی دفاتر کے علاوہ مختلف علاقوں میں موبائیل دکانوں میں بائیو میٹرک کی آڑلیکر غریب عوام کو لوٹا جار ہا ہے کارڈ لوڈ اور ایزی لوڈ میں کٹوتیوں سے حکومت کو سالانہ کھربوں روپے کی آمدن ہوتی ہے لیکن عوام کی سہولیات کی بات آتی ہے تو سڑکوں کے کنارے موبائیل کمپنیوں کے دفاتر کے دروازے عوام کی رش کی وجہ سے نظر نہیں آتے اس وقت تمام ضلعی نے جتنی بھی موبائیل کمپنیوں کے دفاتر ہے عوام کے رش سے بھرے ہوئے ہیں عام کارڈوں اور ایزی لوڈوں میں جہاں بھاری کٹوتیاں ہوتی ہیں وہاں عوام کو بائیو میٹرک سسٹم گلی اور کوچوں میں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئیے لیکن اس کے باوجود کہ لوگ بھاری کٹوتیاں کروا کر موبائیل سروس استعمال کرتے ہیں وہاں پر ایسے دگنے رقوم وصول کرکے عوام کو مزید مشکل میں ڈال دیا گیا ہے بائیو میٹرک سسٹم سے جہاں حکومت کو سو فائدے ہونگے جیسے کہ فوری طور پر پتہ لگانا کہ اس وقت ملک میں کتنی موبائیل صارفین ہیں الیکشن کیلئے ڈیٹا اکھٹا کرنا اور حکومت کی مختلف پیغامات صارفین تک پہنچانے کیلئے یہ سسٹم کا رآمد ثابت ہوگا وہاں پر جرائم میں کمی اور بروقت سم کے اصل مالک تک پہنچنے میں حکومت کو کوئی مشکل نہیں ہوگی وہاں پر اس سسٹم نے عام آدمی کیلئے موبائیل کا استعمال مشکل بنا دیا ہے اگر کٹوتیوں کی مد میں کھربوں روپے وصول کئے جاسکتے ہیں تو گلیوں کوچووں میں حکومت کی جانب سے چھوٹے کمپیوٹر لگا کر بائیو میٹرک ویری فیکیشن بھی کرائی جاسکتی ہے اگر ایک کارڈ میں کٹوتی کی جاتی ہے اور ایزی لوڈ میں بھی کٹوتی ہوسکتی ہے تو عوام کو گھروں کی دہلیز پر ویری فیکیشن کی سہولت بھی دی جاسکتی ہے اس وقت ویری فیکیشن کیلئے سخت موسم کی باوجود دور درازعلاقوں کے لوگ شہروں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں جبکہ کٹوتیاں پہاڑوں میں رہنے والے صارفین سے بھی ہوتی ہے اور شہروں میں رہنے والے لوگوں سے بھی اگر کٹوتیاں ایک جیسی ہے تو سہولیات بھی دور اور نزدیک کے لوگوں کو یکسا ں فراہم کی جانی چاہئیے لیکن اس کے برعکس کسی قسم کی سہولت نہ تو دور افتادہ علاقوں میں میسر ہے اور نہ ہی شہری علاقے کے لوگوں کو سروے رپورٹ میں مختلف موبائیل کمپنیوں کی دفاتر کے باہر موجود لوگوں نے بتایا کہ ہر دفعہ نئے نئے ڈرامے ہوتے ہیں اور شامت صرف غریب عوام کی ہی آتی ہے اگر حکومت کو اتنی بڑی پیمانے پر معلومات چاہئیے تو حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہئیے کہ اس قسم کی سہولیات کیسے فراہم کی جائے کہ دور دراز کے لوگوں کو اور شہر میں دفاتر کے سامنے قطاروں میں کھڑے لوگوں کو کیسے سہولت فراہم ہوں ، لیکن کسی قسم کے ایسے اقدامات نہیں ہورہے جو ان صارفین کو سہولت دے سکے بلکہ تمام صارفین کو ایک پیچیدہ طریقہ کار میں ڈال دیا گیا ہے جس کیلئے انہیں دکھے کھانے پڑ رہے ہیں یاد رہے کہ ہجوم میں کھڑے لوگوں نے بتایا کہ تمام آبادی کے 20فیصدصارفین خواتین ہے جو نہ تو باہر قطاروں میں کھڑی رہ سکتی ہے اور نہ ہی دفاتر کے چکر لگا سکتے ہیں موبائیل کمپنیاں اور حکومت خواتین ورکرز کے مدد سے گھروں میں بائیو میٹرک سسٹم کی سہولت پہنچا کر عوام کو مزید خوار ہونے سے بچائیں ۔
676 total views, no views today


