قارئین کرام! ڈاکٹر سلطان روم صاحب ایک بہت بڑی تباہی کی پیش گوئی اپنی مختلف تحاریر ’’مینگورہ اور تجاوزات (یکم اپریل دو ہزار تیرہ)‘‘، ’’عرضِ مکرر تجاوزات (بائیس جون دو ہزار تیرہ)‘‘ اور ’’ایک اور تباہی سے بچنے کی ضرورت‘‘ میں کرچکے ہیں، مگر مجال ہے کہ یہاں کی انتظامیہ یا پھر ’’ایم پی اے‘‘ یا ’’ایم این اے‘‘ نامی مخلوق کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ اگر رینگی ہوتی، تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ پہیلیاں بجھوانے سے بہتر ہے کہ غرض کی بات کی جائے۔ در اصل پچھلے روز ڈاکٹر صاحب کی معیت میں ایوب پل پر سے گزر ہوا، جی ہاں! یہ وہی پل ہے جو پانچ سال کے مختصر ترین ’’ریکارڈ عرصہ‘‘ میں تعمیر ہوا ہے اور یہ اس وجہ سے کہ یہ دنیا کا سب سے ’’لمبا‘‘ پل جو ٹھہرا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہود و نصاریٰ ہماری دشمنی میں اس حد تک گر چکے ہیں کہ انھوں نے ہمارے اس ’’ریکارڈ‘‘ کو درخور اعتنا نہیں سمجھا اور اسے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا، ورنہ اس قبیل کے ’’ریکارڈ‘‘ شاید ہی مہذب ملکوں میں کسی کے پاس ہوں۔ کیوں نہ مقابلہ کے طور پر ہم اپنی ہی ایک کتاب مرتب کریں ’’گینز بک آف ’پاکیز‘ ریکارڈ۔‘‘
آمدم برسرِ مطلب، ایوب پل کے عین وسط میں گاڑی روک کر ہلکی پھوار میں دریاکا نظارہ کرتے ہوئے مجھے آنے والی تباہی کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے۔ قبلہ رو کھڑے ہوکر جنوباً آپ کو عین دریا کے وسط میں ایک پشتہ کی تعمیر نظر آئے گی۔ اب یہاں ذہن کی ہنڈیا میں یہ سوال کھد بد کرنے لگا کہ دریا کی بے لگام موجوں کو مذکورہ بند کون باندھ رہا ہے؟ ظاہری سی بات ہے کہ حکومت کی اجازت کے بغیر یہ کام کوئی کر ہی نہیں سکتا۔
اب حکومت کی طاقت کا اندازہ لگانا بھی چنداں مشکل کام نہیں۔اس کی تابع ضلعی انتظامیہ کی طاقت کا اندازہ ہمیں پچھلے دنوں اس وقت ہوا جب مٹھی بھر ’’رکشہ مافیا‘‘ اس کے قبضہ میں نہیں آ سکا، تو ذہن نہ چاہتے ہوئے بھی سوات میں مصروفِ عمل فرعون صفت ’’لینڈ مافیا‘‘ کی طرف گیا کہ اس بدمست ہاتھی کو بے چاری چیونٹی صفت انتظامیہ کیسے زیرِ دست لائے گی؟ ’’ایں خیال است و محال است و جنوں۔‘‘
اب یہاں محترم قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ عین دریا کے وسط میں بند باندھنے سے ’’حضرتِ راقم‘‘ کو کیا تکلیف ہے؟ تو جواب کے طور پر عرض ہے کہ پچھلے سال دریا کی طغیانی کی وجہ سے اینگرو ڈھیرئی کی وہ آبادی جو دریا کی زمین پر آباد تھی (اور تاحال آباد ہے)، ان کی حالت زار کئی علاقائی و قومی اخبارات میں چھپ چکی ہے۔ ہمارے پہنچے ہوئے اخباری رپورٹروں نے تو اس وقت دریا کی چڑھائی کو عذابِ الٰہی سے تشبیہ دیتے سمے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا لیکن کسی کو خدائے بزرگ و برتر کو دوش دیتے وقت یہ خیال چھو کے بھی نہیں گزرا تھا کہ اگر دریا کے احاطہ میں پورے کے پورے محلے تعمیر کیے جائیں گے، تو نتیجہ آبادی زیر آب آنے کی صورت میں ہی نکلے گا۔
