مینگورہ(رپورٹ/ناصرعالم)سوات میں ڈاکٹروں نے معائنہ فیسوں میں اضافہ کردیا،عوام میں تشویش کی لہردوڑ گئی،حکومت سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ،سوات میں پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں نے معائنہ فیس بڑھاکر ایک ہزارروپے کردیا،اس کے علاؤہ مختلف ٹیسٹ اور بعدازاں مخصوص کمپنیوں کی ادویات لکھ کر مریضوں کی کھالیں ادھیڑی جاتی ہیں،اہل علاقہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے کروڑوں روپے کی بلڈنگ خرید کران میں ہسپتال قائم کردئے ہیں جہاں پر معائنہ سے لے کر تمام تر ٹیسٹوں کیلئے لیبارٹری اور میڈیکل سٹورموجود ہیں اگر ایک مرتبہ مریض ان ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ جائے تو اس کی کھال اتار کرہی چھوڑاجاتاہے،غربت اور بے روزگاری کی چکیوں میں پسنے والے سوات کے لوگ اتنابوجھ ہرگز برداشت نہیں کرسکتے مگرڈاکٹر ان کے کاندھوں پر مسلسل بوجھ ڈال رہے ہیں جس سے مریض صحت یاب ہونے کی بجائے دیگر امراض کاشکار ہوجاتاہے،ڈاکٹروں سے معائنہ کرانے کے لئے نمبرحاصل کرنا ان کے گیٹ پر مامور نوکروں کے نخرے برداشت کرنا ایک بڑاتکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے تاہم امراض سے نجات پانے اور صحت یاب ہونے کی امید لے کر جانے والوں کوان مراحل سے گزرنا پڑتا ہے مگر اس کے بعد اخراجات کے مراحل شروع ہوجاتے ہیں پہلے فیس کی ادائیگی اور پھر مختلف لیبارٹری ٹیسٹ،الٹراساؤنڈ،ای سی جی وغیرہ کرانے کے بعد مریض کو اس قدر مہنگی ادویات لکھی جاتی ہیں کہ اس کا حوصلہ جواب دینے لگتاہے اور وہ اپنا مرض بھول کر ذہنی پریشانی میں مبتلاہوجاتاہے،مقامی لوگوں کاکہناہے کہ ڈاکٹر دراصل مسیحاہوتا ہے مگر جب یہ مسیحا علاج کی آڑ میں مریضوں کی کھالیں ادھیڑنا شروع کریں تو وہ مسیحا نہیں لٹیرا بن جاتاہے،اگر چہ سب کو معلوم ہیں کہ سوات کے عوام کافی مشکل حالات سے گزرے ہیں اکثریتی لوگ محنت کرکے بڑی مشکل سے دو وقت کی روٹی کمالیتے ہیں ایسے میں وہ ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں ،ٹیسٹوں اور ادویات کے اخراجات ہرگز برداشت نہیں کرسکتے مگر کسی کوان کے حال پرترس نہیں آتا،مقامی حلقوں نے مطالبہ کیاہے کہ حکومت ادویات کی قیمتوں میں فوری کمی کرنے سمیت ڈاکٹروں کوایک مناسب فیس کاپابند بنائے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی واقع ہوسکے۔
877 total views, no views today