قارئین کرام! زیرِ نظر تحریر کا مدعا ہر گز یہ نہیں ہے کہ اہلِ سوات کو یہ باور کرایا جائے کہ دریا کے احاطہ میں تعمیر کیے جانے والے گھر اللہ تعالیٰ کے عتاب یا پھر دریا کی طغیانی کا نشانہ بنتے ہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ آج جو بند دریا کے وسط میں باندھا جا رہا ہے، وہ مستقبل قریب میں تحصیل کبل کے علاقوں ہزارہ اور علیگرامہ کی زرعی زمینوں کی تباہی کا باعث بنے گا۔ اگر پل پر قبلہ رو کھڑے ہوکر صورت حال کا بہ غور جایزہ لیا جائے، تو یہ وا ضح ہو جاتا ہے کہ جنوباً قبضہ میں لی جانے والی زمینیں دریا کی ملکیت ہیں جب کہ شمالاً اہلِ علاقہ کی اپنی آبائی زرعی زمینیں ہیں۔ اگر میرے اس دعوے میں کسی کو شبہ ہو، تو پٹوار اٹھا کر دیکھ لیا جائے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔
اس طرح پل پر کھڑے ہو کر اگر رخ مشرق کی طرف پھیر دیا جائے، تو جنوباً، پل تعمیر کرتے سمے دریا میں لگ بھگ پچاس ساٹھ میٹر تک ایک بند باندھا ہوا نظر آئے گا۔ یہ اُس وقت اِس لیے باندھا گیا تھا کہ پل کے تعمیراتی کام میں جنوبی سرے کو کہیں پانی بہا کر نہ لے جائے۔ نیز یہاں پر نئے پل کی اونچائی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ٹھیک ٹھاک بھرائی کا کام بھی مقصود تھا۔ اب جب پل تعمیر ہوچکا،تو مذکورہ بند کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ بند سے کوئی دو سو میٹر نیچے عارضی طور پر بنائی گئی کچی سڑک جو اَب ایک مضبوط پشتہ کا کردار ادا کر رہی ہے، کی بھی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ اگر قبلہ رو جنوباً انسان بستے ہیں، تو شمالاً بھی انسان ہی بستے ہیں۔ اس مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک سروے کیا جائے، باقاعدہ طور پر تحقیق کی جائے۔ نتیجتاً قبلہ رو جنوباً چند لوگوں کی جیبیں گرم ہونے کا پروگرام نظر آئے گا جب کہ شمالاً اہلِ ہزارہ اور علیگرامہ کی آبائی زمینوں کے غرق ہونے کا احتمال۔ جنوباً دریا کی ملکیت اس سے چھین کر چند مخصوص افراد مکانات اور محلے تعمیر کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں جس کے نتیجہ میں مستقبل قریب میں شمالاً زرعی زمینیں زیر آب آنے کا غالب گمان ہے۔
حاصل نشست یہی ہے کہ اگر قبلہ رو جنوباً غیر قانونی طور پر پشتے تعمیر کرانے کی حکومت اجازت دیتی ہے، یہ دیکھے بنا کہ شمالاً اس سے تیس چالیس ہزار خاندانوں کے گاؤں متاثر ہوں گے، تو پھر اس کا یہی مطلب لیا جائے گا کہ ریاست، اہلِ جنوب کی سگی ماں اور اہلِ شمال کی سوتیلی ہے۔ صوبائی حکومت المعروف ’’تبدیلی والی سرکار‘‘ کو اس حساس مسئلہ کا جلد از جلد نوٹس لینا چاہیے۔ عوامی حلقے تو یہ تک کہتے ہیں کہ لینڈ مافیا کو سرکار کی سرپرستی حاصل ہے جس میں ایک عدد ایم پی اے کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ دلوں کا بھید اللہ خوب جانتا ہے۔ہم تو اس شعر کے ساتھ لمبے بنتے ہیں کہ
ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
696 total views, no views today


